گورنر سٹیٹ بینک رضا باقر اسلامک فنانشل سروسز بورڈ کی جنرل اسمبلی کے چیئرمین مقرر

ڈاکٹر رضا باقر کے تقرر کی منظوری آئی ایف ایس بی کی جنرل اسمبلی نے اپنے 9 جون 2021ء کو منعقدہ 19ویں اجلاس میں دی تھی، وہ سال 2022ء کے لیے بورڈ کی سربراہی کریں گے، اعلامیہ

215

کراچی: گورنر سٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) ڈاکٹر رضا باقر کو سال 2022ء کے لیے اسلامک فنانشل سروسز بورڈ (آئی ایف ایس بی) کی جنرل اسمبلی کا چیئرمین مقرر کر دیا گیا۔

مرکزی بینک سے جمعہ کو جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق ڈاکٹر رضا باقر کے تقرر کی منظوری آئی ایف ایس بی کی جنرل اسمبلی نے اپنے 9 جون 2021ء کو منعقدہ 19ویں اجلاس میں دی تھی۔

گورنر سٹیٹ بینک نے بیسویں جنرل اسمبلی کے چیئرمین کے طور پر اپنے تقرر پر آئی ایف ایس بی کونسل اور جنرل اسمبلی کے ارکان کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اس باوقار فورم کی سربراہی کرنے کے سلسلے میں ان پر اعتماد کا اظہار کیا۔

ڈاکٹر رضا باقر اس وقت آئی ایس ایس بی کی کونسل کے ڈپٹی چیئرمین کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں اور یہ کونسل بھی ایک سینئر ایگزیکٹو اور پالیسی ساز ادارہ ہے جو اسلامی مالیات پر ضوابطی اور نگراں اداروں کے سربراہان پر مشتمل ہے۔ آئی ایف ایس بی جنرل اسمبلی اپنے تین زمروں کے ارکان یعنی مکمل ارکان، ایسوسی ایٹ ارکان اور مبصر ارکان کا اعلیٰ ترین نمائندہ ادارہ ہے۔

جون 2021ء تک آئی ایف ایس بی کے 187 ارکان ہیں، جن میں 81 ضوابطی اور نگراں ادارے، 10 بین الاقوامی بین الحکومتی تنظیمیں اور 96 مارکیٹ پلیئرز شامل ہیں جن میں 57 علاقوں میں کام کرنے والے مالیاتی ادارے، پروفیشنل فرمز، صنعتی انجمنیں اور سٹاک ایکسچنیج شامل ہیں۔

اسلامی بینکاری کے لیے ضوابطی اور نگراں ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے سٹیٹ بینک آف پاکستان نے پچھلے برسوں کے دوران مقامی قانونی و ضوابطی ماحول کی روشنی میں ضروری ترامیم کے بعد آئی ایف ایس بی کے مختلف ضوابط اور رہنما اصول اختیار کیے ہیں۔

پاکستان میں اس وقت پانچ مکمل اسلامی بینک اور 17 ایسے روایتی بینک ہیں جن کی علیحدہ اسلامی بینکاری برانچیں ہیں جو شریعت سے ہم آہنگ متنوع مالی مصنوعات پیش کر رہی ہیں۔

31 مارچ 2020ء تک مجموعی بینکاری شعبے میں اسلامی بینکاری صنعت کے اثاثہ جات اور ڈپازٹس کا مارکیٹ میں حصہ بالترتیب 17 فیصد اور 18.7 فیصد تھا اور اسلامی بینکاری اداروں کا برانچ نیٹ ورک 3456 شاخوں اور 1638 ونڈوز پر مشتمل ہے۔

سٹیٹ بینک مجموعی بینکاری صنعت میں اسلامی بینکاری کا حصہ 30 فیصد تک لانے کا ہدف مقرر کرکے اسلامی بینکاری کو فروغ دینے کا بھرپور عزم رکھتا ہے جیسا کہ اس کے تیسرے پنج سالہ سٹریٹجک پلان 25۔ 2020ء میں درج ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here