پاکستان اور سعودی عرب کے مابین 50 کروڑ ڈالر کے قرض معاہدہ پر دستخط متوقع

50 کروڑ ڈالر قرض کا معاہدہ وزیراعظم عمران خان کے آئندہ ہفتے دورہ سعودی عرب کے موقع پر طے پا سکتا ہے، پاکستان آئل ریفائنری سے متعلق نئی پالیسی بھی پیش کرے گا: میڈیا رپورٹ

296

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کے آئندہ ہفتے دورہ سعودی عرب کے دوران 50 کروڑ ڈالر قرض کے ایک معاہدہ پر دستخط کا امکان ہے۔

پاکستان اور سعودی عرب دوطرفہ تعلقات کی بحالی کے لیے سرگرم ہیں کیونکہ گزشتہ ایک سال سے کچھ علاقائی مسائل پر اختلافات کی وجہ سے دونوں ممالک کے تعلقات میں قدرے کشیدگی در آئی تھی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم کے دورہ کے موقع پر پاکستان سعودی عرب کے ساتھ نئی آئل ریفائنری پالیسی کا تبادلہ بھی کرے گا۔

دو سال قبل مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد نے کہا تھا کہ سعودی عرب ایک سے ڈیڑھ سال کے دوران پاکستان میں آئل ریفائنری قائم کرے گا جس کیلئے پانچ ارب ڈالر سے سات ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیے:

گرین سعودی عرب انیشی اٹیو: پاکستان شراکت کا خواہاں، تعاون کی پیشکش

جولائی تا مارچ 2021ء: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تجارتی حجم میں 35 فیصد اضافہ

رزاق دائود نے کہا تھا کہ آئل ریفائنری کی فیزیبلٹی سٹڈی اور دیگر تکنیکی ایک سال سے ڈیڑھ سال کے عرصہ میں مکمل کر لی جائے گی، تاہم دو سال گزرنے کے باوجود اس منصوبے پر پیشرفت نہیں ہو پائی۔

وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے توانائی تابش گوہر کے مطابق پیٹرولیم ڈویژن نے آئل ریفائنری پالیسی کا مسودے کی منظوری دی ہے جو وزیراعظم کے دورہ سعودی عرب کے دوران سعودی حکام کو پیش کی جائے گی۔

تابش گوہر کے مطابق مذکورہ پالیسی کا مسودہ متعلقہ وزارتوں کے کو بھیجا گیا اور اس پر ان کی رائے لی گئی، نئی پالیسی کے تحت سعودی عرب آئل ریفائنری میں سرمایہ کاری کرنے کے بدلے 20 سال تک انکم ٹیکس چھوٹ حاصل کر سکے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ سرمایہ کاری پر حکومت پاکستان منافع کی شرح، پٹرولیم مصنوعات کی فروخت اور تیل کی قیمتوں کے حوالے کوئی گارنٹی نہیں دے گی اور سعودی عرب کی طرف سے ریفائنری میں سرمایہ کاری کا یہ کمرشل فیصلہ ہو گا۔

تابش گوہر کا کہنا تھا کہ نئی پالیسی کے تحت پاکستان میں موجود پانچ آئل ریفائنریز کو بھی تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے کیونکہ صارفین کو ماحول دوست مصنوعات فراہم کرنے کی ازحد ضرورت ہے۔

مزید برآں پاکستان اور سعودی عرب کے مابین گرین پارٹنرشپ کے حوالے سے بھی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کا امکان ہے جس کے تحت موجودہ آئل ریفائنریز کو ان کی مصنوعات یورو فائیو پر اَپ گریڈ کرنے کا کہا جائے گا۔

یہ بھی واضح رہے کہ اپ گریڈیشن کا 40 فیصد مالیاتی بوجھ صارفین پر ڈالا جائے گا جبکہ بقیہ لاگت ریفائنریز کی طرف سے برداشت کی جائے گی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here