8 ہزار 487 ارب روپے کا وفاقی بجٹ پیش، تنخواہوں اور پنشن میں 10 فیصد اضافہ

جی ڈی پی کا ہدف 4.8 فیصد مقرر، آئی ٹی خدمات کی برآمدات کے لیے زیرو ریٹنگ کی اجازت، موبائل فون کالز، انٹرنیٹ ڈیٹا اور ایس ایم ایس پیغامات پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد، 850 سی سی گاڑیوں پر ایف ای ڈی ختم

565
اسلام آباد: وزیر خزانہ شوکت ترین آئندہ مالی سال 2021-22ء کا بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کر رہے ہیں (تصویر: پی آئی ڈی)

اسلام آباد: آئندہ مالی سال 2021-22ء کا 8 ہزار 487 ارب روپے کا وفاقی بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کر دیا گیا۔

شرح نمو کا ہدف 4.8 فیصد رکھا گیا ہے، سرکاری شعبہ کے ترقیاتی بجٹ کا حجم 900 ارب روپے ہے، کم سے کم اجرت 20 ہزار روپے ماہانہ رکھے جانے کی تجویز ہے۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 10 فیصد ایڈہاک ریلیف دیا گیا ہے۔

جمعہ کو قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال 2021-22ء کا بجٹ پیش کرتے ہوئے وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے جب حکومت سنبھالی تو انہیں شکستہ معیشت ورثہ میں ملی، ایک طرف ہمیں قرضوں کی وجہ سے دیوالیہ پن کی صورت حال کا سامنا تھا اور دوسری طرف درآمد کی طلب کو پورا کرنے کے لئے رقوم میسر نہیں تھیں۔ یہ صورت حال مسلم لیگ (ن) کی گزشتہ حکومت کی جانب سے بغیر سوچے سمجھے قرض لینے کی وجہ سے پیدا ہوئی۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ گزشتہ حکومت کی طرف سے دکھائی جانے والی نمائشی معاشی ترقی زیادہ شرح سود پر ملکی اور بیرونی ذرائع سے بہت زیادہ قرضے لینے کی وجہ سے تھی اور قرضے واپس کرنے کی ذمہ داری موجودہ حکومت کے اوپر آ گئی۔ ماضی میں شاید ہی کسی نئی حکومت کو ایسی مشکل صورت حال کا سامنا کرنا پڑا ہو۔

انہوں نے کہا کہ جس وقت تحریک انصاف نے حکومت سنبھالی اس وقت کرنٹ اکائونٹ خسارہ 20 ارب ڈالر کی تاریخی بلند ترین سطح پر تھا۔ درآمدات تقریباََ 56 ارب ڈالر اور برآمدات محض 25 ارب ڈالر تھیں۔ ملک میں ٹیکس وصولی چار ہزار ارب روپے کی نفسیاتی حد عبور کر چکی ہے۔ ریفنڈز کی ادائیگی گزشتہ مالی سال کی نسبت 75 فیصد زائد ہے۔ ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والوں میں تین لاکھ بارہ ہزار کا اضافہ کیا ہے جنہوں نے 51 ارب روپے کے ٹیکس ریٹرن ادا کئے ہیں۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ رواں سال برآمدات میں 14 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ترسیلات زر میں 25 فیصد ریکارڈ اضافے کی وجہ سے یہ ذخائر 29 ارب ڈالر تک پہنچنے کے قریب ہیں جو سمندرپار پاکستانیوں کی وزیراعظم عمران خان کی قیادت پر اعتماد کا مظہر ہے۔ سرکاری زرمبادلہ کے ذخائر 16 ارب ڈالر ہیں جو تین ماہ سے زیادہ کے درآمدی بل کے لئے کافی ہیں۔ گزشتہ سال کے مقابلے میں روپے کی قدر میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

قرضوں میں کمی کا ہدف

شوکت ترین نے بجٹ تقریر کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ایک سال میں خام تیل کی قیمتوں میں دنیا میں 180 فیصد اضافہ ہوا جبکہ ملکی سطح پر ان کی قیمتیں صرف 45 فیصد بڑھیں۔ سرکاری قرض میں اب کمی آنا شروع ہو گئی ہے۔ اگلے تین سالوں میں ٹیکس کے نظام میں شفافیت اور بہتری لانے کی وجہ سے سرکاری قرضے میں مزید کمی آئے گی اور اسے پائیدار سطح پر لانے میں مدد ملے گی۔

