50 ارب مالیت کا شندور گلگت روڈ منصوبہ بھی گلگت ترقیاتی پیکج میں شامل

216 کلومیٹر طویل شندور گلگت روڈ سی پیک روٹ کا متبادل تصور کیا جاتا ہے، جلد پی سی ون کی منظوری متوقع

292

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے 216 کلومیٹر طویل شندور گلگت روڈ کو بھی وزیراعظم کے گلگت بلتستان کیلئے اعلان کردہ 370 ارب روپے کے ترقیاتی پیکج میں شامل کر لیا ہے۔

وزارت منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کے حکام کے مطابق گللگت شندور روڈ پروجیکٹ کی لاگت کا تخمینہ 50 ارب روپے لگایا گیا ہے اور یہ شاہراہ سی پیک کا متبادل روٹ تصور کی جاتی ہے، اسے جی بی ڈویلپمنٹ پلان 2021-26ء کے تحت پایہ تکمیل کو پہنچایا جائے گا۔

حکام کے مطابق اس سے قبل شاہراہ کی لاگت کا تخمینہ 45 ارب روپے لگایا گیا تھا اور اس کا پی سی وَن سینٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی اور قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی (ایکنک) سے منظوری کے لیے بھیجا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے: سی پیک کا متبادل روٹ تعمیر کرنے پر غور

پرافٹ اردو کو دستیاب دستاویزات کے مطابق وزارتِ مواصلات نے 22 اپریل 2021ء کو گلگت شندور روڈ پروجیکٹ کا پی سی ون وزارتِ منصوبہ بندی کو بھجوا دیا تھا تاکہ وہ اسے سی ڈی ڈبلیو پی اور ایکنک کے آئندہ اجلاسوں میں پیش کرے۔

شاہراہ قراقرم کو برف باری کی وجہ سے اکثر بند کر دیا جاتا ہے تاہم گلگت شندور روڈ ہر قسم کے موسم میں کھلی رہے گی اور اس کے ذریعے تجارتی سرگرمیاں جاری رہیں گی۔

لواری ٹَنل کے بعد یہ دوسرا اہم منصوبہ ہے جو گلگت بلتستان میں سفر کیلئے وقت کی بچت میں معاون ثابت ہو گا، اس شاہراہ کی مجموعی لمبائی 363 کلومیٹر ہے اور اس میں سے 216 کلومیٹر حصہ گلگت بلتستان کی حدود میں آتا ہے۔

خیبرپختونخوا حکومت نے مارچ 2019ء میں تین روڈ منصوبے وفاقی حکومت کے سپرد کرنے کی منظوری دی تھی۔ وزارتِ مواصلات کے جاری کردہ نوٹی فکیشن کے مطابق وفاقی کابینہ نے 6 مئی کو چترال تا مستوج روڈ، شندور تا گلگت روڈ اور چترال تا گرم چشمہ دوڑا پاس روڈ کی تحویل کی منظوری دی تھی۔

وفاقی تحویل میں آنے کے بعد چترال تا گلگت شاہراہ کو این 140 کہا جائے گا۔ منصوبہ مکمل ہونے پر یہ شاہراہ ممکنہ طور پر تجارت اور ٹریفک کیلئے شاہراہ قراقرم کے متبادل کے طور پر استعمال کی جائے گی۔

شندور روڈ کے علاوہ بھی حکومت سی پیک کو ایک متبادل راستے سے چین کے ساتھ ملانے کیلئے بڑے روڈ منصوبے پر غور کر رہی ہے، یہ شاہراہ درہ خنجراب تک مسافت کو کم از کم 350 کلومیٹر تک کم کر دے گی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here