‘دس چھوٹے بڑے ڈیم 2028ء تک مکمل ہو جائیں گے’

ماضی کی حکومتوں نے جلد بازی میں معاہدے کرکے آئی پی پیز سے پیسے کمائے، وزیراعظم عمران خان کی مہمند ڈیم کے دورہ کے موقع پر میڈیا سے بات چیت

286
پشاور: وزیراعظم عمران خان صنعتی کارکنوں کیلئے رہائشی منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے ہیں (تصویر: پی آئی ڈی)

مہمند: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے دور اقتدار میں شروع ہونے والے دس ڈیم 2028ء تک مکمل ہو جائیں گے۔

بدھ کو مہمند ڈیم کے دورہ کے موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں سستی بجلی کا سب سے بڑا ذریعہ ڈیم تھے لیکن اس جانب توجہ نہیں دی جا سکی، چین میں 80 ہزار چھوٹے بڑے ڈیم ہیں، پاکستان بھی اپنے آبی وسائل سے چھوٹے بڑے ڈیم بنا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دیامر بھاشا اور مہمند دو بڑے ڈیموں سمیت دس ڈیموں پر کام شروع کیا گیا ہے، اس سے سستی اور ماحول دوست بجلی پیدا ہو گی اور 80 لاکھ ایکڑ اراضی قابل کاشت بنائی جا سکے گی۔

عمران خان نے کہا کہ آبادی میں اضافے سے غذائی تحفظ کا مسئلہ شدت اختیار کر رہا ہے، گندم میں خودکفیل ملک ہونے کے باوجود گندم درآمد کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے تھے لیکن درآمد کرنا پڑی۔ ہم دنیا کو اناج دے سکتے تھے لیکن اگر اب بھی اقدامات نہ کیے تو گھمبیر مسائل پیدا ہوں گے۔

مہمند: وزیراعظم عمران خان مہمند ڈیم کی کنسٹرکشن سائٹ کا دورہ کر رہے ہیں (تصویر: پی آئی ڈی)

ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ماضی میں باہر سے قرض لے کر پاور پراجیکٹ کمیشن کھانے کیلئے لگائے جاتے رہے، یہ آسان طریقہ تھا، ان معاہدوں سے جس لاگت پر بجلی پیدا ہوتی ہے اس پر صارفین کو نہیں دے سکتے، اگر بجلی مہنگی کریں تو عوام شور مچاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں پچاس ہزار میگاواٹ پن بجلی کی استعداد موجود ہے لیکن اس پر کام نہیں کیا گیا، گردشی قرضے کی بنیادی وجہ پیداورای لاگت اور فروخت کے نرخ میں فرق ہے، بجلی خریدیں یا نہ خریدیں کیپیسٹی پیمنٹ کرنا پڑے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ 2018ء میں گردشی قرض کی مد میں 480 ارب روپے ادا کئے جو 2023ء میں 1455 ارب روپے تک پہنچ جائیں گے، یہ بہت بڑا بوجھ ہے، حکومت آئی پی پیز کیساتھ مذاکرات کر رہی ہے، اس کا جلد حل نکالیں گے، آئی پی پیز کے ساتھ بات چیت سے اس میں کافی فرق پڑا ہے۔

پشاور: صوبائی وزیر شوکت یوسف زئی وزیراعظم عمران خان کو لیبر کمپلیکس کے حوالے سے بریفنگ دے رہے ہیں (تصویر: پی آئی ڈی)

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت نے 2018ء میں دس بڑے ڈیم شروع کئے ہیں جو 2028ء تک مکمل ہونے کی امید ہے، ہم انتخابی سیاست کی بجائے طویل المدتی منصوبے شروع کر رہے ہیں، ماضی میں ووٹ لینے کی سوچ تھی کہ جلد بجلی پیدا کرنے کے مہنگے منصوبے لگائیں اور کمیشن کھائیں۔