معاشی ترقی کا ہدف 4.8 فیصد مقرر

انہوں نے کہا کہ یہ اعلان کرتے ہوئے انہیں خوشی ہو رہی ہے کہ اب معیشت کے استحکام کا مرحلہ کافی حد تک مکمل ہو چکا ہے۔ بجٹ 2021-22ء میں جامع اور پائیدار نمو کا حصول ہمارا محور ہو گا۔ اگلے سال کے لئے ہم نے معاشی ترقی کا ہدف 4.8 فیصد رکھا ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

پنجاب کا 2 ہزار 653 ارب روپے کا بجٹ پیش، کس شعبے کیلئے کتنے فنڈز مختص کیے گئے؟

سندھ حکومت نے 25 ارب روپے خسارے کے ساتھ 1477 ارب کا بجٹ پیش  کر دیا

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ کامیاب پاکستان پروگرام کے تحت کم آمدن گھرانوں کو ہائوسنگ کی مد میں 20 لاکھ روپے تک سستے قرضے دیئے جائیں گے، ہر گھرانے کو صحت کارڈ دیا جائے گا۔ ہر گھرانے کے ایک فرد کو مفت تکنیکی تربیت دی جائے گی۔ ہر شہری گھرانے کو کاروبار کے لئے پانچ لاکھ روپے تک سود سے پاک قرض دیں گے۔

 نوجوانوں کے روزگار کے لیے اقدامات

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی آبادی کا 65 فیصد حصہ 30 سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے۔ اگلے دو سے تین سالوں میں کم سے کم 6 سے 7 فیصد نمو یقینی بنانا چاہتے ہیں جس سے نوجوانوں کو روزگار ملے گا اور وہ خوش حال زندگی گزار سکیں گے۔ اس مقصد کے لئے صنعت، برآمدات، ہائوسنگ اور تعمیرات، کمزور طبقات کے لئے سماجی تحفظ کے پروگرام اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔

زراعت کی ترقی

وزیر خزانہ نے کہا کہ زراعت کے شعبے کی ترقی کے لیے جامع منصوبہ ترتیب دیا گیا ہے جس کے تحت بیج، کھاد، زرعی قرضے، ٹریکٹر اور مشینری، کولڈ ویئر ہائوسز کی تعمیر اور فوڈ پراسیسنگ انڈسٹری میں مدد کی جائے گی۔ ہر کاشت کار گھرانے کو کاشت کے لئے ہر فصل کے لئے ڈیڑھ لاکھ روپے کا سود سے پاک قرضہ دیں گے اور ٹریکٹر اور مشینی آلات کے لئے دو لاکھ روپے قرض دیا جائے گا۔ رواں مالی سال کے دوران اہم فصلوں کی پیداوار میں تاریخی اضافہ سے کسانوں کو 3100 ارب روپے کی آمدنی ہوئی جبکہ گزشتہ سال یہ آمدن 2300 ارب روپے تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ زرعی شعبے میں ٹڈی دل ایمرجنسی اور فوڈ سیکیورٹی پراجیکٹ کے لئے ایک ارب روپے، چاول، گندم، کپاس، گنے اور دالوں کی پیداوار میں اضافے کے لئے 2 ارب روپے، تجارتی بنیادوں پر زیتون کی کاشت بڑھانے کے لئے ایک ارب روپے، آبی گزرگاہوں کی مرمت اور بہتری کے لئے 3 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔

 احساس پروگرام کیلئے 260 ارب روپے مختص

انہوں نے کہا کہ احساس پروگرام کے تحت 40 فیصد سے زائد لوگوں کو نقد امداد کی گئی، کوویڈ 19 کے باوجود گزشتہ ایک سال میں فی کس آمدنی میں اوسطا 15 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ احساس پروگرام کے لئے مختص رقوم جن میں پاکستان بیت المال اور غربت کی تخفیف کے فنڈ کے لئے مختص رقوم شامل ہیں۔ ان میں مالی سال 2020-21کے نظرثانی شدہ 210 ارب روپے کے تخمینہ جات سے اضافہ کرکے 260 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے جو کہ 24 فیصد کے اضافہ پر مبنی ہے۔ یہ اب تک معاشرے کی کم آمدنی والے طبقات کے لئے مختص کردہ سب سے زیادہ رقم ہے۔

سستے گھروں کیلئے قرضے

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ کم آمدن گھرانوں کو اپنا گھر خریدنے یا بنانے میں مدد کے لئے تین لاکھ روپے سبسڈی دی جا رہی ہے، اس مقصد کے لئے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں 33 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ بینکوں سے 100 ارب روپے کی فراہمی کی درخواستیں موصول ہوئی ہیں جن میں سے 70 ارب روپے کی فراہمی کی منظوری دے دی گئی ہے اور اس کی ادائیگی شروع ہو گئی ہے۔

