’افغان معیشت کو سانس لینے دیا جائے‘

افغانستان کو معاشی تباہی سے بچانے کیلئے طالبان کے ساتھ بین الاقوامی رابطے ناگزیر ہیں، رہی سہی افغان معیشت بھی تباہ ہو گئی تو عالمی امداد بھی انسانی بحران کو حل نہیں کر سکے گی: اقوام متحدہ، فرانس کا 100 ملین یورو امداد کا اعلان

114

جنیوا: اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیو گوتریس نے افغانستان کو معاشی تباہی سے بچانے کے لیے طالبان کے ساتھ بین الاقوامی رابطوں پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ضروری ہے کہ افغان معیشت کو سانس لینے دیا جائے اور اس تباہی سے بچایا جائے۔

جنیوا میں افغانستان کے لیے ایک ڈونر کانفرنس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انٹونیو گوتریس نے کہا کہ افغانستان کی ڈی فیکٹو حکومت کے ساتھ رابطے کے بغیر افغانستان کے اندر انسانی حقوق کی امداد فراہم کرنا ناممکن ہے، موجودہ حالات میں طالبان کے ساتھ بات چیت کرنا بہت ضروری ہے۔

سیکریٹری جنرل نے کہا کہ 15 اگست کو طالبان کے اقتدار میں آنے سے پہلے ہی انسانی ضروریات کے لیے امداد کی طلب بہت زیادہ بڑھ چکی تھی، انہوں نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ افغان معیشت میں نقد رقم (کیش فلو) کے طریقے تلاش کریں۔

انہوں نے کہا کہ یہ ضروری ہےکہ افغان معیشت کو سانس لینے دیا جائے اور اسے تباہی سے بچایا جائے جس کے افغانستان اور وسیع خطے کے لئے تباہ کن نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ گوتریس نے اقوام متحدہ کے افغانستان میں رہنے اور اشد ضرورت کی امداد پہنچانے کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔

یہ بھی پڑھیے: 

طالبان کے انتباہ کے باوجود جنوبی کوریا کا 380 ہنرمند افغان شہریوں کو کوریا لانے کا فیصلہ

پاکستان کا افغانستان کیلئے امدادی سامان بھیجنے کا فیصلہ، چین کا 3 کروڑ ڈالر امداد کا اعلان

طالبان کی قومی خزانے تک رسائی روک دی گئی، عالمی امداد معطل، 9 ارب ڈالر منجمد  

طالبان کنٹرول کے بعد انڈیا افغانستان تجارت بند، مودی حکومت کو کتنے ارب ڈالر نقصان ہو گا؟

جنیوا کانفرنس کے دوران متعدد ممالک کے نمائندوں نے کہا کہ وہ انسانی حقوق کے خلاف ورزیوں کے خدشات کی وجہ سے طالبان کے ساتھ براہ راست بات چیت نہیں کرنا چاہتے لیکن اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ یہ غلط انداز ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’میں نہیں سمجھتا کہ اگر کسی ملک کے ڈیفیکٹو حکام غلط رویہ اختیار کرتے ہیں تو اس کا حل اس ملک کے عوام کو اجتماعی سزا دینا ہے۔‘

انہوں نے عالمی برادری کو مشورہ دیا کہ طالبان کے ساتھ براہ راست رابطے بشمول امداد کی ترسیل افغانستان کے نئے حکام کو انسانی حقوق کا زیادہ احترام کرنے کی طرف مائل کرنے میں مدد دے سکتی ہے، اس لیے انسانی امداد کا ایک مضبوط پروگرام شروع کرنا اور اسے طالبان کے ساتھ مل کر انسانی حقوق کی پاسداری کے لیے آگے بڑھانے کے لیے استعمال کرنا ضروری ہے۔

اقوام متحدہ کے سربراہ نے کہا کہ اگر افغانستان کی رہی سہی معیشت بھی تباہ ہو گئی تو عالمی امداد بھی اس مسئلے کو حل نہیں کر سکے گی۔ ’میری اپیل ہے کہ ایسا طریقہ کار تلاش کیا جائے جس سے یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ہم افغانستان کی معیشت کو تباہ نہ ہونے دیں۔‘

