لاہور ہائیکورٹ: والٹن ایئرپورٹ کی اراضی پر کمرشل پلاٹوں کی نیلامی روکنے کی درخواست خارج

حکومت نے غربت کم کرنے اور کاروبار کو فروغ دینے کا منصوبہ بنایا ہے، ایسا حکم جاری نہیں کر سکتے جس سے سرمایہ کاری کیلئے کیے گئے اقدامات متاثر ہوں، جسٹس جواد حسن

172

لاہور: لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس جواد حسن نے والٹن ایئرپورٹ اراضی پر کمرشل پلاٹوں کی نیلامی روکنے کی درخواست خارج کر دی ۔

عدالت نے قرار دیا کہ حکومت نے غربت کم کرنے اور کاروبار کو فروغ دینے کا منصوبہ بنایا ہے، ایسا حکم جاری نہیں کر سکتے جس سے سرمایہ کاری کیلئے کیے گئے اقدامات متاثر ہوں۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار کی ذمہ داری ہے کہ وہ ثابت کرے کہ کوئی بہت ناقابل تلافی نقصان ہوا ہے لیکن وہ کوئی ایسی چیز ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: 

والٹن ایئرپورٹ کی اراضی 99 سالہ لیز پر کس کو دی جا رہی ہے؟

لاہور کے والٹن سنٹرل بزنس ڈسٹرکٹ کی زمین کس کی ملکیت، آمدن میں کس کا کتنا حصہ ہو گا؟

عدالت نے قرار دیا کہ یہ طے شدہ قانون ہے کہ عبوری ریلیف دینے سے پہلے عدالت کو یہ بات مدنظر رکھنی چاہیے کہ کوئی عوامی مفاد متاثر نہ ہو، حکومت نے لاہور سنٹرل بزنس اتھارٹی کے ذریعے پاکستان میں غربت کم کرنے اور کاروبار کو فروغ دینے کا منصوبہ بنایا ہے، غیر قانونی کام کی عدم موجودگی میں عدالتی مداخلت حکومت کی جانب سے کاروباری فروغ کے اقدامات کو بری طرح متاثر کرے گی۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ پنجاب حکومت نے لاہور سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایل سی بی ڈی ڈی اے) کو والٹن ایئرپورٹ کی زمین 99 سالہ لیز پر الاٹ کر دی تھی۔ اس حوالے سے لاہور سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ترجمان کا کہنا تھا کہ پرانے والٹن ایئرپورٹ کو شہر کے وسط سے منتقل کرنا انتہائی اہم اقدام ہے، اس طرح کی کاوشیں ملک میں کاروبار اور سرمایہ کاری کے مجموعی کلچر کو تبدیل کرنے میں معاون ثابت ہوں گی۔

عدالتی فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ عدالت ایسا حکم جاری نہیں کر سکتی جس سے حکومت کی جانب سے سرمایہ کاری کے لیے کیے گئے اقدامامت متاثر ہوں، ایسے اقدامات کے ذریعے مداخلت سے حکومت کی جانب سے لاہور میں کاروباری سرگرمیوں کے لیے پیدا کئے گئے مواقع میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے۔

لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ آئین کے ارٹیکل 199 کے تحت درخواستگزار کیسے کسی اتھارٹی سے معلومات مانگ سکتا ہے، آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت عدالت اس میں مداخلت نہیں کر سکتی۔

یاد رہے کہ 16 جون 2021ء کو وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت منعقد ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں والٹن ائیرپورٹ کے مقام پر سنٹرل بزنس ڈسٹرکٹ کے قیام کے بعد معاشی سرگرمیوں سے حاصل ہونے والی آمدنی کی تقسیم کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

اس حوالے سے وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے بتایا تھا کہ والٹن ائیرپورٹ کی کل اراضی میں سے 52 ایکڑ سول ایوی ایشن اتھارٹی جبکہ 70 ایکڑ حکومت پنجاب کی ملکیت ہے، اس لیے فیصلہ کیا گیا ہے کہ آمدنی کا 42.6 فیصد سول ایوی ایشن جبکہ 57.4 فیصد پنجاب حکومت کو ملے گا۔

اس سے قبل 26 فروری 2021ء کو وزیراعظم عمران خان نے لاہور میں والٹن ائیرپورٹ کی جگہ سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ قائم کرنے کے منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا تھا، منصوبے کے بارے میں انہوں نے کہا تھا کہ جب والٹن ایئرپورٹ ڈی نوٹیفائی ہو گا تو اس سے کمرشل ویلیو کی مد میں 6 ہزار ارب روپے کا فائدہ ہو گا۔

سنگ بنیاد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ کے قیام سے کاروباری سرگرمیوں اور زرمبادلہ میں کئی گنا اضافہ ہو گا، پہلے مرحلے میں 1300 ارب روپے آمدن ہو گی جس سے صوبائی و وفاقی حکومت اور ریلوے کی آمدن میں بھی اضافہ ہو گا جبکہ وفاقی حکومت کو 250 ارب روپے ٹیکس حاصل ہو گا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here