سروسز پر ود ہولڈنگ ٹیکس میں کمی

وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ مختلف سروسز پر منافع کا مارجن کم ہے اور عائد ود ہولڈنگ شرح بہت زیادہ ہے جس سے ان کو مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ تجویز ہے کہ آئل فیلڈ سروسز، ویئر ہائوسنگ سروسز، کولیکٹرل مینجمنٹ سروسز، سیکیورٹی سروسز اور ٹریول اینڈ ٹورزم سروسز پر ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح کو 8 فیصد سے کم کرکے 3 فیصد تک کر دیا جائے۔

موبائل سروسز پر ودہولڈنگ ٹیکس میں کمی

شوکت ترین نے بتایا کہ موبائل سروسز پر موجودہ ودہولڈنگ ٹیکس شرح 12.5 فیصد ہے۔ عام شہری پر بوجھ کو کم کرنے کے لئے تجویز ہے کہ اگلے مالی سال کے لئے اس شرح کو کم کرکے 10 فیصد کردیا جائے۔ تجویز ہے کہ اس کو بتدریج 8 فیصد تک کم کر دیا جائے گا۔

تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ

وزیر خزانہ شوکت ترین نے اعلان کیا کہ معاشی حالات میں بہتری آئی ہے اور ہم محسوس کرتے ہیں کہ قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے لوگوں کی قوت خرید بھی متاثر ہوئی ہے، اس لئے سرکاری ملازمین اور پنشنرز کے لئے اقدامات کا اعلان کیا جاتا ہے جس کے مطابق یکم جولائی 2021ء سے تمام وفاقی سرکاری ملازمین کو 10 فیصد ایڈہاک ریلیف الائونس دیا جائے گا۔ یکم جولائی سے پنشن میں 10 فیصد اضافہ کیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اردلی الائونس 14 ہزار روپے ماہانہ سے بڑھا کر 17 ہزار 500 روپے کر دیا جائے گا۔ گریڈ ایک سے 5 تک کے ملازمین کے انٹیگریٹڈ الائونس 450 روپے سے بڑھا کر 900 روپے کئے جانے کی تجویز ہے۔ کم آمدن افراد پر مہنگائی کے دبائو کو کم کرنے کے لئے کم سے کم اجرت 20 ہزار روپے ماہانہ کی جا رہی ہے۔

کمزور طبقات کی امداد

انہوں نے بتایا کہ کمزور طبقات کی امداد کے لئے احساس پروگرام کے تحت ایک درجن سے زائد پروگراموں کا آغاز کیا گیا ہے جس میں کیش ٹرانسفر، کامیاب جوان، بلاسود قرضے، نیوٹریشن تحفظ، چھوٹے کاروبار کے آغاز کے لئے مالی امداد، یتیموں، بے سہارا بچوں، مجبوری کے تحت ہجرت کرنے والوں، مزدور بچوں ، جبری مشقت کا شکار افراد اور یومیہ اجرت پر کام کرنے والوں کے لئے مالی امداد، غرباکے لئے کھانوں کی فراہمی کے لئے لنگر، راشن کی تقسیم کے لئے فوڈ کارڈ، کھانے اور دیگر اشیاکی فروخت کے لئے نئے طرز کے ٹھیلے شامل ہیں۔

گردشی قرض میں کمی کیلئے اقدامات

انہوں نے بتایا کہ توانائی کے شعبہ میں اصلاحات کے لئے اقدامات اٹھائے گئے ہیں، گردشی قرضے کو کم اور پھر مکمل ختم کرنے کے لئے منصوبہ بندی، پرائیویٹ پاور پروڈیوسرز کے تعاون سے گردشی قرضے کی تشکیل نو، بجلی کی زیادہ کھپت والی صنعتوں کے لئے مراعات، لائن لاسز کم کرنے کے لئے بجلی کی ترسیل اور تقسیم کے عمل میں ضروری سرمایہ کاری، بجلی کے استعمال کو فروغ دینے کے لئے الیکٹرک وہیکلز پالیسی کا اعلان اور مجموعی لاگت کم کرنے کے لئے ہائیڈرو اور قابل تجدید توانائی کے ذریعے سستی بجلی کی پیداوار کا حصول شامل ہے۔ اگلے دو سالوں میں ہم اس سیکٹر کے تمام مسائل کے حل کے لئے مزید ڈھانچہ جاتی اصلاحات کریں گے۔

سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام کیلئے 900 ارب روپے مختص

وزیر خزانہ نے کہا کہ سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام کو 630 ارب روپے سے بڑھا کر 900 ارب روپے کر رہے ہیں جو تقریباََ 40 فیصد اضافہ ہے۔ آئندہ مالی سال کے لئے خوراک اور پانی کی دستیابی، توانائی کا تحفظ، روڈ انفراسٹرکچر میں بہتری، چین پاکستان معاشی راہداری پر عمل درآمد میں پیشرفت، خصوصی اقتصادی زونز کی تعمیر اور انہیں فعال بنانے، پائیدار ترقیاتی اہداف، موسمیاتی تبدیلی کے خلاف اقدامات، ٹیکنالوجی کی مدد سے علوم میں پیشرفت اور علاقوں کے مابین پائے جانے والے فرق کا تدارک اگلے سال ہماری ترقیاتی ترجیحات میں شامل ہے۔

آبی وسائل کے تحفظ کیلئے 91 ارب روپے مختص

آبی تحفظ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے لئے 91 ارب روپے رکھے جارہے ہیں۔ داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے پہلے مرحلے کے لئے 57 ارب روپے، دیامر بھاشا ڈیم کے لئے 23 ارب روپے، مہمند ڈیم کے لئے 6 ارب روپے اور نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے لئے 14 ارب روپے کی تجویز ہے۔ اس کے علاوہ دیگر منصوبے بھی زیر عمل ہیں۔

سی پیک کے تحت 13 ارب ڈالر کے منصوبے مکمل

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ چین پاکستان معاشی راہداری کے تحت 13 ارب ڈالر مالیت کے 17 بڑے منصوبے مکمل کر لئے گئے ہیں۔ 21 ارب ڈالر مالیت کے مزید 21 منصوبے جاری ہیں۔ اس کے علاوہ سٹریٹجک نوعیت کے 26 منصوبے منصوبہ بندی کے مراحل میں ہیں جن کی مالیت 28 ارب ڈالر ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کراچی لاہور موٹروے کی تکمیل، حویلیاں تھاہ کوٹ اور شاہراہ قراقرم فیز ٹو، ژوب کچلاک روڈ، چترال بونی مستوج شندور روڈ کی مرمت اور توسیع، پاکستان ریلویز کی مین لائن ایم ایل ون کی بہتری اور حویلیاں کے قریب ڈرائی پورٹ کی تعمیر اور چین اور دیگر ممالک سے فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ کے ساتھ اکنامک زونز کی آبادکاری اہم ترجیحات ہیں۔

شوکت ترین نے کہا کہ نارتھ سائوتھ ریلوے انفراسٹرکچر بہتر بنانے کے لئے ایم ایل ون منصوبے کی لاگت 9.3 ارب ڈالر ہے۔ اسے تین پیکجز میں مکمل کیا جائے گا۔ پیکج وَن کا آغاز مارچ 2020ء میں ہو چکا ہے جبکہ پیکج ٹو کا آغاز آئندہ ماہ اور پیکج تھری کا آغاز جولائی 2022ء میں ہو گا۔ حکومت اس قومی پراجیکٹ کے کام کو تیز کرنے کی خواہشمند ہے، اس سے لاکھوں لوگوں کو فائدہ پہنچے گا اور سامان کی نقل و حمل میں بہتری آئے گی۔

بجلی کے ترسیلی نظام کی بہتری

وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ اس وقت ملک میں بجلی کی پیداواری گنجائش فاضل ہے تاہم ساری کی ساری بجلی اینڈ یوزر تک ترسیل کرنے کے قابل نہیں ہیں، اس کے لئے اسلام آباد ویسٹ اور لاہور نارتھ ایک ہزار کے وی ٹرانسمیشن لائنز کے لئے 7.5 ارب روپے، داسو سے 2160 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے لئے 8.5 ارب روپے، سکی کناری، کوہالہ، ماہل ہائیڈرو پاور پراجیکٹس سے بجلی پیدا کرنے کے لئے ساڑھے پانچ ارب اور حیدرآباد سکھر سیکنڈری ٹرانسمیشن لائنز کے لئے 12 ارب روپے رکھے جانے کی تجویز ہے۔

اس کے علاوہ جامشورو میں کوئلے کی مدد سے 1200 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے لئے 22 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ کراچی میں کے وَن اور کے ٹو منصوبے اور تربیلا ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی پانچوی توسیع کے لئے ساڑھے 16 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔

پسماندہ علاقوں کی ترقی کے لئے 100 ارب مختص

مختلف علاقوں کے درمیان ترقی کے فرق کو دور کرنے کے لئے حکومتی اقدامات سے آگاہ کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ حکومت سے پسماندہ علاقوں کی ترقی یقینی بنانے کے لئے خصوصی ترقیاتی پیکج شروع کئے ہیں ان میں اس مقصد کے لئے 100 ارب روپے مختص کئے جانے کی تجویز ہے۔ جنوبی بلوچستان کے لئے ترقیاتی منصوبے کے تحت 601 ارب روپے کی لاگت سے 199 منصوبوں کی فنڈنگ پر مشتمل پیکج کے تحت اس بجٹ میں 20 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

