فون کال پر ٹیکس عائد، ہزار سی سی تک گاڑیوں، سونے اور چاندی پر ٹیکس میں کمی

جو لوگ ٹیکس ادا نہیں کریں گے تھرڈ پارٹی آڈٹ کی سفارش کے مطابق ان عادی ٹیکس چوروں کو باقاعدہ ایک طریقہ کار کے تحت گرفتار کیا جا سکے گا، وزیر خزانہ شوکت ترین

308

اسلام آباد: وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ 5 منٹ سے زیادہ فون کال پر 75 پیسے ٹیکس وصول کیا جائے گا، 12 قسم کے ودہولڈنگ ٹیکس ختم کر دیئے گئے ہیں، 850 سی سی گاڑی پر ٹیکس کم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا اب یہ فیصلہ 1000 سی سی پر لاگو ہو گا۔

قومی اسمبلی میں وفاقی بجٹ 22۔2021ء  پر بحث کو سمیٹتے ہوئے وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ ہماری حکمت عملی اقتصادی اور معاشی شرح نمو میں اضافہ کرنا ہے۔ اس دفعہ ہم جو ترقی کریں گے وہ پائیدار اور جامع ہو گی۔ پچھلے 74 سالوں کے دوران حکمت عملی یہ رہی ہے کہ اقتصادی ترقی کے ثمرات غریب تک نہیں پہنچے، ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم غریب کا خیال رکھیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اگر معاشی شرح نمو میں اضافہ کرنا ہے تو آمدنی کے ذرائع میں اضافہ کرنا ہو گا۔ اگلے سال کے لئے محصولات کا ہدف 5800 اب روپے مقرر کیا گیا ہے، اس کے لیے ٹیکس اصلاحات لا رہے ہیں۔ ٹیکس دہندہ اور وصول کنندہ کے درمیان الیکٹرانک لنک پیدا کر دیا ہے اور یونیورسل اسیسمنٹ سکیم متعارف کرائی گئی ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ ایف بی آر کا تھرڈ پارٹی آڈٹ ہو گا، جو لوگ ٹیکس ادا نہیں کریں گے تھرڈ پارٹی آڈٹ کی سفارش کے مطابق ان عادی ٹیکس چوروں کو باقاعدہ ایک طریقہ کار کے تحت گرفتار کیا جا سکے گا۔

یہ بھی پڑھیے:

آئندہ مالی سال کے بجٹ میں جنوبی پنجاب کیلئے 189 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز مختص

25 چیمبرز آف کامرس کا بجٹ منظوری سے قبل کاروباری برداری کے تحفظات دور کرنے کا مطالبہ

شوکت ترین کا کہنا تھا کہ ودہولڈنگ ٹیکس ایک نامناسب طریقہ تھا، بجٹ کے ذریعے 12 قسم کے ودہولڈنگ ٹیکس ختم کیے جا رہے ہیں۔ ہم نے آٹو پالیسی کے تحت پہلے 850 سی سی گاڑی پر ٹیکس کم کرنے کا فیصلہ کیا تھا اب یہ بڑھا کر 1000 سی سی کردیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ صحت کے شعبہ پر ٹیکس نہ لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اسی طرح رئیل اسٹیٹ کا ٹیکس کم کر دیا گیا ہے۔ کنسٹرکشن پیکج کے تحت انکم ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 20 فیصد کر دی گئی ہے۔

وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ آئل ریفائنریز کو حاصل ٹیکس کی چھوٹ، پی ایم آر کی چھوٹ اور مراعات دی ہیں تاکہ وہ یورو فائیو فیول بنا سکیں۔

انہوں نے کہا کہ موبائل فون اور انٹرنیٹ اور ایس ایم ایس ٹیکس نہیں ہوگا تاہم موبائل فون پر پانچ منٹ سے زیادہ کال پر 75 پیسے ٹیکس لگے گا۔

یہ بھی پڑھیے:

8 ہزار 487 ارب روپے کا وفاقی بجٹ پیش، تنخواہوں اور پنشن میں 10 فیصد اضافہ

پنجاب کا 2 ہزار 653 ارب روپے کا بجٹ پیش، کس شعبے کیلئے کتنے فنڈز مختص کیے گئے؟

سندھ حکومت نے 25 ارب روپے خسارے کے ساتھ 1477 ارب کا بجٹ پیش  کر دیا

خیبرپختونخوا کی تاریخ کا سب سے بڑا ایک ہزار 118 ارب روپے کا بجٹ پیش

بلوچستان کا 584 ارب روپے کا بجٹ پیش، ترقیاتی پروگرام کیلئے 237 ارب روپے مختص

وفاقی وزیر نے کہا کہ سونے اور چاندی پر ٹیکس 17 فیصد سے کم کرکے ایک سے تین فیصد کر دیا تاہم سونے چاندی کی ویلیو ایڈیشن کے بعد اس پر 17 فیصد ٹیکس لگے گا کیونکہ یہ غریب آدمی کے لئے نہیں ہوتا اس کا فائدہ امیر آدمی کو ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پولٹری اور جانوروں کی خوراک پر ٹیکس 15 فیصد سے کم کرکے 10 فیصد کر دیا گیا۔ ٹیکسٹائل اشیاء پر ٹیکس 12 سے 10 فیصد کر دیا گیا ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ دودھ اور اس کی دیگر مصنوعات پر بھی ٹیکس ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ آٹے اور اس کی مصنوعات پر کوئی ٹیکس نہیں لگایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ترقی میں پی ایس ڈی پی کا بڑا ہاتھ ہوتا ہے، ہم نے 630 ارب سے بڑھا کر پی ایس ڈی پی 900 ارب تک کر دیا ہے۔ پی ایس ڈی پی کے تحت ٹرانسپورٹ، صحت، اعلیٰ تعلیم، بلوچستان اور سندھ کی ترقی، کراچی کے ٹرانسفارمیشن منصوبے اور فاٹا کے ضم شدہ اضلاع کی ترقی کے لیے اس میں رقوم رکھی گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے:

تاجر اور صنعتکار بجٹ 2021-22ء کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟

پنجاب: بجٹ میں کس شعبے پر کتنا ٹیکس لگا اور کس پر ریلیف ملا؟

آئندہ مالی سال کے بجٹ میں جنوبی پنجاب کیلئے 189 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز مختص

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ سب سے پہلے ہم زراعت پر رقم خرچ کریں گے کیونکہ 63 فیصد آبادی دیہاتوں میں رہتی ہے۔ 15، 20 سالوں سے ہم نے زراعت پر توجہ نہیں دی جس کی وجہ سے گندم، چینی، پام آئل، دالیں اور دیگر فوڈ آئٹمز درآمد کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ زرعی قرضوں، کھادوں، زرعی مشینری ، کولڈ سٹوریجز اور مڈل مین کو ختم کرنے کے لیے ملک بھر میں ایگری مال بنائیں گے جہاں کاشتکار خود اپنی اجناس بیچنے کے لیے آ سکیں گے۔ مڈل مین 400 سے 500 فیصد منافع وصول کرتا ہے اس فیصلے سے اس کا سدباب ہو گا۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ ہم نے پچھلی دفعہ بھی صنعتوں کے خام مال پر مراعات دی تھیں، اس دفعہ 45 ارب کی مراعات دے رہے ہیں۔ صنعتیں چلنے سے لوگوں کو روزگار ملتا ہے۔ صنعتیں چلنے سے درآمدات بھی کم ہوں گی۔ ہم ایس ایم ای سیکٹر کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔ ایس ایم ای کو پہلے کوئی بنک قرضہ نہیں دیتا تھا، اب اس شعبہ کو 100 ارب روپے کے آسان شرائط پر 9 فیصد شرح پر دیئے جائیں گے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here