خام مال کی قلت کے باوجود پاکستان کا ٹیکسٹائل سیکٹر ترقی کی جانب گامزن

جاری مالی سال کے ابتدائی 8 ماہ میں ریڈی میڈ گارمنٹس 2.1 ارب ڈالر،نٹ وئیر 2.46 ارب ڈالر،  بیڈ وئیر 1.81 ارب ڈالر، تولیو کی برآمدات کا حجم 64 کروڑ ڈالر جبکہ ٹیکسٹائل برآمدات کا مجموعی حجم 9.37 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا

1028

اسلام آباد: رواں مالی سال 2020-21ء کے ابتدائی آٹھ ماہ کے دوران گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں نٹ وئیر، بیڈ وئیر، تولیے اور ریڈی میڈ کپڑوں کی برآمدات میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

ادارہ برائے شماریات پاکستان (پی بی ایس ) کے اعدادوشمار کے مطابق جاری مالی سال کے پہلے 8 ماہ میں جولائی تا فروری کے دوران تولیے کی برآمدات 64 کروڑ 6 لاکھ 84 ہزار ڈالر تک پہنچ گئیں جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 52 کروڑ 50 لاکھ 48 ہزار ڈالر تھیں۔

اس طرح گزشتہ مالی سال 2019-20ء کے ابتدائی آٹھ ماہ کے مقابلے میں رواں مالی سال کے ابتدائی آٹھ ماہ کے دوران تولیہ کی قومی برآمدات میں 11 کروڑ 56 لاکھ 36 ہزار ڈالر یعنی 16 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے:

برآمدات بڑھنے سے ٹیکسٹائل سیکٹر کے منافع میں 32 فیصد اضافہ

ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز کا بھارت سے کاٹن یارن کی درآمد کی اجازت دینے کا مطالبہ

بی پی ایس کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ مالی سال کے مقابلہ میں رواں مالی سال کے دوران بیڈ ویئرز کی برآمدات میں بھی 13.71 فیصد اضافہ ہوا ہے اور برآمدات کا حجم ایک ارب 59 کروڑ 76 لاکھ 86 ہزار ڈالر کے مقابلہ میں ایک ارب 81 کروڑ 68 لاکھ 82 ہزار ڈالر تک بڑھ گیا۔

اعدادوشمار کے مطابق زیر جائزہ عرصے میں نیٹ ویئرز کی برآمدات میں 18.04 فیصد اضافہ ہوا اور گزشتہ مالی سال کی دو ارب 9 کروڑ 39 ہزار ڈالر برآمدات کے مقابلہ میں رواں مالی سال میں نیٹ ویئرز کی برآمدات دو ارب 46 کروڑ 70 لاکھ 6 ہزار ڈالر تک پہنچ گئیں۔

پی بی ایس کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق تیار ملبوسات کی قومی برآمدات بھی 2.56 فیصد اضافہ سے ایک ارب 96 کروڑ 12 لاکھ 93 ہزار ڈالر کے مقابلہ میں دو ارب ایک کروڑ 15 لاکھ 5 ہزار ڈالر تک بڑھ گئیں۔

رواں مالی سال کے ابتدائی 8 ماہ کے دوران پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات میں مجموعی طور پر 6.69 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور ٹیکسٹائل برآمدات کا حجم 9 ارب 99 کروڑ ڈالر رہا جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 9 ارب 37 کروڑ ڈالر تھا۔

ایک جانب ٹیکسٹائل برآمدات میں اضافہ ہو رہا ہے تاہم دوسری جانب کاٹن کی مقامی پیداوار میں 34 فیصد کمی کے باعث ٹیکسٹائل سیکٹر کو خام مال کی کمی کا سامنا ہے جو بھاری زرمبادلہ خرچ کر کے بیرون ملک سے درآمد کرنا پڑ رہا ہے۔

ٹیکسٹائل ایسوسی ایشنز اس بات کا شکوہ کرتی نظر آتی ہیں کہ  حکومت نے ٹیکسٹائل انڈسٹری کے خام مال سینتھٹک اور کاٹن یارن پر عائد ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹی اور ریگولیٹری ڈیوٹی ختم کرنے کا وعدہ کر رکھا ہے لیکن ابھی تک یہ وعدہ ایفاء نہیں کیا گیا جس کے باعث پیداواری لاگت بڑھ گئی ہے اور پہلے سے پکڑے گئے برآمدی آرڈرز کی مد میں نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔

وفاقی حکومت نے دسمبر 2020ء میں ٹیکسٹائل پالیسی متعارف کرائی تھی جس کے تحت ٹیکس ریفنڈز کی ادائیگی کرنے اور درآمدی ڈیوٹیز میں کمی لانے کا عندیہ دیا تھا اور 2025ء تک ملکی برآمدات کا حجم 20 ارب ڈالر مقرر کیا تھا تاہم خام مال کی قلت کے باعث برآمدکنندگان کو درپیش مسائل کی وجہ سے اس ہدف کی جانب پیش قدمی کی رفتار سست ہو جائے گی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here