وبا کے باوجود چین کی ڈیجیٹل اکانومی کا حجم 39.2 کھرب یوان تک جا پہنچا

120

بیجنگ: کورونا وائرس اور عالمی اقتصادی بحران کے باوجود چین کی ڈیجیٹل اکانومی کی شرح نمو میں سال 2020ء کے دوران سالانہ بنیاد پر 9.7 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

شنہوا نیوز نے چائنہ اکیڈمی آف انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی کی حالیہ رپورٹ کے حوالے سے بتایا کہ چین 14ویں پانچ سالہ منصوبے یعنی 2021ء تا 2025ء کے تحت ‘ڈیجیٹل چائنہ’ کے پروگرام پر عمل پیرا ہے۔

سال 2020ء کے دوران دنیا بھر میں کورونا وائرس کی شدت کے باعث عالمی اقتصادی شرح نمو میں بڑے پیمانے پر کمی ہوئی، اس کے باوجود چین کی ڈیجیٹل اکانومی میں سالانہ بنیاد پر 9.7 فیصد اضافہ ہوا جو اسی سال کی مجموعی قومی پیداوار کی شرح سے تین گنا سے بھی زیادہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق سال 2020ء کے دوران چین کی ڈیجیٹل اکانومی کا حجم 39.2 کھرب یوان یعنی 6 کھرب ڈالر رہا جو جی ڈی پی کے 38.6 فیصد کے برابر ہے، اس سے انسداد کورونا اقدامات میں بھی بڑی مدد ملی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سال 2020ء کے دوران 13 صوبوں، میونسپلٹیز اور خود مختار علاقوں کی ڈیجیٹل اکانومی کا حجم ایک کھرب یوان سے زیادہ جبکہ 8 دیگر علاقوں میں 500 ارب یوان سے زیادہ رہا۔ سال کے دوران چین دنیا بھر میں ڈیجیٹل اکانومی کا حامل دوسرا بڑا ملک رہا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here