اسی طرح کراچی ٹرانسفارمیشن پلان کا کل حجم 739 ارب روپے ہے جس کے لئے 98 ارب روپے وفاقی حکومت دے گی جبکہ سرکاری و نجی شعبہ کے اشتراک سے 509 ارب روپے اور سپریم کورٹ فنڈ سے 125 ارب روپے دیئے جائیں گے۔ اس پلان کے تحت نالوں، دریاں، سڑکوں کی تعمیر ، ماس ٹرانزٹ پراجیکٹس اور واٹر سپلائی کی سہولت فراہم کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔

گلگت بلتستان سماجی اقتصادی ترقی کے منصوبے کے تحت 162 ارب روپے کی لاگت کے 29 پراجیکٹ شامل ہیں جبکہ اس بجٹ میں اس کے لئے 40 ارب روپے مختص کئے جارہے ہیں۔

سندھ کے 14 سے زائد اضلاع کے لئے ترقیاتی منصوبہ کے تحت 444 ارب روپے کی لاگت کے 107 منصوبوں کی تکمیل کی جائے گی۔ اس سال بجٹ میں اس مقصد کے لئے ساڑھے 19 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

خیبرپختونخوا کے نئے ضم شدہ اضلاع کی ترقی کے لئے 54 ارب روپے رکھے گئے ہیں، ان میں سے 30 ارب روپے دس سالہ ترقیاتی منصوبے کے لئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ اتھارٹی کے پاس 2000 ارب روپے لاگت کے پچاس منصوبے موجود ہیں ان میں سیالکوٹ تا کھاریاں اور سکھر تا حیدرآباد موٹروے پر کام 233 ارب روپے کی لاگت سے شروع کردیا گیا ہے۔ 710 ارب روپے کے مزید منصوبوں پر آئندہ مالی سال میں کام شروع ہوگا۔

دیگر منصوبوں کیلئے بجٹ تجویز

وزیر خزانہ نے بتایا کہ موسمیاتی تبدیلی کے چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لئے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں 14 ارب روپے کے منصوبے مختص کئے گئے ہیں، سماجی شعبہ وزیراعظم عمران خان کی اولین ترجیحات میں ہے۔ اس کے لئے 118 ارب روپے تجویز کئے گئے ہیں جن میں سے 30 ارب روپے صحت، 44 ارب روپے اعلیٰ تعلیم، 68 ارب روپے پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول اور 16 ارب روپے ماحولیات کو بہتر بنانے کے لئے رکھے گئے ہیں۔

ایف بی آر کا ٹیکس ہدف 5829 ارب روپے مقرر

انہوں نے آئندہ مالی سال 2021-22ء کے بجٹ کے نمایاں خدوخال پیش کرتے ہوئے بتایا کہ گراس ریونیو کا تخمینہ 7909 رکھا گیا ہے جو رواں مالی سال کے مقابلے میں 24 فیصد زیادہ ہے۔ ایف بی آر محاصل میں 24 فیصد اضافہ کے ساتھ 4691 ارب روپے سے بڑھ کر 5829 ارب روپے کا اضافہ متوقع ہے۔

نان ٹیکس ریونیو کے 22 فیصد تک بڑھنے کی توقع ہے۔ وفاقی ٹیکسوں میں صوبوں کا حصہ گزشتہ سال کے 2704 ارب روپے سے بڑھ کر 3411 ارب روپے رہے گا جو 25 فیصد اضافہ ہوگا، صوبوں کو منتقلی کے بعد خالص وفاقی محاصل کے بعد تخمینہ 4497 ارب روپے ہے جو 22 فیصد اضافی ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

خیبرپختونخوا کی تاریخ کا سب سے بڑا ایک ہزار 118 ارب روپے کا بجٹ پیش

بلوچستان کا 584 ارب روپے کا بجٹ پیش، ترقیاتی پروگرام کیلئے 237 ارب روپے مختص

انہوں نے بتایا کہ وفاقی اخراجات 8487 ارب روپے رہیں گے جبکہ اس کے مقابلے میں رواں مالی سال کے نظرثانی شدہ اخراجات 7341 روپے تھے، ان اعدادوشمار سے وفاقی اخراجات میں 15 فیصد اضافہ ظاہر ہو رہا ہے۔ ایسے وقت میں جب قوم اپنی تاریخ کے مشکل دور سے گزر رہی ہے ضروری ہے کہ حکومتی اخراجات میں کمی لائی جائے اور اس کے لئے کفایت شعاری کے اقدامات حکومت جاری رکھے گی۔

