ٹویوٹا کے سالانہ خالص منافع میں 10.3 فیصد اضافہ، حجم 20.6 ارب ڈالر رہا

107

ٹوکیو: جاپان کی موٹر ساز کمپنی ٹویوٹا نے کہا ہے کہ کورونا وائرس بحران اور عالمی منڈی میں سیمی کنڈکٹرز کی قلت کے باوجو اس کا خالص منافع سالانہ بنیاد پر 10.3 فیصد بڑھ کر 20.6 ارب ڈالر رہا جو توقع سے زیادہ ہے۔

کمپنی کی جانب سے بدھ کو جاری بیان کے مطابق اپریل 2020ء سے مارچ 2021ء تک جاری رہنے والے مالی سال کے دوران اس کا خالص منافع 2.25 کھرب ین یعنی 20.6 ارب ڈالر رہا جو گزشتہ مالی سال کے 2.04 کھرب ین کے مقابلے میں 10.3 فیصد زیادہ ہے۔

ٹویوٹا کا کہنا ہے کہ سال کے دوران کورونا وائرس بحران اور عالمی منڈی میں سیمی کنڈکٹرز کی قلت کے باوجود اس کی مصنوعات کی طلب اور منافع میں اضافہ ہوا۔

یہ بھی پڑھیے:

ملائیشین آٹو موبائل پروٹون کے پاکستان میں ایک ہزار یونٹ فروخت

بی ایم ڈبلیو کا خالص منافع چار گنا اضافے سے تین ارب 40 کروڑ تک جا پہنچا

دوسری جانب ٹویوٹا موٹرز نے آئندہ مالی سال 2022ء کے لیے گاڑیوں کی پیداوار ایک کروڑ یونٹس سے زیادہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس دوران ٹویوٹا اور لکسز برانڈز پر زیادہ توجہ مرکوز رکھی جائے گی۔

ٹویوٹا کی گاڑیوں کی پیداوار میں اضافہ کا یہ منصوبہ اگر حقیقت کا روپ دھار لیتا ہے تو 2014ء کے بعد ٹویوٹا پہلی بار 10 لاکھ یونٹس کی سالانہ پیداوار کا ہندسہ عبور کرے گی۔

کمپنی نے اپنے بڑے سپلائرز کو متعلقہ منصوبے سے آگاہ کر دیا ہے تاکہ وہ مالی سال 2022ء کیلئے سرمایہ کاری اور بزنس ماڈل کو تشکیل دے سکیں۔

جاپانی کار ساز کمپنی کو امید ہے کہ چین اور امریکہ آٹوموٹیو مارکیٹ کو مضبوط کریں گے، اس فیصلے سے انڈسٹری میں مثبت تبدیلی آنے کا امکان ہے اور مینوفیکچررز کو کورونا وائرس کے بعد اس پر عملدرآمد کرنے کی ترغیب ملے گی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here