’پاکستان فیٹف کے نکات پورے کر چکا، مزید گرے لسٹ میں رکھنے کا جواز باقی نہیں رہتا‘

اگر پاکستان پر محض ایک تلوار لٹکانا مقصود ہے تو یہ اور بات ہے، بھارت ایف اے ٹی ایف کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کرنا چاہتا ہے، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی

292

اسلام آباد: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے ایکشن پلان کے تمام تکنیکی لوازمات پورے کر چکا ہے، اس لیے پاکستان کو مزید گرے لسٹ میں رکھنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا۔

بدھ کو ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے اپنے ایک بیان میں وزیر خارجہ نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف ایک ٹیکنیکل فورم ہے، پاکستان کو 27 نکاتی ایکشن پلان دیا گیا تھا جس میں سے 26 پر کام مکمل کر چکے ہیں جبکہ 27ویں نکتے پر بھی بھرپور کام ہو چکا ہے، اس صورت حال میں پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ اگر پاکستان پر محض ایک تلوار لٹکانا مقصود ہے تو یہ اور بات ہے، دیکھتے ہیں کہ حالیہ اجلاس میں پاکستان کے بارے میں کیا فیصلہ ہوتا ہے۔ بھارت ایف اے ٹی ایف کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کرنا چاہتا ہے، بھارت کو اس فورم کے سیاسی استعمال کی اجازت نہیں ملنی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیے:

کیا ایف اے ٹی ایف کا فیصلہ پاکستان کو معاشی طور پر مزید کمزور کرنے کی سازش ہے؟

ایف اے ٹی ایف کی 40 میں سے 31 سفارشات پر عملدرآمد، پاکستان کی درجہ بندی میں بہتری

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو مزید گرے لسٹ میں رکھنا نامناسب ہو گا کیونکہ پاکستان نے عالمی رائے اور قومی مفادات کو پیش نظر رکھتے ہوئے اہم فیصلے کیے اور دیگر ممالک کو اعتماد میں لیا جبکہ وزیر اعظم عمران خان نے اپنی سطح پر مختلف ممالک کی قیادت سے رابطے کیے، جو قانون سازی درکار تھی وہ ہم نے کی۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان نے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت روکنے کیلئے ٹھوس اقدامات کیے۔ گرے لسٹ کا تحفہ ہمیں ورثے میں ملا، ہماری حکومت آنے سے پہلے پاکستان گرے لسٹ میں جا چکا تھا، تاہم ہم نے پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے کیلئے ہر ممکن کوشش کی ہے۔

مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ آج دنیا اعتراف کر رہی ہے کہ ایسے ٹھوس اقدامات پاکستان میں پہلے کسی حکومت نے نہیں اٹھائے۔ میری نظر میں پاکستان ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد کر چکا ہے، وزارتِ خارجہ اپنا واضح موقف پیش کر چکی ہے اور بہت سے ممالک پاکستان کے موقف کو تسلیم بھی کر چکے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں پاکستان گرے لسٹ سے نکل کر وائٹ لسٹ میں آ جائے۔

واضح رہے کہ 5 جون کو منی لانڈرنگ کے حوالہ سے ایشیا و بحرالکاہل گروپ (اے پی جی) نے قرار دیا ہے کہ تکنیکی عمل درآمد میں پاکستان نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے 40 میں سے 31 سفارشات کی پیروی کی ہے۔

اے جی پی کی رپورٹ میں اس بات کو تسلیم کیا گیا کہ پاکستان نے دوسری باہمی تجزیاتی فالو اَپ رپورٹ میں تکنیکی پیروی کی خامیوں کو دور کرنے میں نمایاں پیشرفت کی ہے۔ نتایج سے اس امر کی عکاسی بھی ہوتی ہے کہ پاکستان انسداد منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے سدباب کیلئے وضع کردہ عالمگیر معیار پر عمل درآمد پائیدار بنیادوں پر مکمل کر رہا ہے۔ رپورٹ سے ان اہداف کے حصول کیلئے بہتر حکومتی طرز عمل اور حکمت عملی کی عکاسی بھی ہوتی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here