سرکاری اخراجات کا تخمینہ 7523 ارب روپے

انہوں نے بتایا کہ رواں مالی سال اخراجات کا تخمینہ 6541 ارب روپے سے بڑھ کر 7523 ارب روپے رہنے کی توقع ہے جس سے رواں اخراجات میں 14 فیصد اضافہ ظاہر ہو رہا ہے۔ رواں اخراجات میں سے سود کی ادائیگی اور کویڈ 19 پر ایک بار اخراجات کو نکال کر رواں اخراجات میں 12 فیصد اضافے کی توقع ہے۔

سبسڈیز کیلئے 682 ارب روپے مختص

انہوں نے بتایا کہ سبسڈیز کا تخیمنہ 682 ارب روپے لگایا گیا ہے جن پر نظرثانی شدہ تخمینہ جات کے مطابق 430 ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ اس میں آئی پی پیز کو کی جانے والی ادائیگیاں، ٹیرف میں فرق کی بناپر دی جانے والی سبسڈی اور خوراک کی اشیاپر دی جانے والی سبسڈی شامل ہیں۔

بجٹ خسارہ 6.3 فیصد رہنے کی توقع

شوکت ترین نے کہا کہ سال 2021-22کا مجموعی بجٹ خسارہ 6.3 فیصد رہنے کی توقع ہے جبکہ رواں مالی سال یہ تخمینہ 7.1 فیصد رہنے کی امید ہے۔ پرائمری خسارہ کا ہدف 0.7 فیصد ہے جوکہ رواں مالی سال کے نظرثانی شدہ تخمینہ کے مطابق 1.2 فیصد لگایا گیا ہے۔ پرائمری خسارہ کا یہ ہدف مقرر کرکے حکومت تین سالوں میں پرائمری خسارہ 3.2 فیصد کی کل کمی لانے میں کامیاب رہے گی۔ 2018-19ء میں یہ خسارہ 3.8 فیصد تھا۔

چھوٹے کاروباروں کیلئے 12 ارب روپے مختص

ایس ایم ای سپورٹ پروگرام کے لئے 12 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ کامیاب پاکستان پروگرام کے لئے 10 ارب روپے مختص کئے جارہے ہیں، وزیراعظم کی ہدایت پر اینٹی ریپ فنڈ قائم کیا جارہا ہے جس کے لئے ابتدائی طور پر دس کروڑ روپے کی رقم رکھی گئی ہے۔ اعلی تعلیم کا بجٹ 66 ارب روپے جبکہ ترقیاتی بجٹ کے لئے اسے 44 ارب روپے فراہم کئے جائیں گے۔ بعد ازاں اس میں 15 ارب روپے کا اضافہ کیا جائے گا۔

سرکاری اداروں اور خصوصی علاقوں کی امداد

برآمدی شعبہ کے لئے سپورٹ فنڈ فراہم کرنے کا عمل جاری رکھا جائے گا۔ سرکاری اداروں کے لئے امداد کی مد میں پی آئی اے کیلئے 20 ارب اور سٹیل ملز کے لئے 16 ارب روپے بجٹ میں رکھے گئے ہیں۔ خصوصی علاقوں کی امداد کے تحت آزاد جموں و کشمیر کے بجٹ کو 54 ارب روپے سے بڑھا کر 60 ارب جبکہ گلگت بلتستان کے بجٹ کو 32 ارب سے بڑھا کر 47 ارب روپے کرنے کی تجویز ہے۔ سندھ کو 19 ارب روپے کی خصوصی گرانٹ اور بلوچستان کو این ایف سی حصے کے علاوہ مزید 10 ارب روپے فراہم کئے جانے کی تجویز ہے۔

انہوں نے کہا کہ مردم شماری 2022ء کے لئے پانچ ارب روپے وفاقی حصے کے طور پر تجویز کی گئی ہے۔ بلدیاتی حکومتوں کے انتخابات کے لئے 5 ارب روپے اور کوویڈ 19 ایمرجنسی فنڈ کی مد میں 100 ارب روپے رکھے جانے کی تجویز ہے۔

تنخواہ داروں پر نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا

وزیر خزانہ نے کہا کہ موجودہ ٹیکس گزاروں کا تحفظ کریں گے تاکہ ان کے واجب الادا ٹیکس پر مزید کوئی بوجھ نہ ڈالا جائے۔ ٹیکس پالیسی کے مختلف اصولوں میں تنخواہ دار طبقے پر کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا جائے گا۔ ٹیکس گزاروں کو ہراساں کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ ای آڈٹ سسٹم کے تحت آڈٹ کے لئے باہر سے آڈیٹرز کا انتخاب کیا جائے گا۔ جان بوجھ کر چھپائی گئی معلومات یا ٹیکس چوری مجرمانہ تصور ہوگی جس پر جیل جانے کی سزا دی جائے گی۔

