قومی اسمبلی نے کثرت رائے سے آئندہ مالی سال کیلئے 8487 ارب روپے کا بجٹ منظور کر لیا

بجٹ میں محصولات کا ہدف 5829 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے، 3400 ارب سے زائد کا خسارہ ٹیکس اصلاحات، اندرونی و بیرونی معاونت اور کفایت شعاری سے پورا کیا جائے گا

452
اسلام آباد: وزیر خزانہ شوکت ترین قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں تقریر کر رہے ہیں (تصویر: پی آئی ڈی)

اسلام آباد: قومی اسمبلی نے کثرت رائے سے آئندہ مالی سال 22-2021ء کیلئے 8487 ارب روپے کے وفاقی بجٹ کی منظوری دیدی ہے۔

بجٹ منظوری کے موقع پر مسلم لیگ (ن) کے 84 میں سے صرف 14 ارکان ایوان میں حاضر تھے اور 70 غیر حاضر رہے۔ پیپلز پارٹی کے 56 میں سے 54 ارکان ایوان میں موجود تھے جبکہ 2 ارکان کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے باعث غیر حاضر رہے۔

وزیر خزانہ شوکت ترین نے فنانس ترمیمی بل 2021ء قومی اسمبلی میں میں پیش کیا، بعد ازاں قومی اسمبلی نے فنانس بل 2021ء کی کثرت رائے سے منظوری دے دی۔

بجٹ میں محصولات کا ہدف 5829 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے، 3400 ارب سے زائد کا خسارہ ٹیکس اصلاحات، اندرونی و بیرونی معاونت اور کفایت شعاری سے پورا کیا جائے گا۔

حکومت کی جانب سے دودھ اور کھانے پینے کی دیگر اشیاء پر سیلز ٹیکس عائد نہیں کیا گیا، انٹرنیٹ اور موبائل فونز پر بھی ٹیکس عائد کرنے کی تجویز واپس لے لی گئی۔

سرکاری شعبہ کے ترقیاتی بجٹ کا حجم 900 ارب روپے رکھا گیا ہے، وفاقی ٹیکسوں میں صوبوں کا حصہ گزشتہ سال کے 2704 ارب روپے سے بڑھا کر 3411 ارب روپے کر دیا گیا ہے۔ مجموعی محصولات کا حجم 7909 ارب روپے رکھا گیا ہے جو گزشتہ سال کے نظرثانی شدہ 6395 ارب روپے کے مقابلے میں 24 فیصد زیادہ ہے، نان ٹیکس ریونیو میں 22 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: 

پنجاب اور بلوچستان کے آئندہ مالی سال کے بجٹ کثرت رائے سے منظور

گلگت بلتستان، آئندہ مالی سال کے 106 ارب روپے کے بجٹ کی منظوری 

حکومت مجموعی طور پر 682 ارب روپے کی سبسڈی دے گی، احساس پروگرام کے لئے 260 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں، شرح نمو کا ہدف 4.8 فیصد رکھا گیا ہے۔

مقامی طور پر بنائی جانے والی ہزار سی سی تک کی کاروں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں چھوٹ اور سیلز ٹیکس 17 فیصد سے کم کر کے 12.5 فیصد کر دیا گیا ہے جبکہ اس پر ویلیو ایڈڈ ٹیکس کا خاتمہ کر دیا گیا ہے۔

نئے مالی سال کے وفاقی بجٹ میں 1.1 ارب ڈالر کی ویکسین درآمد کئے جانے اور جون 2022ء تک 10 کروڑ لوگوں کو ویکسین لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

اگلے سال کے لئے معاشی ترقی کا ہدف 4.8 فیصد رکھا گیا ہے۔ کامیاب پاکستان پروگرام کے تحت کم آمدن ہاﺅسنگ کی مد میں 20 لاکھ روپے تک سستے قرضے دیئے جائیں گے۔ ہر گھرانے کو صحت کارڈ دیا جائے گا۔ ہر گھرانے کے ایک فرد کو مفت تکنیکی تربیت دی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیے:

پنجاب: بجٹ میں کس شعبے پر کتنا ٹیکس لگا اور کس پر ریلیف ملا؟

فون کال پر ٹیکس عائد، ہزار سی سی تک گاڑیوں، سونے اور چاندی پر ٹیکس میں کمی

ہر کاشت کار گھرانے کو کاشت کے لئے ہر فصل کے لئے ڈیڑھ لاکھ روپے کا سود سے پاک قرضہ دیا جائے گا۔ اسی طرح ٹریکٹر اور مشینی آلات کے لئے دو لاکھ روپے قرض دیا جائے گا۔

ہر شہری گھرانے کو کاروبار کے لئے پانچ لاکھ روپے تک سود سے پاک قرض دیا جائے گا۔ نئے مالی سال کے بجٹ میں حکومت نے اگلے دو سے تین سالوں میں کم سے کم 6 سے 7 فیصد نمو یقینی بنانے کے اہداف کا تعین کیا ہے جس کا مقصد نوجوانوں کو روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع کی فراہمی ہے۔

