’اب کاروباری ٹیکس دہندگان کو اڑھائی لاکھ روپے سے زائد ادائیگی ڈیجیٹل طور پر کرنا ہو گی‘

معیشت کو دستاویزی بنانے، سپلائی چین کی نگرانی اور ٹیکس نیٹ بڑھانے کیلئے ٹیکس قوانین میں اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں، کاروباری ٹیکس دہندگان کو یکم نومبر 2021ء سے ڈیجیٹیل سسٹم پر منتقل کر دیا جائے گا: ایف بی آر

631

اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کاروباری ٹیکس دہندگان کو یکم نومبر سے ادائیگیوں کیلئے ڈیجیٹیل سسٹم پر منتقل کرنے کیلئے 40 روز کی رعایتی مدت دینے پر غور کر رہا ہے۔

ایف بی آر کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ معیشت کو دستاویزی بنانے، سپلائی چین کی نگرانی اور ٹیکس کے دائرہ کو وسعت دینے کے لئے فیڈرل بورڈ آف ریونیو ٹیکس قوانین (تیسری ترمیم) آرڈیننس 2021ء کے تحت انکم ٹیکس آرڈیننس 2001ء میں اہم تبدیلیاں متعارف کرائی گئی ہیں۔

اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ نئے آرڈیننس میں کمپنیوں کے علاوہ ٹیکس دہندگان کے لئے اڑھائی لاکھ روپے سے زائد اخراجات پر روایتی بینکنگ چینلز کے ذریعے ادائیگیوں کے دائرہ کار کو محدود کر دیا گیا ہے۔

اس کے نتیجے میں آرڈیننس کی شق 21 کی ذیلی شق (اے) شامل کی گئی ہے جس کے تحت اَب کمپنیوں کے لیے یہ لازم ہے کہ وہ اڑھائی لاکھ روپے سے زائد اخراجات کی ادائیگی صرف ڈیجیٹل طریفے سے کریں گی تاہم یوٹیلیٹی بلز، فریٹ چارجز، سفری اخرجات اور ٹیکس اور جرمانے کی ادائیگی نقد یا روایتی بینکنگ ذرائع سے بھی جا سکے گی۔

یہ بھی پڑھیے:

ایف بی آر نے ایمنسٹی سکیم کے تحت اثاثے ظاہر کرنے کیلئے مزید وقت دیدیا

فیٹف کی شرائط پوری کرنے کیلئے ایف بی آر کا رئیل اسٹیٹ ایجنٹس سے تعاون کا مطالبہ

ایف بی آر سسٹم کیساتھ منسلک نہ ہونے والے ریٹیلرز کے ان پٹ ٹیکس کا 60 فیصد روکنے کا فیصلہ

ایف بی آر کا کہنا ہے کہ اس قانون سازی کا مقصد ڈیجیٹل ادائیگیوں کی حوصلہ افزائی کرنا اور پہلے مرحلے میں کارپوریٹ سیکٹر کی طرف سے روایتی لین دین کے طریقوں کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس وقت گرے ٹرانزیکشنز (سیل انوائس کو چھپانا/دبانا اور اوپن/ریوالونگ چیک یا کیش اور غیر تشخیص شدہ ادائیگیوں) جیسے روایتی طریقے کاروباری ویلیو چین میں بہت زیادہ رائج ہیں، تمام کاروباری لین دین کا تقریباََ 99 فیصد نقد یا پھر چیک کی شکل میں ہوتا ہے۔

مزید برآں تھرڈ پارٹی کی ادائیگی منظم اور غیر رسمی شعبے میں بہت زیادہ ہے جس کےلئے کاروباری سپلائی کے لیے ادائیگی کرتے وقت لوگ اپنے بینک اکاﺅنٹس استعمال نہیں کرتے اور اپنے صارفین کو بتاتے ہیں کہ وہ اصولی سپلائر کو براہ راست ادائیگی کریں۔ یہ طریقہ سپلائی چینز میں بہت زیادہ پایا جاتا ہے اور ایک قابل قبول معیار بن گیا ہے۔

اسی طرح کراس چیک ایک سے تین دن کی کلیرنگ پیریڈ کی وجہ سے مالی ناکامی پیدا کرتے ہیں، کراس چیک/اوپن چیک کے ساتھ ادائیگی کا مقصد نہیں بتایا اور نہ ہی انوائس کے ساتھ اس کو منسلک کیا جاتا ہے۔

سپلائی چین کو دستاویزی معیشت کا حصہ بنانے کیلئے ود ہولڈنگ ٹیکس اور ایڈوانس ٹیکس جیسی کوششوں کے باوجود غیر رجسٹرڈ ڈسٹری بیوٹرز اور ریٹیلرز کی تعداد زیادہ ہے جس کی وجہ سے سیلز کو چھپایا جاتا ہے اور انکم ٹیکس ادائیگی سے مکمل گریز کیا جاتا ہے۔

تاہم کچھ کارپوریٹ ٹیکس دہندگان کی جانب سے ڈیجیٹل ادئیگیوں کے نظام پر فوری منتقلی کی مشکلات کی وجہ سے ایف بی آر کارپوریٹ ٹیکس دہندگان کو 40 دن کی رعایتی مدت دینے پر غور کر رہا ہے تاکہ کاروباری ٹیکس دہندگان کو یکم نومبر سے ڈیجیٹل ادئیگی کے نظام پر منتقل کیا جا سکے۔

درمیانی مدت میں وہ روایتی بینکنگ لین دین کے طریقوں کو استعمال کر سکتے ہیں جن میں کراس چیک، کراس بینک ڈرافٹس، کراس پے آرڈرز یا کوئی دوسرا کراس بینکنگ ٹول شامل ہے جس میں ٹیکس دہندگان کے کاروباری بینک اکاﺅنٹ سے رقم کی منتقلی ظاہر ہوتی ہے۔

ایف بی آر نے سٹیٹ بینک آف پاکستان کو بھی کہا ہے کہ وہ ٹیکس قانون کی اس اہم شق کو چلانے کے لیے بینکوں کو ضروری ہدایات جاری کرے اور بینکنگ سیکٹر کی حوصلہ افزائی کرے تاکہ کارپوریٹ کاروباری اداروں کو مقررہ وقت کے اندر ڈیجیٹلائزیشن کی تکمیل کے لیے سہولت فراہم کی جا سکے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here