انہوں نے بتایا کہ ٹیکس مشینری کو ٹیکس چوری کرنے والوں کے خلاف اور ٹیکس نیٹ میں شامل نہ ہونے والوں کے خلاف مزید متحرک کریں گے۔ ٹریک اینڈ ٹریس کے نظام کو ابتدائی طور پر چار صنعتوں کے لئے شروع کیا جائے گا۔ جی ایس ٹی نیٹ میں اضافے کے لئے تمام ریٹیل اور ہول سیل ٹرانزیکشنز کو ٹیکس نیٹ میں شامل کیا جائے گا۔ کسٹمر کے لئے ہر ماہ قرعہ اندازی کے بعد سیلز ٹیکس وصولی پر انعامات تقسیم کریں گے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان سنگل ونڈوز پراجیکٹ کا آغاز کیا جارہا ہے۔ سروسز میں سیلز ٹیکس میں ہم آہنگی لانے کے لئے صوبوں کے ساتھ مشاورت کے بعد عملی اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔ ٹیکس نظام کو مزید سادہ بنانے کے لئے نیا سادہ ٹیکس ریٹرن فارم اور نئے ٹیکس کوڈ اور قوانین لائے جارہے ہیں۔

ٹیکس چھوٹ

انہوں نے فنانس بل میں شامل تجاویز کے حوالے سے بتایا کہ سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے تحت گھریلو صنعت کے سالانہ ٹرن اوور میں اضافہ کی تجویز ہے، اس کے تحت دس ملین روپے تک کی سالانہ ٹرن اوور والی صنعت کو سیلز ٹیکس میں رجسٹرڈ ہونے کی ضرورت نہیں۔

وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ اس سے قبل تین ملین تک ٹرن اوور رکھنے والے چھوٹے کاروبار کو بھی سیلز ٹیکس میں رجسٹرڈ ہونا پڑتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ کاروبار میں آسانیوں کے لئے جو اقدامات اٹھائے جارہے ہیں ان میں فرنیچر کے کاروبار سے منسلک ٹیر ون ریٹیلر دکان کے رقبہ میں دگنا اضافہ، ریفنڈ کی ادائیگی میں تاخیر کے لئے معاوضے کے دائرہ کار میں اضافہ اور واجب الادا سیلز ٹیکس کو ایڈوانس ادائیگی سے استثنی دیئے جانے کی تجویز ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ضم شدہ اضلاع کی صنعتوں کے لئے فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی چھوٹ دیئے جانے کی تجویز ہے، اسی طرح پھلوں کے رس پر عائد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کا خاتمہ کیا جا رہا ہے۔ قرآن پاک کی اشاعت میں استعمال ہونے والے کاغذ پر چھوٹ کے دائرہ کار کو وسیع کیا جارہا ہے۔ مقامی طور پر تیار کی گئی الیکٹرک گاڑیوں کے لئے سیلز ٹیکس کی شرح میں 17 فیصد سے ایک فیصد تک کمی، الیکٹرک گاڑیوں اور سی کے ڈی کٹس کی درآمد پر ویلیو ایڈیشن ٹیکس کی چھوٹ اور چار پہیوں والی گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی چھوٹ شامل ہے۔

اس کے علاوہ آٹو ڈس ایبل سرنجز اور آکسیجن سلنڈر پر سیلز ٹیکس میں چھوٹ دینے کی تجویز ہے۔ سپیشل ٹیکنالوجی زونز، زرعی اجناس کے ذخیرہ گوداموں کو ٹیکس چھوٹ کی تجویز ہے۔ ٹیلی کام خدمات پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی 17 فیصد سے 16 فیصد کمی کی تجویز ہے۔ مرچنٹ ڈسکائوٹ ریٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں چھوٹ کی تجویز ہے۔ ایف بی آر سے منسلک شدہ ٹیر ون ریٹیلرز کی طرف سے دی گئی الیکٹرانک رسید پر قرعہ اندازی کے بعد ماہانہ بنیادوں پر 250 ملین روپے کے انعامات ان خریداروں کو دیئے جائیں گے۔

