سی پیک کو متبادل روٹ فراہم کرنے والی دو رابطہ سڑکوں کی تعمیر کی منظوری

ایکنک اجلاس کے دوران 6 ہائی ویز، بلوچستان میں تین ڈیموں کی تعمیر اور سیالکوٹ میں یونیورسٹی آف اپلائیڈ انجینئرنگ اینڈ ایمرجنگ ٹیکنالوجیز کے قیام کیلئے اربوں روپے کے فنڈز کی منظوری دے دی گئی

1425

اسلام آباد: قومی اقتصادی کونسل کی انتظامی کمیٹی (ایکنک) نے خضدار کچلاک ہائی وے، شندور گلگت روڈ سمیت شاہراہوں اور آبی ذخائر کے مختلف منصوبوں کی منظوری دیدی۔

ایکنک کا اجلاس وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین کی زیرصدارت منعقد ہوا جس میں وزیر توانائی حماد اظہر، مشیر تجارت عبدالرزاق داﺅد، مشیر ادارہ جاتی اصلاحات ڈاکٹر عشرت حسین اور دیگر اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔

اجلاس میں سی پیک کو متبادل روٹ فراہم کرنے کیلئے دو بین الصوبائی رابطہ سڑکوں (گلگت شندور روڈ اور استور شندور) کی تعمیر کی منظوری دی گئی جن کی مجموعی لاگت 70 ارب روپے سے زائد ہے اور جو گلگت بلتستان کو آزاد کشمیر اور خیبر پختونخوا کے ساتھ ملائیں گی۔

ایکنک اجلاس میں بین الصوبائی رابطہ کاری، اقتصادی راہداری (گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر، استور ویلی روڈ کی توسیع) اور مجموعی طور پر 121 کلو میٹر طویل سڑکوں کی تعمیر کی منظوری دی گئی جس پر 19.195 ارب روپے لاگت آئے گی، یہ منصوبہ وزارت امور کشمیر و گلگت بلتستان کی جانب سے سپانسر کیا جائے گا جو تین سال کے عرصہ میں مکمل ہو گا۔

یہ بھی پڑھیے:

سی پیک کے تحت 7 ارب 70 کروڑ ڈالر سرمایہ کاری سے بجلی کے 4 منصوبے شروع

سی پیک کے تحت چار اقتصادی زونز پر کام جاری، 14 لاکھ نوکریاں پیدا ہوں گی

دیامیر بھاشا اور مہمند ڈیم کی فنانسنگ کیلئے پاکستان کے پہلے گرین یورو بانڈ کا اجراء

اجلاس میں 216 کلومیٹر طویل شندور گلگت روڈ کے پی سی وَن منصوبہ کی بھی منظوری دی گئی جس پر 49.946 ارب روپے کی لاگت آئے گی۔ اس منصوبے کی سڑک گلگت بلتستان میں واقع ہے اور یہ منصوبہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی مکمل کرے گی۔

اجلاس میں للہ انٹرچینج براستہ پنڈ دادنخان تا جہلم 128 کلو میٹر روڈ پروجیکٹ کی منظوری دی گئی جس کی لاگت 12.760 ارب روپے ہے، اس منصوبے کے تحت دو بائی پاس اور نالوں پر پل اور کلوٹس تعمیر کئے جائیں گے اور یہ منصوبہ تین سال کے عرصہ میں مکمل ہو گا۔

اجلاس میں ایم 8 (گوادر رتو ڈیرو) سے ایرانی سرحد (کرمب، بلوچستان) تک 115 کلومیٹر طویل تربت منڈ روڈ کی دوبارہ تعمیر کی منظوری دی گئی جس پر 10.461 ارب روپے لاگت آئے گی، یہ منصوبہ محکمہ مواصلات بلوچستان کے تحت دو سالوں میں مکمل ہو گا۔

ایکنک نے بلوچستان کے ضلع پنجگور اور آواران میں 228 کلومیٹر طویل پنجگور- گیچک – آواران سڑک کی تعمیر کی منظوری دے دی جس پر 14.68 ارب روپے لاگت آئے گی۔ سیکورٹی اخراجات، اراضی کے حصول اور ڈیزائن کنسلٹنسی کے اخراجات ختم کئے جانے کے بعد اس منصوبے کی منظوری دی گئی ہے۔

بلوچستان حکومت اس منصوبے پر کام کرنے والے عملے کی سکیورٹی کی ذمہ دار ہو گی، منصوبے کیلئے اراضی بلوچستان کی حکومت اپنے وسائل سے خرید کر دے گی اور اس منصوبے کیلئے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام سے فنڈز جاری ہوں گے۔ حکومت بلوچستان آئندہ بجٹ میں اس روڈ کی دیکھ بھال کیلئے پانچ ارب روپے مختص کرنے کی ذمہ دار ہو گی۔

ایکنک نے قومی شاہراہ کے خضدار- کچلاک حصے پر 330.52 کلومیٹر طویل سڑک کو دو رویہ کرنے کی بھی منظوری دے دی، اس کے پی سی وَن کی لاگت 81.582 ارب روپے ہے۔

ایکنک اجلاس میں سندھ ارلی لرننگ انہانسمنٹ ٹرانسمیشن پراجیکٹ کی منظوری دی گئی جس پر 27.162 ارب روپے لاگت آئے گی۔ اس منصوبے سے سندھ کے 12 اضلاع کو فائدہ ہو گا اور یہ 5 اپریل 2026ء کو مکمل ہو گا۔

اجلاس میں 11 ارب 78 کروڑ روپے سے زائد لاگت کے ضلع کیچ میں سمی کلاگ میں گشکور ڈیم کی تعمیر کی منظوری دی گئی، اس ڈیم میں 4 ہزار 580 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کیا جا سکے گا اور اس سے 13 لاکھ 80 ہزار ایکڑ اراضی سیراب ہو گی جبکہ یہ منصوبہ 2025ء میں مکمل ہو گا۔

اس کے علاوہ پنجگور ڈیم منصوبے کی بھی منظوری دی گئی جس پر لاگت 12 ارب 87 کروڑ روپے آئے گی۔ اس منصوبے کو وزارت آبی وسائل سپانسر کرے گی اور یہ دریائے رخشاں پر بنایا جائے گا۔ 14 ارب 86 کروڑ روپے کی لاگت سے آواران ڈیم کے منصوبے کی منظوری بھی دی گئی۔

سیالکوٹ میں یونیورسٹی آف اپلائیڈ انجینئرنگ اینڈ ایمرجنگ ٹیکنالوجیز کے قیام کی منظوری دی گئی جس پر 16 ارب 64 کروڑ روپے سے زائد لاگت آئے گی اور یہ منصوبہ پنجاب کے سالانہ ترقیاتی پروگرام 2021-22ء کے ذریعے فنانس کیا جائے گا۔

ایکنک نے کراچی میں آئی ٹی پارک کے قیام کی منظوری دی جس کی کل لاگت 31 ارب 19 کروڑ 90 لاکھ روپے سے زائد ہے جبکہ یونیورسٹی آف انجینئرنگ و ایمرجنگ ٹیکنالوجیز کے فیز وَن کی اصولی منظوری بھی دی گئی جس پر 23 ارب 55 کروڑ 10 لاکھ روپے لاگت آئے گی۔ ایکنک نے ہدایت کی کہ اس منصوبے کو تین ماہ میں مزید واضح کیا جائے اور ایکنک کو اس حوالے سے آگاہ کیا جائے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here