ایف اے ٹی ایف کی 40 میں سے 31 سفارشات پر عملدرآمد، پاکستان کی درجہ بندی میں بہتری

فیٹف کی 40 میں سے 31 سفارشات پر کافی حد تک عمل درآمد کے نتیجے میں پاکستان کو اب ایشیا پیسیفک گروپ کی توسیع شدہ سے ’فالو اَپ فہرست‘ میں شامل کر لیا گیا ہے، ایشیا پیسیفک گروپ

900

اسلام آباد: منی لانڈرنگ کے حوالہ سے ایشیا و بحرالکاہل گروپ (اے پی جی) نے قرار دیا ہے کہ تکنیکی عمل درآمد میں پاکستان نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے 40 میں سے 31 سفارشات کی پیروی کی ہے۔

اے جی پی کی رپورٹ میں اس بات کو تسلیم کیا گیا ہے کہ پاکستان نے دوسری باہمی تجزیاتی فالو اَپ رپورٹ میں تکنیکی پیروی کی خامیوں کو دور کرنے میں نمایاں پیشرفت کی ہے۔

وزارت خزانہ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق منی لانڈرنگ پر ایشیا و بحرالکاہل گروپ (اے پی جی) نے پاکستان کی دوسری باہمی تجزیاتی فالو اَپ رپورٹ جاری کر دی ہے۔

رپورٹ کے مطابق تکنیکی عمل درآمد میں پاکستان نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی 40 میں سے 31 سفارشات کی پیروی کی ہے۔ ان نتائج سے فیٹف ایکشن پلان سے متعلق پاکستان کے خلوص نیت اور عزم کی عکاسی ہوتی ہے۔

نتایج سے اس امر کی عکاسی بھی ہوتی ہے کہ پاکستان انسداد منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے سدباب کیلئے وضع کردہ عالمگیر معیار پر عمل درآمد پائیدار بنیادوں پر مکمل کر رہا ہے۔ رپورٹ سے ان اہداف کے حصول کیلئے بہتر حکومتی طرز عمل اور حکمت عملی کی عکاسی بھی ہوتی ہے۔

ایف اے ٹی ایف کی تاریخ میں پہلی بار اتنی کم مدت میں 21 سفارشاتی نکات میں بہتری آئی ہے۔ ایف اے ٹی ایف کی باہمی تجزیاتی رپورٹ (ایم ای آر) کا دائرہ ہائے کار دو شعبہ جات یعنی تکنیکی و قانونی انسٹرومنٹ (40 فیٹف سفارشات) اور موثریت کے مظاہر (11 فوری نتائج) پر مبنی ہے۔

پہلی باہمی تجزیاتی رپورٹ کا اطلاق اکتوبر 2019ء میں ہوا تھا جس میں تکنیکی پیروی کے شعبہ میں پاکستان نے 40 میں سے 10 سفارشات پر عمل کیا۔ تجزیاتی رپورٹ کے اطلاق کے بعد فیٹف نے پاکستان کو پوسٹ آبزرویشن میں رکھا جس کی تاریخ فروری 2021ء میں ختم ہو گئی ہے۔

اس عرصہ میں پاکستان نے اہم قانونی اصلاحات کیں، وفاقی اور صوبائی سطح پر تمام قواعدوضوابط کے تحت بالترتیب 14 اور تین قوانین لاگو کر دئیے گئے۔ ان قوانین سے نہ صرف پاکستان میں نظام مضبوط ہوا بلکہ پائیداریت میں بھی اضافہ ہوا۔

پاکستان نے یکم اکتوبر 2020ء کو تکنیکی پیروی کی رپورٹ فیٹف کو فراہم کی تھی، اے پی جی نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ پاکستان نے دوسری باہمی تجزیاتی فالو اَپ رپورٹ میں تکنیکی پیروی کی خامیوں میں نمایاں پیشرفت کی ہے اور 40 میں سے 31 سفارشات پر عمل درآمد کیا گیا۔

پاکستان نے اگلی فالو اَپ رپورٹ میں ایشیا و بحرالکاہل گروپ سے مزید چار نکات کی دوبارہ ریٹنگ کی درخواست کی ہے، گروپ ابھی اس رپورٹ کا جائزہ لینے کے عمل میں ہے۔

تکینکی اَپ گریڈ سے ایف اے ٹی ایف کی باہمی تجزیاتی رپورٹ (ایم ای آر) کے عمل میں 11 فوری نتائج کی موثریت کی عکاسی ہو رہی ہے۔ نمایاں پیش رفت کے بعد اے پی جی نے پاکستان کو ’انہانسڈ سے انہانسڈ فالو اَپ‘ میں ڈالنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ادھر ایک ٹویٹ میں وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر نے کہا ہے کہ پاکستان نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی 40 میں سے 31 سفارشات پر عملدرآمد کر دیا ہے، دو سال سے بھی کم عرصے میں کسی بھی ملک کی طرف سے درجہ بندی میں بہتری ایف اے ٹی ایف کی تاریخ میں ایک مثال ہے۔

حماد اظہر کا کہنا تھا کہ پاکستان نے 40 میں سے 31 ایف اے ٹی ایف سفارشات (ایم ای آر تکنیکی تعمیل) پر عمل درآمد کر لیا ہے۔ یہ ایف اے ٹی ایف میں ہونے والی سکروٹنی کے ساتھ ساتھ ہمارا موجودہ متوازی ایکشن پلان ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف کی تاریخ میں کسی بھی ملک کی طرف سے دو سال سے بھی کم عرصہ میں 20 درجہ کا اضافہ ایک مثال ہے۔ یہ 14 وفاقی اور تین صوبائی قوانین کے ساتھ متعلقہ قواعد میں بڑی قانونی اصلاحات اور20 وزارتوں اور اداروں کی ٹیم کی بھرپور کوششوں کا نتیجہ ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here