25 چیمبرز آف کامرس کا بجٹ منظوری سے قبل کاروباری برداری کے تحفظات دور کرنے کا مطالبہ

آل پاکستان چیمبرز پوسٹ بجٹ کنونشن، سیکشن 203 اے اور انوائس پینلٹی فوراََ ختم کیے جائیں، کمرشل امپورٹرز کو 20 ہزار ڈالرز تک کی ایڈوانس ادائیگی کے عوض درآمد کرنے کی اجازت دی جائے، اعلامیہ

239

لاہور: لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایل سی سی آئی) کے زیر اہتمام آل پاکستان چیمبرز پوسٹ بجٹ کنونشن میں 25 چیمبرز آف کامرس نے مشترکہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ وفاقی بجٹ کی منظوری سے قبل کاروباری برادری کے تحفظات دور کیے جائیں۔

لاہور چیمبر کے صدر میاں طارق مصباح نے آل پاکستان چیمبرز کے پوسٹ بجٹ کنونشن کی صدارت کی جبکہ سینئر نائب صدر محمد ناصر حمید خان، نائب صدر طاہر منظور چوہدری، صوبائی وزیر خزانہ مخدوم ہاشم جوان بخت، چیمبرز کے صدور، عہدیداران اور نمائندوں نے کنونشن کے مختلف سیشنز سے خطاب کیا۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت کاروباری ماحول سازگار بنانے اور معیشت کی بحالی کے لیے مشترکہ اعلامیہ کی سفارشات پر فوری کارروائی کرے۔

مشترکہ اعلامیہ میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ انکم ٹیکس آرڈیننس میں نئی شق 203 (A) کو واپس لینے کا باضابطہ اعلان کیا جائے، فنانس بل 2021ء کے سیکشن (28) 156 کے تحت درآمدکنندگان پر اپنی شپمنٹ کلیئر کرانے کے لئے پیپر ورک مکمل نہ کرنے کی صورت میں بھاری جرمانے عائد کرنے کا فیصلہ بھی واپس لیا جائے۔

اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ وفاقی بجٹ 2021-22ء میں وصولیوں کا ہدف ٹیکس کے دائرہ کو وسعت دے کر پورا کیا جائے، سیلز ٹیکس ریفنڈز کے ساتھ ساتھ انکم ٹیکس ریفنڈز کی ادائیگی کے لئے بھی سینٹرلائزڈ آٹومیٹڈ سسٹم استعمال کیا جانا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیے:

8 ہزار 487 ارب روپے کا وفاقی بجٹ پیش، تنخواہوں اور پنشن میں 10 فیصد اضافہ

پنجاب کا 2 ہزار 653 ارب روپے کا بجٹ پیش

سندھ، 25 ارب روپے خسارے کے ساتھ 1477 ارب کا بجٹ پیش  

خیبرپختونخوا کی تاریخ کا سب سے بڑا ایک ہزار 118 ارب روپے کا بجٹ پیش

بلوچستان کا 584 ارب روپے کا بجٹ پیش، ترقیاتی پروگرام کیلئے 237 ارب روپے مختص

اسی طرح معیشت کے تمام شعبوں کے لئے انرجی ٹیرف کو 7.5 سینٹ فی کلو واٹ تک فکس کر دینا چاہیے تاکہ کاروباری لاگت میں کمی اور ان کی برآمدی صلاحیت میں اضافہ ہو سکے۔ چھوٹی اور درمیانے درجے کی کمپنیوں اور سنگل شٹر شاپس کے لئے ضمانت کی شرط کے بغیر رعایتی قرض کی فراہمی کے لئے خصوصی اقدامات اٹھائے جائیں۔

ملک کے بڑے شہروں میں نئی اور جدید طرز کی لیبارٹریوں کے قیام اور موجودہ لیبارٹریوں کی اَپ گریڈیشن کے لئے وفاقی بجٹ میں خصوصی فنڈز مختص کئے جائیں، کمرشل امپورٹرز کی سہولت اور اس بات کو یقینی بنانے کے لئے کہ خام مال کی درآمد متاثر نہ ہو، درآمدی مرحلے پر ایڈوانس انکم ٹیکس (ود ہولڈنگ ٹیکس) کو ختم کر کے فائنل ٹیکس رجیم نافذ کیا جائے۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ اہم خام مال اور دیگر ضروری مصنوعات (سپیئر پارٹس اور مشینری) کی مناسب سپلائی کو یقینی بنانے کے لئے کمرشل امپورٹرز کو 20 ہزار ڈالرز تک کی ایڈوانس ادائیگی کے عوض درآمد کرنے کی اجازت دی جائے، غیر رجسٹرڈ افراد کو اشیاء کی سپلائی پر 3 فیصد مزید ٹیکس کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔

وفاقی اور صوبائی زیر انتظام قبائلی علاقوں میں قائم صنعتوں کو ٹیکس رعایت دینے کے فیصلے پر نظرثانی کی جانی چاہئے کیونکہ اس سہولت کے غلط استعمال کی وجہ سے ملک کے دیگر حصوں میں کام کرنے والی صنعتوں کی مقابلہ کرنے کی صلاحیت متاثر ہو رہی ہے لہٰذا حکومت کو چاہیے کہ تمام چیمبرز آف کامرس اور دیگر ٹریڈ ایسوسی ایشنز کو انکم ٹیکس اور پراپرٹی ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دے۔

اعلامیہ میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ کاروباری شعبہ سے وابستہ خواتین کے لئے خصوصی طور پر جامع پالیسی تشکیل دی جانی چاہئے، خاص طور پر دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والی گھریلو صنعتوں اور چھوٹے کاروباروں سے منسلک خواتین کے لئے بجٹ میں خصوصی مراعات دی جائیں اور اس شعبے کو خام مال فراہم کرنے والی صنعتوں کو بھی مراعات دی جائیں۔

اس موقع پر وزیر خزانہ مخدوم پنجاب ہاشم جوان بخت نے کہا کہ وفاقی اور پنجاب کے بجٹ کا مقصد ترقی ہے، اس سال ترقیاتی پروگرام کے لئے 560 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جو پچھلے بجٹ سے 66 فیصد زائد ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here