فیٹف کی شرائط پوری کرنے کیلئے ایف بی آر کا رئیل اسٹیٹ ایجنٹس سے تعاون کا مطالبہ

رئیل اسٹیٹ ایجنٹس کے لئے اردو زبان میں گائیڈ لائنز جاری کی جائیں گی اور معلومات کے اندراج کیلئے ٹیمیں رئیل اسٹیٹ ایسوسی ایشنز کے پاس جائیں گی: ایف بی آر

220

اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام کے لیے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی شرائط پوری کرنے کے ضمن میں ریئل اسٹیٹ ایسوسی ایشنز کا تعاون طلب کر لیا۔

اس حوالے سے ملک بھر کی رئیل اسٹیٹ ایسوسی ایشنز کے نمائندگان نے ایف بی آر ہیڈکوارٹرز میں منعقد ہونے والے ایک اجلاس میں شرکت کی۔

اجلاس کی صدارت چئیرمین ایف بی آر ڈاکٹر محمد اشفاق احمد نے کی، ڈائریکٹر جنرل ڈی این ایف بی پی محمد اقبال بھی میٹنگ میں موجود تھے۔ میٹنگ کے دیگر شرکاء میں چیئرمین فیڈریشن آف رئیل اسٹیٹ پاکستان اعجاز خان، صدر سردار طاہر اور تمام صوبوں سے آئے رئیل اسٹیٹ ایسوسی ایشنز کے عہدے دار شامل تھے۔

اس موقع پر چئیرمین ایف بی آر نے ڈی این ایف بی پی سے منسلک ایف اے ٹی ایف کی شرائط پر روشنی ڈالی اور منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام کے لئے ایف بی آر اور رئیل اسٹیٹ ایجنٹس کے اشتراک پر زور دیا۔

رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے نمائندگان نے ایف بی آر کے قواعد پر عمل درآمد میں درپیش مسائل سے متعلق کچھ سوالات سامنے رکھے۔ اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل غیر مالیاتی کاروبار اور شعبہ جات محمد اقبال نے سوالات کے جوابات دیئے اور کہا کہ جلد ہی ایف بی آر مختصر گائیڈ لائنز اور کسٹمرز سے متعلقہ فارم کو اردو اور انگریزی زبان میں جاری کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ سوالنامہ میں موجود سوالات کو ہر ممکن حد تک مختصر کیا جائے گا اور رئیل اسٹیٹ ایجنٹس کے لئے اردو زبان میں جاری کئے جائیں گے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایف بی آر ڈی این ایف بی پیز کی تعمیلی آسانی کے لئے ٹیمیں رئیل اسٹیٹ ایسوسی ایشنز کے پاس بھیجے گا جو کہ سوالنامہ میں درکار معلومات کے اندراج کے لئے مدد فراہم کریں گی۔

ایف بی آر رئیل اسٹیٹ ایجنٹس سے رابطے کے ذریعے خوشگوار ماحول میں معائنے جاری رکھے گا اور رئیل اسٹیٹ ایسوسی ایشنز کی کمیٹیوں کے ساتھ مسائل کے حل کے لئے اشتراک جاری رکھے گا۔

ڈی جی ڈی این ایف بی پی نے رئیل اسٹیٹ ایسوسی ایشنز کے عہدیداروں کا شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ ڈی این ایف بی پیز اینٹی منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام کے قوانین پر عمل درآمد جاری رکھیں گے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here