بجلی کے پیداواری شعبہ میں براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری 90 کروڑ ڈالر سے تجاوز کر گئی

جولائی 2020ء سے جون 2021ء تک تھرمل پاور پروجیکٹس میں 19 کروڑ 46 لاکھ ڈالر، پن بجلی منصوبوں میں 19 کروڑ 95 لاکھ ڈالر اور  کول پاور منصوبوں میں 51 کروڑ 19 لاکھ ڈالر کی براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری ریکارڈ کی گئی

154

اسلام آباد: گزشتہ مالی سال 2020-21ء کے دوران ملک میں بجلی کے پیداواری شعبہ میں براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

سرمایہ کاری بورڈ (بی او آئی) اور سٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی جانب سے اِس حوالہ سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ مالی سال جولائی 2020ء سے لے کر جون 2021ء تک کے دوران بجلی کے پیداواری شعبہ میں براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری کا حجم 90 کروڑ 61 لاکھ ڈالر ڈالر ریکارڈ کیا گیا۔

بجلی کے پیداواری شعبے میں ایف ڈی آئی کی یہ شرح  پیوستہ مالی سال 2019-20ء کے مقابلہ میں 18.35 فیصد زیادہ ہے، جولائی 2019ء سے جون 2020ء تک ملک میں بجلی کے پیداواری شعبہ میں براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری کا حجم 76 کروڑ 56 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے:

پاکستان میں کتنے فیصد گھرانوں کو پانی و بجلی کی سہولتیں میسر ہیں؟

سی پیک کے تحت 7 ارب 70 کروڑ ڈالر سرمایہ کاری سے بجلی کے 4 منصوبے شروع

اعدادوشمار کے مطابق جون 2021ء میں پاور جنریشن کے شعبہ میں براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری کا حجم چار کروڑ 72 لاکھ ڈالر رہا۔

سٹیٹ بینک کے مطابق تھرمل پاور پروجیکٹس میں گزشتہ مالی سال کے دوران 19 کروڑ 46 لاکھ ڈالر کی براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری ہوئی جو پیوستہ مالی سال کے 7 کروڑ 22 لاکھ ڈالر کے مقابلہ میں 168.78 فیصد زیادہ ہے۔

پن بجلی منصوبوں میں گزشتہ مالی سال کے دوران براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری کا حجم 19 کروڑ 95 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیا گیا جو پیوستہ مالی سال کے مقابلہ میں 34.61 فیصد زیادہ ہے، مالی سال 2020ء میں پن بجلی منصوبوں میں براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری کا حجم 14 کروڑ 82 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیا گیا تھا۔

اسی طرح کوئلہ سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں میں گزشتہ مالی سال کے دوران 51 کروڑ 19 لاکھ ڈالر کی براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری ہوئی جو پیوستہ مالی سال کے مقابلہ میں 6.46 فیصد کم ہے، مالی سال 2020ء میں کوئلہ سے بجلی کی پیداوار کے شعبہ میں براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری کا حجم 54 کروڑ 50 لاکھ ڈالر رہا تھا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here