زرعی آمدن پر ٹیکس چوری روکنے کیلئے ایف بی آر کی صوبوں کیساتھ اشتراک کی تجویز

گوشواروں میں زرعی آمدن ظاہر کرنے والوں کو نوٹس بھیجے جائیں تاکہ وہ صوبوں کو واجب الادا ٹیکس ادا کریں، چیئرمین ایف بی آر کا صوبائی حکومتوں کو مراسلہ

207

اسلام آباد: معیشت کو دستاویزی بنانے اور ٹیکس کے دائرہ میں وسعت لانے لیئے وفاقی بورڈ برائے ریونیو (ایف بی آر) نے زرعی آمدن پر ٹیکس چوری کو روکنے کے حوالے سے صوبائی حکومتوں کو باہمی اشتراک کی تجویز پیش کی ہے۔

اس حوالے سے چئیرمین ایف بی آر ڈاکٹر محمد اشفاق نے تمام صوبائی حکومتوں کو مراسلہ جاری کیا ہے جس میں انہوں نے زرعی آمدنی پر قابل ادائیگی ٹیکس کے حوالے سے تکنیکی کمیٹی بنانے کی تجویز پیش کی ہے تاکہ ملکی مفاد میں ٹیکس چوروں کا سدباب ممکن ہو سکے۔

چیئرمین ایف بی آر نے مراسلہ میں لکھا ہے کہ ٹیکس چوری کرنے والے ایف بی آر کے گوشواروں میں زرعی آمدنی پر ٹیکس چھوٹ کے دعوے دار ہوتے ہیں اور پھر صوبائی حکومتوں کو ٹیکس دیتے ہیں اور نہ ہی ایف بی آر کو ٹیکس ملتا ہے۔

انہوں نے کہا ہے انکم ٹیکس آرڈیننس میں درج ہے کہ زرعی آمدن پر ٹیکس میں چھوٹ حاصل ہے لیکن یہ چھوٹ اس وقت حاصل ہو گی جب صوبائی انکم ٹیکس ادا کیا گیا ہو۔

چیئرمین ایف بی آر نے تجویز دی ہے ٹیکس قوانین کے بہتر نفاذ کے لئے ضروری ہے کہ ایسے تمام ٹیکس گزار جنہوں نے زرعی آمدنی گوشواروں میں ظاہر کر رکھی ہے انہیں ایف بی آر کے خود کار نظام سے نوٹس بھیجے جائیں تاکہ وہ صوبوں کو واجب الادا ٹیکس کی ادائیگی یقینی بنائیں۔

مراسلہ میں مزید کہا گیا ہے کہ صوبائی حکومتوں کو ایف بی آر کی یہ پیشکش ملکی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے دی گئی ہے تاکہ زرعی آمدنی پر واجب الادا ٹیکس صوبائی حکومتوں اور ایف بی آر کی طرف سے صرف نظر نہ ہو۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here