پی آئی اے نے کابل سے آئی ایم ایف، پولینڈ اور ترک سفارتی عملے کو نکال لیا

پاکستانی سفارت خانہ کے تعاون سے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے 100، پولینڈ کے سفارت خانہ کے 90 جبکہ ترکی کے سفارت خانہ کے 220 ارکان کو پاکستان منتقل کر دیا گیا

534

اسلام آباد: پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائنر (پی آئی اے) نے کابل میں پاکستانی سفارت خانہ کے تعاون سے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے سٹاف کے 100، پولینڈ کے سفارت خانہ کے 90 جبکہ ترکی کے سفارت خانہ کے 220 ارکان کو پاکستان منتقل کر دیا ہے۔

افغانستان میں پاکستان کے سفیر منصوراحمد خان نے ریڈیو پاکستان کو بتایا کہ کابل میں پاکستان کا سفارت خانہ نہ صرف افغان بلکہ دیگر غیرملکی شہریوں کے انخلاء کیلئے جامع کردار ادا کر رہا ہے، کل (بروز جمعہ) پاکستانی سفارت خانہ نے پی آئی اے کی دو خصوصی پروازوں کے ذریعہ 390 لوگوں کو روانہ کیا۔ آج (ہفتہ) افغان اور ترک شہریوں سمیت مزید 200 سے زائد دیگر غیرملکی شہریوں کو منتقل کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ زیادہ تر پاکستانی شہریوں کو افغانستان سے پاکستان منتقل کر دیا گیا ہے جو باقی رہ گئے ہیں یا جو افغان شہری جانا چاہتے ہیں ہماری کوشش ہو گی کہ انہیں سڑک کے ذریعہ پاکستان روانہ کیا جائے کیونکہ کابل ائیرپورٹ پر اَب سہولیات کا فقدان ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

طالبان کے کنٹرول کے بعد پاک افغان تجارت میں نمایاں اضافہ

طالبان کی قومی خزانے تک رسائی روک دی گئی، عالمی امداد معطل، 9 ارب ڈالر منجمد  

طالبان کنٹرول کے بعد انڈیا افغانستان تجارت بند، مودی حکومت کو کتنے ارب ڈالر نقصان ہو گا؟

پاکستانی سفیر نے کہا کہ سفارت خانہ پہنچنے والے غیرملکی شہریوں کے ٹھہرنے اور ائیرپورٹ تک اُن کیلئے بسوں کا انتظام کیا گیا ہے، بہ حفاظت ائیرپورٹ پہنچانے کیلئے سکیورٹی اور طالبان کے کمانڈروں سے رابطہ کیا جاتا ہے، یہ انتظامات صرف پاکستانی شہریوں کیلئے نہیں بلکہ افغان اور دیگرغیرملکی شہریوں کیلئے بھی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ترکی کے سفارت خانہ کی طرف سے درخواست آئی تھی، آج آئی ایم ایف کے 100 کے قریب لوگ جا رہے ہیں، یہ سارے انتظامات انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کئے کئے جا رہے ہیں۔

پاکستان کے سفیر نے کہا کہ اس وقت پاکستان کا سفارت خانہ مکمل طور پر فعال ہے، دیگرممالک کے سفارت خانے بھی کام کر رہے ہیں تاہم وہ اتنے فعال نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا اندازہ تھا کہ ڈیڑھ سے دو ہزار تک پاکستانی شہری کابل میں موجود تھے جن میں سے 700 کے قریب پاکستانیوں کو منتقل کر دیا گیا ہے، کچھ کو سڑک کے ذریعہ پاکستان روانہ کیا گیا، اس وقت پاکستانی شہریوں کی تعداد بھی تھوڑی رہ گئی ہے۔

منصور احمد خان نے کہا کہ کچھ پاکستانی کابل کے علاوہ افغانستان کے دیگر شہروں میں ہیں لیکن اب حالات ایسے نہیں کہ سب کو جانے کی ضرورت پڑے، سڑکوں پر امن ہے اور بازاروں میں سرگرمیاں شروع ہو گئی ہیں تاہم اس کے باوجود جو لوگ پاکستان جانا چاہتے ہیں ہم اُن کیلئے انتظامات کریں گے۔

افغانستان میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے مقامی اہلکار محمد  ضیاء نے بتایا کہ ’ہم یہاں اپنے آپ کو محفوظ سمجھ رہے ہیں، ہم پاکستانی سفارت خانہ کا شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں جنہوں نے ہمارے لئے بہترین انتظامات کئے۔‘

ترکی کی خاتون شہری اناہیتا نے افغانستان سے محفوظ انخلا پر پاکستان کی حکومت اور کابل میں پاکستانی سفارت خانہ کی معاونت اور انتظامات پر تشکر کا اظہار کیا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here