پنجاب: بجٹ میں کس شعبے پر کتنا ٹیکس لگا اور کس پر ریلیف ملا؟

فنانس بل کے مطابق 10 سے زائد افراد پر مشتمل کمپنیوں پر پروفیشنل ٹیکس لاگو، ٹوکن ٹیکس کی ای پیمنٹ پر 5 فیصد رعایت، انٹرٹینمنٹ سروسز پر ٹیکس صفر، انشورنس ایجنٹس پر 5 فیصد ٹیکس عائد، کال سنٹرز پر سیلز ٹیکس 19.5 فیصد سے کم کر کے 16 فیصد کر دیا گیا

226

لاہور: پنجاب حکومت نے آئندہ مالی سال 2021-22ء کے لیے 2 ہزار 653 ارب روپے مالیت کا بجٹ صوبائی اسمبلی میں پیش کیا تھا جس میں سالانہ ٹیکس ہدف 405 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔

بجٹ میں پنجاب حکومت نے پروفیشنل ٹیکس کے تحت میٹرو پولیٹن اور میونسپل کارپوریشن کی حدود میں 10 یا 10 سے زائد افراد پر مشتمل کاروباری کمپنیوں پر سالانہ 6 ہزار روپے، دیگر 10 افراد سے کم والی کمپنیوں پر سالانہ 4 ہزار روپے پروفیشنل ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی ہے۔

ہول سیلرز اور ریٹیلرز کے علاوہ دیگر کاروباروں پر سالانہ 2 ہزار روپے اور ایسے افراد جو گزشتہ سال انکم ٹیکس کے زمرے میں آتے تھے ان پر سالانہ 200 روپے کا پروفیشنل ٹیکس عائد کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

پنجاب کا 2 ہزار 653 ارب روپے کا بجٹ پیش، کس شعبے کیلئے کتنے فنڈز مختص کیے گئے؟

سندھ حکومت نے 25 ارب روپے خسارے کے ساتھ 1477 ارب کا بجٹ پیش  کر دیا

8 ہزار 487 ارب روپے کا وفاقی بجٹ پیش، تنخواہوں اور پنشن میں 10 فیصد اضافہ

سیلز ٹیکس کے تحت حکومت نے ریلیف دینے کیلئے انٹرٹینمنٹ سروسز پر ٹیکس صفر کر دیا ہے، ان سروسز میں سینما، تھیٹرز، کنسرٹس، سرکس، سپورٹس ایونٹس، ریس، فلم، فیشن شوز اور موبائل سٹیج شوز شامل ہیں جبکہ انٹرسٹی سروس کو دیا جانے والا نان ٹیکس استثنیٰ ختم کر دیا گیا ہے۔

بیوٹی پارلرز، فیشن ڈیزائنرز، آرکیٹکٹس، لانڈری اینڈ ڈرائی کلینرز، سپلائی آف مشینری، ویئرہاﺅس سروسز، ڈریس ڈیزائنرز اور رینٹل آف بلڈوزرز پر سیلز ٹیکس 16 فیصد سے کم کر کے 5 فیصد کر دیا گیا ہے۔ انشورنس ایجنٹس اور انشورنس بروکرز پر بھی سیلز ٹیکس 5 فیصد عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

کاروباری آسانیوں کے فروغ کیلئے آئندہ فنانس بل میں پنجاب انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس کے حوالے سے تجویز شامل ہے کہ جن اشیاء پر وفاقی حکومت ٹیکس استثنی دے گی انہی اشیاء پر پنجاب حکومت بھی ٹیکس استثنی دے گی۔ کال سنٹرز پر عائد 19.5 فیصد سیلز ٹیکس کو کم کر کے 16 فیصد کر دیا گیا ہے۔

فنانس بل کے مطابق ایسے افراد جو حکومت پنجاب کے مقرر کردہ سیلز ٹیکس ریٹ سے زائد سیلز ٹیکس اپنے کسٹمرز سے وصول کریں گے، ان پر انوائس کی کل قیمت کا 10 فیصد یا فی انوائس 10 ہزار روپے جرمانہ عائد ہو گا۔

یہ بھی پڑھیے:

تاجر اور صنعتکار وفاقی بجٹ کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟

وفاقی بجٹ 2021-22ء: کس چیز پر کتنا ٹیکس لگا اور کس پر چھوٹ ملی؟

اسی طرح کریڈٹ کارڈ کے علاوہ موبائل والٹس اور کیو آر سکریننگ کے ذریعے ریسٹورنٹس کے بل ادا کرنے والوں سے 5 فیصد سیلز ٹیکس وصول کیا جائے گا۔

فنانس بل میں زیادہ سے زیادہ ریلیف دیا گیا ہے لیکن اگر کسی بھی کاروبار میں اس ریلیف کا غلط استعمال کیا گیا تو ٹیکس ریلیف ختم کرکے اس شخص پر جنرل سیلز ٹیکس 16 فیصد دوبارہ عائد کر دیا جائے گا۔

فنانس بل میں ناقابل انتقال جائیداد پر ٹیکس ادا کرنے والوں کو ای پیمنٹ کے ذریعے ادائیگی پر 5 فیصد رعائت دی جائے گی اور پراپرٹی ٹیکس بھی 2 اقساط میں ادا کرنے کی سہولت ہو گی۔

اس کے علاوہ جو لوگ ای پیمنٹ کے علاوہ پہلے کوارٹر میں پراپرٹی ٹیکس جمع کروائیں گے ان کو 5 فیصد رعائت دی جائے گی، دوسرے کوارٹر میں 5 فیصد رعایت کے بغیر ٹیکس دینا ہو گا جبکہ تیسرے اور چوتھے کوارٹر میں ٹیکس جمع کرانے پر حکومت فیصلہ کرے گی کہ فی ماہ یا پورے ٹیکس پر کتنا جرمانہ عائد کرنا ہے۔

اسی طرح پنجاب کے آئندہ مالی سال کے فنانس بل میں موٹر وہیکل ٹیکسیشن ایکٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ پرانے موٹر وہیکلز کے استعمال کی حوصلہ شکنی کے لئے ان کو دی جانے والی ٹیکس رعائتیں ختم کر دی جائیں اور یہی رعائتیں الیکٹرک وہیکلز کو دی جائیں تاکہ الیکٹرک وہیکلز کے استعمال کو فروغ ملے۔

ٹوکن ٹیکس کی ای پیمنٹ پر 5 فیصد رعایت ملے گی جبکہ ای پیمنٹ کے علاوہ ٹوکن ٹیکس ادائیگی پر پہلے کوارٹر میں 5 فیصد رعائت دی جائے گی، دوسرے کوارٹر میں یہ رعایت نہیں ملے گی جبکہ تیسر ے اور چوتھے کوارٹر میں ٹوکن ٹیکس جمع کروانے والوں کے بارے میں پنجاب حکومت فیصلہ کرے گی کہ فی ماہ یا پورے ٹیکس پر کتنا جرمانہ عائد کرنا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here