اس مقصد کے لئے صنعت، برآمدات، ہاﺅسنگ و تعمیرات، کمزور طبقات کے لئے سماجی تحفظ کے پروگرام اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔

زراعت کے شعبے میں جامع منصوبہ بندی کے تحت بیج، کھاد، زرعی قرضے، ٹریکٹر اور مشینری، کولڈ ویئر ہاﺅسز کی تعمیر اور فوڈ پراسیسنگ انڈسٹری میں مدد کی جائے گی۔

آئندہ مالی سال کے بجٹ میں احساس پروگرام کے لئے 260 ارب روپے کے فنڈز مختص کئے گئے ہیں۔ صنعتوں اور برآمدات کے لئے خصوصی کوششیں کی جائیں گی۔ کم آمدن گھرانوں کو اپنا گھر خریدنے یا بنانے میں مدد کے لئے تین لاکھ روپے سبسڈی دی جائے گی، اس مقصد کے لئے بجٹ میں 33 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

مختلف سروسز پر منافع کے کم مارجن اور ود ہولڈنگ کی زیادہ شرح کے تناظر میں آئل فیلڈ سروسز، ویئر ہاﺅسنگ سروسز، مینجمنٹ سروسز، سیکیورٹی سروسز اور ٹریول اینڈ ٹورز سروسز پر ود ہولڈنگ ٹیکس کی شرح کو 8 فیصد سے کم کرکے 3 فیصد کر دیا گیا ہے ۔

موبائل سروسز پر موجودہ ود ہولڈنگ ٹیکس کی شرح کو 12.5 فیصد سے کم کر کے 10 فیصد کر دیا گیا ہے، اور اسے بتدریج 8 فیصد تک کم کر دیا جائے گا۔

یکم جولائی 2021ء سے تمام وفاقی سرکاری ملازمین کو 10 فیصد ایڈہاک ریلیف الاﺅنس دیا جائے گا۔ پینشرز کی پنشن میں بھی 10 فیصد اضافہ ہو جائے گا، اردلی الاﺅنس 14 ہزار روپے ماہانہ سے بڑھا کر 17 ہزار 500 روپے کر دیا گیا ہے۔ گریڈ ایک سے پانچ تک کے ملازمین کا انٹی گریٹڈ الاﺅنس 450 روپے سے بڑھا کر 900 روپے کر دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: 

پنجاب حکومت نے زراعت کے ترقیاتی بجٹ میں 306 فیصد اضافہ کر دیا

آئندہ مالی سال کے بجٹ میں جنوبی پنجاب کیلئے 189 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز مختص

اسی طرح کم آمدن افراد پر مہنگائی کا دباﺅ کو کم کرنے کے لئے کم از کم اجرت 20 ہزار روپے ماہانہ مقرر کی گئی ہے۔ معاشی طور پر کمزور طبقات کی امداد کے لئے احساس پروگرام کے تحت ایک درجن سے زائد پروگراموں کا آغاز کیا گیا ہے جس میں کیش ٹرانسفر، کامیاب جوان، بلاسود قرضے وغیرہ شامل ہیں۔

گردشی قرضے کو کم اور پھر ختم کرنے کے لئے منصوبہ بندی، پرائیویٹ پاور پروڈیوسرز کے تعاون سے گردشی قرضے کی تشکیل نو، بجلی کی زیادہ کھپت والی صنعتوں کے لئے مراعات، لائن لاسز کم کرنے کے لئے بجلی کی ترسیل اور تقسیم کے نظام میں ضروری سرمایہ کاری، الیکٹرک وہیکلز پالیسی کا اعلان اور مجموعی لاگت کم کرنے کے لئے ہائیڈرو اور قابل تجدید توانائی کے ذریعے سستی بجلی کی پیداوار کا حصول شامل ہے۔

نئے مالی سال کے وفاقی بجٹ میں سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام کو مالی سال 2021 کے مقابلہ میں 630 ارب روپے سے بڑھا کر 900 ارب روپے کردیا گیا ہے جس میں کم ترقی یافتہ علاقوں کو ترجیح دی گئی ہے۔

وفاقی بجٹ میں خوراک اور پانی کی دستیابی، توانائی کا تحفظ، روڈ انفراسٹرکچر میں بہتری، چین پاکستان معاشی راہداری پر عملدرآمد میں پیشرفت، خصوصی اقتصادی زونز کی تعمیر اور انہیں فعال بنانے، پائیدار ترقیاتی اہداف، موسمیاتی تبدیلی کے خلاف اقدامات، ٹیکنالوجی کی مدد سے علوم میں پیشرفت اور علاقوں کے مابین پائے جانے والے ترقیاتی فرق کے تدارک کو ترجیحات میں شامل کیا گیا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here