لاہور چیمبر اور ٹی ڈی سی پی کے مابین سیاحت کے فروغ کیلئے مفاہمتی یادداشت پر دستخط

دنیا کو پاکستان کے انمول تاریخی و ثقافتی ورثہ سے آگاہ کرنے کی ضرورت ہے، پنجاب میں سیاحت کا سالانہ پوٹینشل تقریباََ ایک ارب ڈالر ہے جبکہ یہ شعبہ دو لاکھ سے زائد افراد کو روزگار مہیا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے

205

لاہور: لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایل سی سی آئی) اور ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن آف پنجاب (ٹی ڈی سی پی) کے مابین سیاحت کو فروغ دینے کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے جس کی رو سے دونوں ادارے سیاحت کے شعبہ کو ترقی دینے کے لیے مل کر کام کریں گے۔

لاہور چیمبر آف کامرس کے صدر میاں طارق مصباح اور ٹی ڈی سی پی کے چیئر مین بورڈ آف ڈائریکٹرز ڈاکٹر سہیل ظفر چیمہ نے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔

ایم او یو کے مطابق ٹی ڈی سی پی لاہور چیمبر میں انفارمیشن ڈیسک قائم کرے گا جو لاہور چیمبر کے اراکین کو سیاحت، ہاسپٹلٹی اور ٹی ڈی سی پی کی سروسز کے بارے میں معلومات فراہم کرے گا۔ لاہور چیمبر اور ٹی ڈی سی پی سیاحت کے فروغ کے لئے مشترکہ طور پر سیمینار، تقریبات اور کانفرنسوں کا اہتمام کریں گے۔

یہ بھی پڑھیے:

وبا سے عالمی سیاحت کو 40 کھرب ڈالر نقصان کا خدشہ

سال 2020ء میں سعودی شہریوں نے سیاحت پر 43.3 ارب ریال خرچ کیے

خلائی سیاحت کا باقاعدہ آغاز، پہلی پرواز 20 جولائی کو جیف بیزوس کو لے کر روانہ ہو گی

’عید کی چھٹیوں میں خیبرپختونخوا کے سیاحتی مقامات پر 27 لاکھ سیاحوں کی آمد، 27 ارب کا کاروبار ہوا‘

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے چیئرمین بورڈ آف ڈائریکٹرز ٹی ڈی سی پی ڈاکٹر سہیل ظفر نے کہا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پاکستان کے سیاحتی شعبے کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ سیاحتی شعبے میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے بھی بہت سارے مواقع موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ٹی ڈی سی پی وزیراعظم عمران خان کے ویژن کے مطابق سیاحت کو فروغ دینے کے لیے سرگرم عمل ہے، ٹی ڈی سی پی اب خود بزنس کرنے کے بجائے پرائیویٹ سیکٹر کو مواقع دے رہا ہے۔

ڈاکٹر سہیل ظفر نے کہا کہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد سیاحت صوبوں کی ذمہ داری ہے۔ اس شعبہ کی جانب زیادہ سے زیادہ لوگوں کو راغب کرنے کیلئے نئی سیاحتی جگہوں کو دریافت کر کے وہاں انفراسٹرکچر کو بہتر کر رہے ہیں۔

لاہور چیمبر صدر میاں طارق مصباح نے کہا کہ سیاحت کا شعبہ پاکستان کو معاشی سرگرمیوں کا مرکز بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے، یہ خوش آئند ہے کہ پنجاب حکومت اس شعبے کے فروغ کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کو پاکستان کے انمول تاریخی و ثقافتی ورثہ سے آگاہ کرنے کی ضرورت ہے، محتاط اندازوں کے مطابق پنجاب میں سیاحت کا سالانہ پوٹینشل ایک ارب ڈالر کے قریب ہے جبکہ یہ دولاکھ سے زائد افراد کو روزگار مہیا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

لاہور چیمبر کے نائب صدر طاہر منظور چودھری نے کہا کہ چیمبر نے وَن ونڈو سمارٹ سروسز‘ کے تحت مختلف ہیلپ ڈیسک قائم کیے ہیں جو ممبران کو بہت سی سروسز اور ضروری معلومات فراہم کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ لاہور چیمبر نے سرکاری اداروں کی مختلف خدمات کو ایک چھت کے نیچے لا کر منفرد مثال قائم کی ہے، ان میں ٹورزم ڈویلپمنٹ کارپوریشن آف پنجاب کے انفارمیشن ڈیسک کا بھی اضافہ ہو گیا ہے۔

کنوینر سٹینڈنگ کمیٹی محمد ہارون اروڑہ نے کہا کہ کمیٹی کے پلیٹ فارم سے جلد ہی ایک ٹورزم کانفرنس منعقد کی جائے گی۔ ٹی ڈی سی پی میں نجی شعبہ کو نمائندگی دی جائے اور اس ڈیپارٹمنٹ کے دیگر صوبوں کے متعلقہ شعبوں سے روابط بھی بڑھائے جائیں۔

او آئی سی میں پاکستان کے مستقل نمائندہ رضوان سعید شیخ نے کہا کہ اگلے سال پاکستان میں او آئی سی ٹورزم فیسٹیول منعقد کیا جائے گا جو رکن ممالک کے درمیان سیاحت کو فروغ دے گی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here