دیامیر بھاشا اور مہمند ڈیم کی فنانسنگ کیلئے پاکستان کے پہلے گرین یورو بانڈ کا اجراء

گرین یورو (انڈس بانڈ) سے 50 کروڑ ڈالر کی فنانسنگ کے حصول کا ہدف مقرر، غیرمعمولی پذیرائی سے پاکستان میں بڑے منصوبوں کی فنانسنگ کیلئے نئی راہیں کھل گئی ہیں

385
اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان دیامیر بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم کی فنانسنگ کیلئے گرین یورو (انڈس بانڈ) کے اجراء کی تقریب سے خطاب کر رہے ہیں (تصویر: پی آئی ڈی)

اسلام آباد: دیامیر بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم کی فنانسنگ کیلئے واپڈا نے گرین یورو (انڈس بانڈ) کا اجراء کر دیا، اس بانڈ سے 50 کروڑ ڈالر کی فنانسنگ کے حصول کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

یہ بانڈ ریاستی ضمانت کی بجائے واپڈا کی مستحکم مالی پوزیشن کی بنیاد پر جاری کیا گیا ہے جس میں دنیا بھر سے بڑے مالیاتی اداروں نے غیرمعمولی دلچسپی ظاہر کی ہے جو پاکستان اور واپڈا کی مستحکم مالی پوزیشن پر اعتماد کی مظہر ہے، گرین یورو بانڈ کی غیرمعمولی پذیرائی سے پاکستان میں بڑے منصوبوں کی فنانسنگ کیلئے نئی راہیں کھل گئی ہیں۔

سوموار کو گرین یورو بانڈ کے اجراء کی تقریب میں وزیراعظم عمران خان نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی، اس موقع پر انہوں نے چیئرمین واپڈا اور اُن کی ٹیم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ حکومتی ادارے نے اچھے ریٹ پر یہ قرض حاصل کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

دس چھوٹے بڑے ڈیم 2028ء تک مکمل ہو جائیں گے

تربیلا ڈیم کے پانچویں توسیعی منصوبے کا ٹھیکہ چینی کمپنی کو مل گیا

پنجاب میں چھوٹے ڈیموں کی تعمیر کیلئے محکمہ آبپاشی اور نیسپاک کے درمیان معاہدہ طے

انہوں نے کہا کہ بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم جب شروع کئے تو دو سالوں میں اتنی پیش رفت کی توقع نہیں تھی، اس کی بنیادی وجہ عملدرامد کا فقدان تھا۔ واپڈا کے اس اقدام سے جہاں سستی اور ماحول دوست بجلی کا حصول ممکن ہو گا وہاں قومی پارک بنانے سے وائلڈ لائیو کو تحفظ بھی ملے گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ قومیں طویل المدتی منصوبہ بندی سے عظیم بنتی ہیں، ہمارے ہاں ہر شعبہ میں اس کا فقدان تھا، 1960 کی دہائی میں پاکستانیوں کو ایک امید اور اعتماد تھا، آہستہ آہستہ اس میں تنزلی آتی گئی، ہندوستان اور بنگلہ دیش ہم سے آگے نکل گئے۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم نے بجلی قلیل المدت بنیادوں پر بنائی، اس میں کئی بار بدنیتی کا عنصر نمایاں تھا، ہم برصغیر میں سب سے مہنگی بجلی پیدا کر رہے ہیں۔‘

عمران خان نے کہا کہ اگلے دس سالوں کے دوران دس نئے ڈیم بنا رہے ہیں جن سے 10 ہزار میگا واٹ بجلی پیدا ہو گی، 12 ملین مکعب ایکڑ فٹ اضافی پانی دستیاب ہو گا اور ایک لاکھ ایکڑ اراضی سیراب ہو گی، پاکستان میں پن بجلی پیدا کرنے کی بڑی گنجائش موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ معیشت مستحکم ہو چکی ہے اور اب ہم دولت اکٹھی کرنے کی سمت گامزن ہیں، قرضوں کے بوجھ سے تب ہی نکلیں گے جب دولت ہو گی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here