گرے لسٹ میں رکھے جانے کے بعد پاکستان نے ایف اے ٹی ایف پر سوالات اٹھا دیے

بعض قوتیں چاہتی ہیں کہ پاکستان کے سر پر تلوار لٹکتی رہے، اس بات کا تعین کرنا ہو گا کہ ایف اے ٹی ایف تکنیکی فورم ہے یا سیاسی؟ یا اس فورم کو سیاسی مقاصد کیلئے تو استعمال نہیں کیا جا رہا؟

350

اسلام آباد: پاکستان کو بدستور گرے لسٹ میں رکھے جانے کے بعد وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) پر سوالات اٹھا دیے۔

ہفتہ کو ایک ایک بیان میں وزیر خارجہ نے کہا کہ اس بات کا تعین کرنا ہو گا کہ ایف اے ٹی ایف تکنیکی فورم ہے یا سیاسی؟ یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ اس فورم کو سیاسی مقاصد کیلئے تو استعمال نہیں کیا جا رہا؟

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ جہاں تک تکنیکی پہلوؤں کا تعلق ہے تو پاکستان کو 27 نکات دیے گئے، وہ (ایف اے ٹی ایف) خود تسلیم کر رہے ہیں کہ 27 میں سے 26 نکات پر پاکستان نے مکمل عمل درآمد کر لیا ہے۔

واضح رہے کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کا ورچوئل اجلاس 21 جون سے 25 جون تک پیرس میں جاری رہا جس میں پاکستان کے بارے میں ایشیا پیسیفک گروپ (اے پی جی) کی رپورٹ پر غور کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے: 

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کا پاکستان کو گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کا فیصلہ

کیا ایف اے ٹی ایف کا فیصلہ پاکستان کو معاشی طور پر مزید کمزور کرنے کی سازش ہے؟

ایف اے ٹی ایف کی 40 میں سے 31 سفارشات پر عملدرآمد، پاکستان کی درجہ بندی میں بہتری

جمعہ کو دو روزہ اجلاس کے بعد ایف اے ٹی ایف کے صدر مارکوس پلئیر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ مجموعی طور پر پاکستان کی پیشرفت پر اطمینان ہے لیکن پاکستان کو سزائوں کا نظام بہتر بنانا ہو گا اور اقوام متحدہ کے نامزد کردہ 1373 دہشت گردوں کو سزائیں دینا ہوں گی، اس کے علاوہ ایکشن پلان کی آخری شرط سے منسلک 6 نکات پر عمل کرنا ہو گا۔

فیٹف کے صدر نے کہا کہ پاکستان تاحال کئی شعبوں میں ایف اے ٹی ایف کے عالمی سطح کے معیارات پر مؤثر عمل درآمد میں ناکام رہا ہے، اس کا مطلب ہے کہ منی لانڈرنگ کے خدشات اب بھی موجود ہیں، اسی لیے ایف اے ٹی ایف پاکستانی حکومت کے ساتھ ان شعبوں میں کام کر رہا ہے جہاں بہتری کی ضرورت ہے۔

تاہم وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ ایف اے ٹی ایف ایکشن پلان کے 27 میں سے 26 نکات پر مکمل عمل درآمد کے بعد پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھنے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ 27ویں نکتے پر بھی کافی حد تک پیش رفت ہو چکی ہے اور مزید کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

’میری نظر میں ایسی صورت حال میں پاکستان کو گرے لسٹ میں رہنے اور رکھنے کی کوئی گنجائش نہیں بنتی۔ بعض قوتیں چاہتی ہیں کہ پاکستان کے سر پر تلوار لٹکتی رہے، میں یہ بھی واضح کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ ہم نے جو بھی اقدامات اٹھائے وہ اپنے مفاد کو پیش نظر رکھتے ہوئے اٹھائے۔‘

مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہمارا مفاد یہ ہے کہ منی لانڈرنگ نہیں ہونی چاہیئے۔ پاکستان کی منشاء یہ ہے کہ ہم نے دہشت گردی کی مالی معاونت کا تدارک کرنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جو بات پاکستان کے مفاد میں ہے وہ ہم کرتے رہیں گے۔

واضح رہے کہ 5 جون کو منی لانڈرنگ کے حوالہ سے ایشیا و بحرالکاہل گروپ (اے پی جی) نے قرار دیا تھا کہ تکنیکی عمل درآمد میں پاکستان نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے 40 میں سے 31 سفارشات کی پیروی کی ہے۔

اے جی پی کی رپورٹ میں اس بات کو تسلیم کیا گیا کہ پاکستان نے دوسری باہمی تجزیاتی فالو اَپ رپورٹ میں تکنیکی پیروی کی خامیوں کو دور کرنے میں نمایاں پیشرفت کی ہے۔ نتایج سے اس امر کی عکاسی بھی ہوتی ہے کہ پاکستان انسداد منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے سدباب کیلئے وضع کردہ عالمگیر معیار پر عمل درآمد پائیدار بنیادوں پر مکمل کر رہا ہے۔ رپورٹ سے ان اہداف کے حصول کیلئے بہتر حکومتی طرز عمل اور حکمت عملی کی عکاسی بھی ہوتی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here