طالبان کی قومی خزانے تک رسائی روک دی گئی، عالمی امداد معطل، 9 ارب ڈالر منجمد  

امریکہ کے فیڈرل ریزرو میں افغانستان کے 7 ارب ڈالر نقد، 1.2 ارب ڈالر سونے کی صورت میں موجود ہیں، باقی رقم بینک آف انٹرنیشل سیٹلمنٹس سمیت دیگر اداروں کے اکاﺅنٹس میں موجود ہے

292

کابل: سیاسی عدم استحکام کے شکار افغانستان کو طالبان کے کنٹرول کے بعد شدید معاشی مسائل کا سامنا ہے جو مستقبل میں مزید گھمبیر ہونے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

عالمی مالیاتی اداروں کی جانب سے افغانستان کو ملنے والی امداد پر یا تو شکوک و شبہات کے بادل منڈلا رہے ہیں یا پھر یہ امداد سرے سے معطل کی جا چکی ہے، آئی ایم ایف نے افغانستان کیلئے امداد عارضی طور پر روک دی ہے جبکہ ورلڈ بینک کا کہنا ہے کہ افغان معیشت کا مستقبل اب مزید غیر یقینی کا شکار ہو گیا ہے۔

امریکا کی جو بائیڈن حکومت نے کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد امریکی بینکوں میں موجود افغان حکومت کے ساڑھے 9 ارب ڈالر منجمد کر دیے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: 

طالبان کے کنٹرول کے بعد پاک افغان تجارت میں نمایاں اضافہ

طالبان نے بھارت کیساتھ تجارت بند کر دی، مودی حکومت کو کتنے ارب ڈالر کا نقصان ہو گا؟

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق امریکی سیکریٹری خزانہ جینیٹ یلین اور محکمہ خزانہ کے فارن ایسیٹس کنٹرول آفس کے عہدیداروں نے افغان حکومت کے اکاؤنٹس منجمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اس حوالے سے کہا گیا ہے کہ ’امریکا میں افغان حکومت کے مرکزی بینک کا کوئی بھی اثاثہ طالبان کیلئے دستیاب نہیں ہو گا۔‘

امریکی انتظامیہ کے ایک عہدیدار نے بھی فرانسیسی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ افغان حکومت کے امریکہ میں موجود کسی بھی مرکزی بینک کے اثاثے طالبان کے حوالے نہیں کیے جائیں گے۔

بلوم برگ کی ایک  رپورٹ کے مطابق امریکا نے طالبان کی حکومت کو پیسے تک رسائی سے روکنے کی کوشش کے طور پر کابل کو نقد ڈالروں کی ترسیل بھی روک دی ہے۔

ادھر افغانستان کے مرکزی بینک کے سربراہ اجمل احمدی نے کہا ہے کہ طالبان کو ملک کے مالی وسائل تک رسائی حاصل نہیں ہو گی۔

اپنی ایک ٹویٹ میں انہوں نے کہا کہ ’افغانستان میں حکومت پر تیزی سے قبضے کے باوجود طالبان کو ملک کے بیشتر نقد اور سونے کے ذخائر تک رسائی حاصل نہیں ہوگی۔

دی افغانستان بینک (ڈی اے بی) کے گورنر اجمل احمدی نے کہا کہ ملک کے مرکزی بینک کے پاس تقریباََ 9 ارب ڈالر کے ذخائر ہیں لیکن اس میں سے زیادہ تر بیرون ملک بینکوں میں موجود ہیں جو طالبان کی پہنچ سے باہر ہیں۔

اجمل احمدی 15 اگست کو طالبان کے کابل میں داخل ہونے کے بعد ملک سے نکل گئے تھے، انہوں نے کہا ہے کہ بین الاقوامی معیارات کے مطابق افغانستان کے زیادہ تر اثاثے محفوظ ہیں۔

اجمل احمدی کا کہنا تھا کہ امریکہ کے فیڈرل ریزرو میں افغانستان کے 7 ارب ڈالر نقد جبکہ 1.2 ارب ڈالر سونے کی صورت میں موجود ہیں جبکہ باقی رقم بینک آف انٹرنیشل سیٹلمنٹس سمیت دیگر اداروں کے اکاﺅنٹس میں موجود ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here