اس کے علاوہ ای کامرس لین دین کو سیلز ٹیکس میں شامل کرنا، مخصوص سیکٹر کی برانڈ کی رجسٹریشن کی جائے گی۔ ٹیلی مواصلات خدمات پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے نفاذ کی تجویز ہے جس کے تحت 3 منٹ سے زائد جاری رہنے والی موبائل فون کالز، انٹرنیٹ ڈیٹا کے استعمال اور ایس ایم ایس پیغامات پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی نافذ کی جارہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ چینی کی قیمتوں میں بے ضابطگیوں کو دور کرنے کے لئے تجویز ہے کہ چینی کو سیلز ٹیکس ایکٹ کے تھرڈ شیڈول میں شامل کرلیا جائے تاکہ ٹیکس اصل مارکیٹ قیمت پر لاگو ہو۔ ری کلیمڈ لیڈ اور استعمال شدہ لیڈ بیٹریوں پر سیلز ٹیکس ودہولڈنگ کے نفاذ کی تجویز ہے۔

ودہولڈنگ ٹیکس رجیم میں 40 فیصد کمی کا اعلان کرتے ہوئے شوکت ترین نے بتایا کہ 12 ودہولڈنگ شقوں کو ختم کرنے کی تجویز ہے جن میں بنکنگ ٹرانزیکشنز، پاکستان سٹاک ایکسچینج، مارجن فنانسنگ، ایئر ٹریول سروسز، قرض اور کریڈٹ کارڈ کے ذریعے بین الاقوامی ٹرانزیکشنز اور معدنیات کی دریافت شامل ہے۔

وزیر خزانہ نے بجٹ تقریر میں کہا کہ کوویڈ 19 وباک ی وجہ سے کیپٹل مارکیٹ بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ تجویز ہے کہ کیپیٹل گین ٹیکس کی شرح کو 15 فیصد سے کم کرکے 12.5 فیصد کر دیا جائے۔ پراپرٹی آمدنی پر نقصانات کی ایڈجسٹمنٹ کی تجویز دی گئی ہے۔ این جی اوز جیسے عبدالستار ایدھی فانڈیشن، انڈس ہسپتال اینڈ نیٹ ورک، پیشنٹ ایڈ فانڈیشن، سندس فانڈیشن، سٹیزنز فانڈیشن اور علی زیب فانڈیشن وغیرہ کو غیر مشروط ٹیکس چھوٹ دیئے جانے کی تجویز ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ انکم ٹیکس آرڈیننس میں ٹرن اوور بنیاد پر متبادل کم از کم ٹیکس کے بارے میں تین تجاویز پیش کی گئی ہیں ان میں افراد اور ایسوسی ایشن آف پرسنز کے لئے ٹرن اوور کی بنیاد کم سے کم دس کروڑ روپے تک کئے جانے، عمومی ٹیکس شرح کو 1.5 فیصد سے کم کرکے 1.25 کئے جانے کی تجویز ہے۔

انہوں نے کہا کہ کتابوں، رسالوں، زرعی آلات اور 850 سی سی تک کاروں کے سی بی یو کی درآمد کو ودہولڈنگ ٹیکس سے استثنی دیا جا رہا ہے۔ ٹیکس قوانین کی عدم تعمیل ایک بہت بڑی رکاوٹ ہے۔ اکائونٹ نوٹیفائی نہ کرنے والوں کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ ایس ایم ایز کے لئے فکس ٹیکس سکیم کی تجویز ہے۔ آئی ٹی سروسز، فری لانسز اور دوسری سروسز کی برآمد کو فروغ دینے کے لئے ایک خصوصی ٹیکس رجیم متعارف کرانے کی تجویز ہے۔ پاکستان میں آئی ٹی سیکٹر کو ریلیف کی مد میں متعلقہ سروسز کی ایکسپورٹ کو سو فیصد ٹیکس کریڈٹ کے دائرہ کار میں لایا گیا ہے۔

سپیشل اکنامک زونز سی پیک کا ایک بنیادی پراجیکٹ ہے اس کو ٹیکس سے مستثنی رکھا گیا تھا تاہم قانون کے تحت ان کے ٹرن اوور پر کم از کم ٹیکس عائد ہوتا ہے۔ یہ تجویز ہے کہ سپیشل اکنامک زون انٹرپرائزز کو ٹیکس 2021 سے کم از کم ٹیکس میں چھوٹ دے دی جائے۔ سپیشل ٹیکنالوجی زونز اتھارٹیز کی تشکیل موجودہ حکومت کا بڑا اقدام ہے۔ جدت، ٹیکنالوجی اور کاروبار کے فروغ کے لئے خصوصی ٹیکس مراعات کے تحت دس سالہ ٹیکس چھوٹ، کیپٹل گڈز کی درآمد پر ٹیکس چھوٹ، زون انٹرپرائزز میں سرمایہ کاری سے پرائیویٹ فنڈز سے حاصل کردہ آمدنی کے منافع پر ٹیکس چھوٹ شامل ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here