برآمدات بڑھنے سے ٹیکسٹائل سیکٹر کے منافع میں 32 فیصد اضافہ

401

لاہور: جاری مالی سال 2020-21ء کی پہلی ششماہی (جولائی تا دسمبر) کے دوران برآمدات میں اضافے اور پیداواری اخراجات میں کمی کی وجہ سے سالانہ اعتبار سے ٹیکسٹائل سیکٹر کے منافع میں نمایاں طور پر 32 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

ٹاپ لائن پاکستان ریسرچ کے اعدادوشمار کے مطابق مالی سال 2020-21ء کی پہلی ششماہی میں مجموعی طور پر ملکی ٹیکسٹائل سیکٹر کی آمدن میں 12 فیصد اضافہ ہوا، امریکی ڈالرز میں سالانہ اعتبار سے برآمدات 8 فیصد اور پاکستانی روپے میں برآمدات 13 فیصد بڑھیں۔

لسٹڈ ٹیکسٹائل کمپوزٹ سیکٹر کے حوالے سے ٹاپ لائن کا ڈیٹا 21 کمپنیوں کے منافع کے تجزیے سے اکٹھا کیا گیا ہے، یہ 21 کمپنیاں پاکستانی ٹیکسٹائل سیکٹر کے 82 فیصد کی نمائندگی کرتی ہیں۔

ٹاپ لائن کی رپورٹ میں کہا گیا کہ “اگرچہ مالی سال 2020ء کی دوسری سہ ماہی میں آرڈرز کی بھرمار رہی اور کورونا وائرس لاک ڈاؤن اور پابندیوں نے خطے میں بھارت اور بنگلہ دیش جیسے ممالک کے آرڈرز پاکستان کی جانب موڑ دیے جس سے پاکستان کے ٹیکسٹائل ایکسپورٹس کو خاطر خواہ فائدہ پہنچا، کموڈیٹی کے سپر سائیکل کی وجہ سے جنرل پرائسنگ زیادہ رہی اور اس سے بھی برآمدات بڑھانے میں مدد ملی۔”

یہ بھی پڑھیے:

رواں سال 34 فیصد کم کپاس جننگ فیکٹریوں پہنچ سکی

کپاس کے زیرکاشت رقبہ میں کمی، ایک ارب ڈالر کی روئی درآمد

پاکستان کا ٹیکسٹائل سیکٹر پائوں پر کھڑا ہونے لگا، برآمدات میں ریکارڈ اضافہ

قیمتوں میں اضافے اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں سالانہ 4.6 فیصد تک گراوٹ نے کپاس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے اثرات کو کم کرنے میں مدد کی، جیسا کہ گراس مارجن 16 فیصد کے بڑے پیمانے پر غیر تبدیل شدہ رہا تاہم سالانہ لحاظ سے گراس پرافٹ میں 9 فیصد اضافہ ہوا۔

ٹاپ لائن ریسرچ کے مطابق مالی سال 2021ء کی پہلی ششماہی کے دوران سالانہ لحاظ سے مقامی کپاس کی قیمتوں میں اوسطََ سات فیصد اضافے سے فی گانٹھ 9154 روپے تک ریکارڈ کی گئی۔ اس کی بنیادی وجہ کپاس کی سالانہ پیداوار میں سالانہ 34 فیصد کمی آنا ہے۔

مالی سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران سالانہ لحاظ سے مالی لاگت میں 14 فیصد کمی کی بنیادی وجہ سٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود میں مجموعی طور پر 625 بیسز پوائنٹس کمی سے شرح سود 7 فیصد مقرر کرنا تھی۔

جاری مالی سال کی اکتوبر تا دسمبر کی سہ ماہی کے دوران مذکورہ کمپنیوں کی آمدن میں مزید تیزی آئی جس میں سالانہ 32 فیصد اور سہ ماہی کے اعتبار سے 28 فیصد اضافہ ہوا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here