طالبان وزیر خارجہ کی عالمی برادری سے امداد کی اپیل

ادھر کابل میں نیوز کانفرنس کے دوران طالبان حکومت کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے کہا کہ عالمی برادری کو ان کی امداد پر سیاست نہیں کرنی چاہیے، امریکا پر بھی زور دیا کہ وہ مستقبل کے معاملات پر دل بڑا کرے۔

انہوں نے بین الاقوامی عطیہ دہندگان سے امداد دوبارہ شروع کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ طالبان حکومت افغانستان کے مالی معاملات اور معیشت کو بہتر بنانا چاہتی ہے۔ انہوں نے کروڑوں ڈالر کی ہنگامی امداد کا وعدہ کرنے پر دنیا کا شکریہ ادا کیا۔

فرانس کا امداد کا اعلان

دوسری جانب اہم نیٹو اتحادی فرانس نے افغانستان کے لیے 100 ملین یورو امداد دینے کا اعلان کیا ہے۔

جینوا میں ڈونر کانفرنس کے موقع پر فرانسیسی وزیر خارجہ جین یوز لی ڈریان نے کہا کہ ان کا ملک افغانستان میں انسانی نوعیت کے ہنگامی کاموں کے لیے 100 ملین یورو (118 ملین ڈالر) کا تعاون کرے گا کیونکہ آدھی افغان آبادی خطرے کی زد پر ہے جس میں 40 لاکھ سے زائد خواتین اور ایک کروڑ کے قریب بچے شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اس نئی آزمائش میں افغان عوام کے ساتھ رہیں،    فرانس ان ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے 100 ملین یورو دینے کا وعدہ کرتا ہے۔

ایک ارب 20 کروڑ ڈالر کے وعدے

جنیوا کانفرنس میں افغانستان کے لیے کم از کم 60 کروڑ ڈالر سے زائد جمع کرنے کی کوشش کی گئی کیونکہ عالمی امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ لاکھوں افغانیوں کی زندگی بچانے والی امداد کی فوری ضرورت ہے۔

تاہم کانفرنس کے اختتام پر ڈونر ممالک نے کل 1.2 ارب ڈالر دینے کے وعدے کیے جبکہ یہ معلوم نہیں کہ اس میں سے کتنا سرمایہ اقوام متحدہ کی اپیل کے تحت حاصل ہوا۔

نیوزی لینڈ کا امداد کا اعلان

اس  سے قبل اقوام متحدہ کا ذیلی ادارہ ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی) بھی انتباہ جاری کر چکا ہے کہ خشک سالی، مہنگائی اور سیاسی عدم استحکام کے بعد افغانستان کو بھوک کے بحران کا سامنا ہے لہٰذا سال کے اختتام تک ایک کروڑ 80 لاکھ افراد کی مدد کے لیے 20 کروڑ ڈالر فوری طور پر درکار ہوں گے۔

گزشتہ روز نیوزی لینڈ نے افغانستان کے لئے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر 30 لاکھ ڈالر امداد فراہم کرنے کا اعلان کیا تھا، یہ امدادی رقم اقوام متحدہ کے دو اداروں یونیسیف اور پاپولیشن فنڈ کو فراہم کی جائے گی، یہ دونوں ادارے خواتین اور بچوں کی مدد پر خصوصی توجہ مرکوز کرتے ہوئے افغان عوام کو امداد فراہم کر رہے ہیں۔

چین کا 3 کروڑ ڈالر دینے کا اعلان

واضح رہے کہ حال ہی میں پاکستان نے اپنے مغربی ہمسائے کیلئے اشیائے ضروریہ کہ پہلی کھیپ بھیجی ہے جو خوراک اور ادویات پر مشتمل تھی۔

قبل ازیں 8 ستمبر کو چین نے افغانستان کیلئے 3 کروڑ ڈالر امداد کا اعلان کیا تھا، چینی وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ ’ہم افغانستان کی خودمختاری اور آزادی کا احترام کرتے ہوئے ملکی ترقی کے لیے ان کی مدد کریں گے، خوراک، ویکسین اور ادویات کی مد میں 3 کروڑ ڈالر سے زائد (20 کروڑ یوآن) امداد فراہم کی جائے گی جبکہ ویکسین کی 30 لاکھ خوراکیں بھی عطیہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here