لاہور سنٹرل بزنس ڈسٹرکٹ کے پانچ کمرشل پلاٹ نیلام، حکومت کو کتنے ارب کی آمدن ہوئی؟

سنٹرل بزنس ڈسٹرکٹ بغیر قرضے کے شروع کیا گیا، 1500 ارب روپے منافع دو لاکھ 50 ہزار لوگوں کو نوکریاں ملیں گی، فیصل آباد، ملتان اور راولپنڈی میں بھی سنٹرل بزنس ڈسٹرکٹ قائم کئے جائیں گے: ڈاکٹر شہباز گل

653

اسلام آباد: وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور ڈاکٹر شہباز گل نے کہا ہے کہ سنٹرل بزنس ڈسٹرکٹ لاہور کے پانچ پلاٹوں کی نیلامی سے پنجاب حکومت کو ساڑھے 21 ارب روپے آمدن ہوئی ہے۔

جمعرات کو راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) عمران امین کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر شہباز گل نے بتایا کہ سنٹرل بزنس ڈسٹرکٹ اور راوی ریور پروجیکٹ موجودہ حکومت کا منصوبہ ہے، اس منصوبے کے حوالے سے اخبارات کو کروڑوں روپے کے اشتہارات دیئے گئے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ لاہور میں پاکستان کی تاریخ کا پہلا سنٹرل بزنس ڈسٹرکٹ بن رہا ہے، پچھلے چند مہینوں سے اس پر کام جاری ہے، وزیراعظم ذاتی طور پر اس منصوبے کی نگرانی کررہے ہیں۔ یہ منصوبہ سولہ سو ایکڑ پر لاہور کی پرائم لوکیشن پر واقع ہے۔ اب تک سنٹرل بزنس ڈسٹرکٹ کے پانچ پلاٹوں کی نیلامی ہو چکی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: 

والٹن ایئرپورٹ کی اراضی 99 سالہ لیز پر کس کو دی جا رہی ہے؟

لاہور کے والٹن سنٹرل بزنس ڈسٹرکٹ کی زمین کس کی ملکیت، آمدن میں کس کا کتنا حصہ ہو گا؟

شہباز گل کا کہنا تھا کہ نیلامی میں ترکی کی سب سے بڑی کمپنی بگ ارٹر سمیت پانچ کمپنیوں نے کامیابی حاصل کی ہے، 42 کروڑ روپے فی کنال کے حساب سے نیلامی کی گئی ہے، اس نیلامی میں پنجاب حکومت کو 21.58 ارب کی آمدن ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں عوام کو میٹرو بس اور اورنج ٹرین دی گئی جس پر سالانہ 12 ارب روپے سبسڈی دی جا رہی ہے جبکہ قرضوں کی قسطیں الگ اد ا کرنا پڑتی ہیں، جو منصوبے ہم شروع کر رہے ہیں وہ پبلک پرائویٹ پارٹنرشپ کے تحت سرکاری اراضی پر شروع کئے جا رہے ہیں، ہم عوام کو ٹیکہ نہیں لگا رہے۔

معاون خصوصی نے کہا کہ سنٹرل بزنس ڈسٹرکٹ بغیر قرضے کے شروع کیا جا رہا ہے اور اس سے 1500 ارب روپے منافع ہو گا اور دو لاکھ 50 ہزار لوگوں کو نوکریاں ملیں گی، لاہور میں آلودگی پر بھی قابو پانے میں مدد ملے گی، فیصل آباد، ملتان اور راولپنڈی میں بھی سنٹرل بزنس ڈسٹرکٹ قائم کئے جائیں گے۔ان سے حاصل ہونے والی رقم عوامی مفاد کے منصوبوں پر خرچ کی جائے گی۔

ڈاکٹر شہباز گل کا مزید کہنا تھا کہ ہائوسنگ کے شعبہ میں قرضوں کی فراہمی میں تیزی آئی ہے، ہائوسنگ کے شعبہ میں گزشتہ تین مہینے کے دوران 10 ارب روپے کا قرضہ جاری کیا گیا ہے، بلند و بالا عمارتوں سے متعلق نئی پالیسی جلد لائی جائے گی تاکہ شہروں کے بے ہنگم بڑھوتری کو روکا جا سکے۔

اس موقع پر راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کےچیف ایگزیکٹو آفیسر عمران امین نے سنٹرل بزنس ڈسٹرکٹ منصوبے کے خدوخال سے آگاہ کیا۔

واضح رہے کہ سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ لاہور کے کمرشل پلاٹوں کی نیلامی روکنے کیلئے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی گئی تھی تاہم عدالت نے درخواست مسترد کرتے ہوئے اپنے فیصلہ میں قرار دیا کہ حکومت نے غربت کم کرنے اور کاروبار کو فروغ دینے کا منصوبہ بنایا ہے، ایسا حکم جاری نہیں کر  سکتے جس سے سرمایہ کاری کیلئے کیے گئے اقدامات متاثر ہوں۔ درخواست گزار کی ذمہ داری ہے کہ وہ ثابت کرے کہ کوئی بہت ناقابل تلافی نقصان ہوا ہے لیکن وہ کوئی ایسی چیز ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here