ساڑھے 3 ارب ڈالر کے مقامی اور بین الاقوامی اجارہ سکوک کے اجراء کی منظوری

340

اسلام آباد: وفاقی کابینہ نے ساڑھے تین ارب ڈالر مالیت کے مقامی اور بین الاقوامی اجارہ سکوک کے اجراء کی منظوری دے دی ہے جس کا مقصد آئندہ مالی سال کے بجٹ خسارہ کو پورا کرنے کیلئے ایک کھرب 80 کروڑ روپے قرض کا بندوبست کرنا ہے۔

ذرائع کے مطابق قرض کے حصول کے لیے حکومت جن اثاثوں کو بطور زرِضمانت رکھوانا چاہتی ہے ان کی فہرست پر نظرثانی کرتے ہوئے فاطمہ جناح پارک کو فہرست سے نکال دیا گیا ہے تاہم تین موٹر ویز، تین ائیرپورٹ اور اسلام آباد ایکسپریس وے کو گروی رکھا جائے گا۔

منگل کو ہونے والے اجلاس میں وزارت خزانہ نے وفاقی کابینہ کو درخواست کی تھی کہ مقامی اور بین الاقوامی مارکیٹ میں اجارہ سکوک کے اجراء کی اجازت دے تاکہ بجٹ سپورٹ کے لیے قرض کا حصول ممکن بنایا جا سکے، وزارت خزانہ کے مطابق اجارہ سکوک کے اجراء سے ملک میں اسلامک بینکنگ انڈسٹری کو بھی فروغ حاصل ہو گا۔

یہ بھی پڑھیے: 

سکوک بانڈز کے اجراء کیلئے ائیرپورٹس اور موٹرویز گروی رکھنے کی منظوری

پاکستان عالمی کیپٹل مارکیٹ میں داخل، یورو بانڈز کے ذریعے 2.5 ارب ڈالر حاصل

ایس ای سی پی: خواتین کی مالیاتی شمولیت کے فروغ کیلئے جینڈر بانڈز کے اجراء کی گائیڈ لائنز جاری

وزارت خزانہ نے مقامی اور بین الاقوامی مالیاتی مارکیٹ میں اجارہ سکوک بانڈز کے بلا رکاوٹ اجراء کے لیے آزاد اثاثوں کی جلد از جلد نشاندہی پر زور دیا تھا۔ اس طریقے سے حاصل کیا گیا قرض روایتی بانڈز پر حاصل کیے گئے قرض کی نسبت حکومت کو سستا رہے گا۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ خزانہ ڈویژن اب تک مقامی مارکیٹ میں 32 اور بین الاقوامی مارکیٹ میں 4 اجارہ سکوک بانڈز کا اجراء کر چکی ہے جن کی مالیت ایک ہزار 573 ارب روپے یا 3.6 ارب ڈالر بنتی ہے۔ حکومت نے مارچ 2019ء اور مئی 2020ء میں 200 ارب روپے مالیت کے دو انرجی بانڈز کا اجراء بھی کیا ہے۔

ایم 2 موٹر وے کو جنوری 2005ء میں بین الاقوامی اجارہ سکوک کیلئے بطور زرضمانت استعمال کیا گیا تھا، بعد ازاں دسمبر 2014ء میں اسے تین حصوں میں تقسیم کر دیا گیا، اب ایم ون، ایم تھری اور ایم ٹو کا اسلام آباد چکوال سیکشن کسی قسم کی ضمانتی رکاوٹ سے آزاد ہیں۔

اس کے علاوہ حکومت نے مقامی مارکیٹ میں اجارہ بانڈز کے اجراء کیلئے مارچ 2020ء میں جناح ائیرپورٹ کراچی کی اراضی کو بطور زرضمانت رکھوایا، اس اثاثے کو 636 ارب روپے مالیت کے ڈومیسٹک اجارہ سکوک کے اجراء اور 59 ارب روپے مالیت کے اسلامک نیا پاکستان سرٹیفکیٹس کی تشکیل کے لیے استعمال کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق مقامی مارکیٹ میں سکوک کے اجراء سے حکومت 2023ء تک شریعہ کے مطابق بانڈز کے اجراء کا 10 فیصد کا ہدف پورا کرنے میں کامیاب ہو جائے گی جو دسمبر 2020ء تک محض 3.8 فیصد تھا۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ فنانس ڈویژن نے آئندہ مالی سال کے دوران اندرونی اور بیرونی اخراجات کے لیے ضروری 1.2 کھرب ڈالر میں سے 3.5 ارب ڈالر اکٹھا کرنے کی تجویز دی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here