بھارت ایف اے ٹی ایف کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کر رہا ہے، شاہ محمود قریشی

جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کیلئے 63 ایکٹر زمین کی منتقلی مکمل ہو چکی، اگست کے پہلے ہفتے میں سیکریٹیریٹ کا عملی طور پر کام شروع ہو جائے گا، بیان

207

اسلام آباد: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بھارت فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کر رہا ہے، فیٹف کے معاملات کو سلجھانے کیلئے جو کچھ کیا وہ ملکی مفاد میں کیا۔

سوموار کو ایف اے ٹی ایف، افغانستان کی صورت حال اور جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کے حوالے سے ایک بیان میں وزیر خارجہ نے کہا کہ انہوں نے ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے اپنا موقف پوری قوم کے سامنے پیش کر دیا ہے اور مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ کے ساتھ گفتگو میں پاکستان کی تشویش سے آگاہ کر چکے ہی۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ ہندوستان ایف اے ٹی ایف کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کر رہا ہے۔ ایف اے ٹی ایف ایک تکنیکی فورم ہے اسے سیاسی مقاصد کیلئے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ اگر ایف اے ٹی ایف کا مقصد منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسنگ کو روکنا ہے تو ہمارا بھی یہی ہدف ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہم اپنے مفاد کے پیش نظر منی لانڈرنگ اور دہشتگردی کی مالی معاونت کو روکنے کیلئے آگے بڑھتے رہیں گے۔ فیٹف اور ہماری سوچ یکجا ہے وہ اپنے طور پر کام کر رہے ہیں اور ہم اپنے مقاصد کے تحت اس پر عملدرآمد کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے:

گرے لسٹ میں رکھے جانے کے بعد پاکستان نے ایف اے ٹی ایف پر سوالات اٹھا دیے

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کا پاکستان کو گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کا فیصلہ

ایف اے ٹی ایف کی 40 میں سے 31 سفارشات پر عملدرآمد، پاکستان کی درجہ بندی میں بہتری

انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو سالوں میں ہمیں ایف اے ٹی ایف کی جانب سے جو پروگرام دیا گیا اس پر عملدرآمد بہت مشکل تھا لیکن ہم نے کیا، ہم نے چودہ قوانین میں ترامیم کیں اور نئی قانون سازی کی، انتظامی نوعیت کے اقدامات اٹھائے اور ذمہ داران کی نہ صرف نشان دہی کی بلکہ ان کے خلاف کارروائی بھی کی جبکہ پاکستان کی عدلیہ اور انتظامیہ بھی اپنا اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہماری مقننہ نے اپنا ذمہ ادانہ کردار ادا کیا ہے، جہاں تک سفارتی کاوشوں کا تعلق ہے، اس مسئلے پر چین، سعودی عرب، ملائشیا، انڈونیشیا اور خلیجی ممالک نے کھل کر پاکستان کا ساتھ دیا۔

شاہ محمود قریشی نے واضح کیا کہ ہم نے فیٹف کے معاملات کو سلجھانے کیلئے جو کچھ کیا وہ ملکی مفاد میں کیا، اڈے دینے سے انکار ہم نے ملکی مفاد میں کیا اور آئندہ بھی جو فیصلے کریں گے وہ ملکی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے کریں گے۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکی صدر بائیڈن نے کہا کہ ہم نے افغانستان میں ایک کھرب ڈالر خرچ کیے، آرمی کو تربیت دی، ادارے کھڑے کیے، لیکن امریکی رائے عامہ امریکی افواج کے مزید افغانستان میں رکنے کے حق میں نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ فوجی انخلا کا فیصلہ کر چکنے کے بعد بھی امریکی حکومت نے انہیں مالی معاونت جاری رکھنے کا یقین دلایا، جہاں تک امن کا تعلق ہے، تو اس کا فیصلہ افغانوں نے خود مل بیٹھ  کر کرنا ہے، یہ فیصلہ افغانوں نے کرنا ہے کہ وہاں قانون کیسا ہونا چاہیے، کس کو کیا اختیارات حاصل ہوں گے، کس کے کیا حقوق ہوں گے جبکہ پاکستان بطور پڑوسی امن کیلئے دعاگو بھی ہے اور ممکن طور پر مدد بھی کرتا رہے گا۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ ہماری پالیسی بہت واضح ہے ہم افغانستان میں امن و استحکام اور خوشحالی کے خواہش مند ہیں، ہم چاہتے ہیں افغانستان کے ساتھ ہماری تجارت دوگنی ہو۔ افغانوں کے فیصلے ہم نہیں کر سکتے، ہم ان کے فیصلوں کا احترام کر سکتے ہیں، افغان عوام کو فریقین پر معاملات کے تصفیے کیلئے دبائو ڈالنا چاہیے۔

شاہ محمود قریشی نے اہلیان جنوبی پنجاب کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ پہلی مرتبہ ان کیلئے بجٹ میں اس قدر خطیر رقوم رکھی گئی ہیں، اس بات کو یقینی بنایا گیا ہے کہ جنوبی پنجاب کا بجٹ اسی علاقے کی ترقی پر خرچ ہو۔ سابق ادوار میں 33 فیصد آبادی پر محض 17 فیصد ترقیاتی فنڈز خرچ ہوتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کا سنگ بنیاد وزیراعظم عمران خان رکھ چکے ہیں۔ کل ایڈیشنل چیف سیکرٹری جنوبی پنجاب اور دیگر سیکریٹریز کے ساتھ تفصیلی ملاقات ہوئی، مجھے پورا شیڈول دکھایا گیا جس کے مطابق جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کیلئے 63 ایکٹر زمین کی منتقلی مکمل ہو چکی ہے، اگست کے پہلے ہفتے میں جنوبی پنجاب سیکریٹیریٹ کا عملی طور پر کام شروع ہو جائے گا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here