قبل ازیں وزیراعظم عمران خان نے مہمند ڈیم کے دورہ کے موقع پر جاری کام کا جائزہ لیا، چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل(ر) مزمل حسین نے منصوبے پر پیشرفت کے حوالے سے وزیراعظم کو بریفنگ دی۔

مہمند ڈیم کا سنگ بنیاد وزیراعظم عمران خان نے 2 مئی 2019ء کو رکھا تھا، یہ ڈیم دریا سوات پر قبائلی ضلع مہمند میں تعمیر کیا جا رہا ہے، یہ کثیر المقاصد منصوبہ سیلابی صورت حال کو کنڑول کرنے، زراعت اور شہری ضروریات کیلئے پانی ذخیرہ کرنے، سستی اور ماحول دوست بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کا حامل ہے۔

309.6 ارب روپے کی لاگت سے بننے والے مہمند ڈیم کی اونچائی 213 میٹر ہو گی جس میں 1.293 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہو گی اور 800 میگاواٹ بجلی پیدا ہو گی۔

صنعتی ورکرز کیلئے رہائشی منصوبے کا افتتاح

  قبل ازیں وزیراعظم عمران خان نے پشاور کے علاقہ ریگی للمہ میں صنعتی کارکنوں کیلئے چار ہزار سے زائد فلیٹس پر مشتمل رہائشی منصوبے کا افتتاح کیا، جس کے بعد حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ ملک کو دو بنیادی اصولوں کے تحت آگے لے جانا چاہتے ہیں، ایک قانون کی بالادستی، دوسرا کسی کو این آر او نہیں دینا۔ جبکہ اس کے ساتھ ہی ساتھ معاشرے کے کمزور طبقے کو اوپر لے کر جانا ان کا اولین ہدف ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پشاور میں صنعتی ورکرز کیلئے فلیٹس کا منصوبہ 2011ء سے اس لئے رکا ہوا تھا کیونکہ یہ فلیٹس غریبوں کیلئے بن رہے تھے، پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت غریبوں کی فلاح و بہبود کو اولیت دیتی ہے اس لئے اس منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچایا گیا۔

پشاور: وزیراعظم عمران خان لیبر کمپلیکس میں سکول کی عمارت کا افتتاح کر رہے ہیں (تصویر: پی آئی ڈی)

انہوں نے کہا کہ ان کی توجہ کمزور طبقے کو اوپر اٹھانے پر مرکوز ہے، ہم نے اگلے الیکشن کا نہیں بلکہ قوم کے مستقبل کے لیے سوچا ہے، اپنے کمزور طبقے کی ذمہ داری لے لی ہے، پانچ سال بعد دیکھنا چاہتا ہوں کہ کمزور طبقے کو ہم نے کیسے اوپر اٹھایا ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کے عوام نے پی ٹی آئی کو دوسری مدت کیلئے اس لئے منتخب کیا کیونکہ عالمی اداروں کی رپورٹس کے مطابق پختونخوا واحد صوبہ ہے جہاں غربت میں تیزی سے کمی آئی اور انسانی ترقی پر کام ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے کارناموں کی تصدیق عالمی ادارے کر رہے ہیں، ہمارا ہیلتھ کوریج کا نظام ایک منفرد نظام ہے جس میں قومی شناختی کارڈ پر مفت علاج کی بے مثال سہولت دی گئی ہے، پانچ سالوں سے صوبے کے ہیلتھ سیکٹر میں انقلاب آ چکا ہے اور عوام اس انقلاب سے مستفید ہو رہے ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ہاوسنگ کے شعبے میں بھی کام تیزی سے جاری ہے، بینک لوگوں کو قرضے دے رہے ہیں تاکہ ہر شخص کا اپنے ذاتی گھر کا خواب پورا ہو، اس کے ساتھ نیا پاکستان ہاوسنگ پروگرام کے تحت مزدوروں کیلئے مزید گھر تعمیر ہوں گے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here