ایف بی آر سسٹم کیساتھ منسلک نہ ہونے والے ریٹیلرز کے ان پٹ ٹیکس کا 60 فیصد روکنے کا فیصلہ

نظام سے منسلک نہ ہونے والے ریٹیلرز کی فہرست ایف بی آر ویب سائٹ پر جاری کر دی گئی جو ماہانہ بنیادوں پر اپ ڈیٹ کی جائے گی

167

اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے خود کار رسید تصدیقی نظام (پی او ایس) سے منسلک نہ ہونے والے ریٹیلرز کے اِن پٹ ٹیکس کا 60 فیصد مسترد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ایف بی آر سے جاری بیان کے مطابق خودکار نظام کے تحت بڑے ریٹیلرز کو یکم اگست 2021ء سے اس نظام کے ساتھ منسلک کرنے کا سلسلہ جاری ہے، نشاندہی کے بعد اس نظام سے منسلک نہ ہونے والے ریٹیلرز کی فہرست ایف بی آر کی ویب سائٹ پر اَپ لوڈ کر دی گئی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ 15 ستمبر تک خود کار نظام کے ساتھ منسلک نہ ہونے والے ریٹیلرز کے اگست کے سیلز ٹیکس گوشواروں میں دائر کرنے والے ان پٹ ٹیکس کا 60 فیصد ادا نہیں کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیے: 

برآمدکنندگان کو آسانی فراہم کرنے کیلئے ایف بی آر نے نئی سہولت متعارف کروا دی

زرعی آمدن پر ٹیکس چوری روکنے کیلئے ایف بی آر کی صوبوں کیساتھ اشتراک کی تجویز

ٹیکسٹائل اور لیدر کے 211 ریٹیل برانڈز ایف بی آر کے پوائنٹ آف سیل سسٹم کیساتھ منسلک

ایف بی آر کے مطابق اگر کوئی ریٹیلر یہ سمجھتا ہے کہ وہ بڑے ریٹیلرز کی فہرست میں نہیں آتا تو وہ 10 ستمبر تک کمشنر کو درخواست دے کر فہرست سے خارج ہو سکتا ہے، یہ فہرست ہر ماہ اَپ ڈیٹ کی جائے گی اور جو ریٹیلرز اس فہرست میں موجود رہیں گے ان کے ان پٹ ٹیکس کا 60 فیصد سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کی شق 3 کی ذیلی شق 9 اے کے تحت مسترد کر دیا جائے گا۔

ایک اندازے کے مطابق ملک بھر میں ٹئیر وَن (tier-1) میں شامل ریٹیل آوٹ لیٹس کی تعداد 80 ہزار سے زائد ہے، ان تمام آوٹ لیٹس پر پی او ایس مشینوں کی تنصیب سے سیلز ٹیکس کی مد میں ریونیو میں خاطر خواہ اضافہ ہو سکتا ہے۔

ترجمان ایف بی آر کے مطابق اب تک کاروباری اداروں کی ایک لاکھ 11 ہزار پیمنٹ مشینیں ایف بی آر کے نظام کے ساتھ منسلک ہو چکی ہیں۔ پوائنٹ آف سیل سسٹم سے ٹیکسٹائل اور لیدر کے 211 سے زیادہ ریٹیل برانڈز منسلک ہو چکے ہیں جس میں مزید اضافہ بھی ہو رہا ہے۔

اس نظام کے تحت ریٹیل سٹورز پر خریداری کرتے وقت ہی رسید کی کاپی خود کار نظام کے تحت ایف بی آر کے نظام کا حصہ بن جاتی ہے، ایف بی آر پی او ایس نظام سے متعلقہ شکایات کا ازالہ بھی کر رہا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here