2029ء تک پاکستان آبی وسائل کے 8 بڑے منصوبے مکمل کر لے گا: رپورٹ

ان منصوبوں کی تکمیل سے پانی ذخیرہ کرنے کی قومی استعداد دو کروڑ 40 لاکھ ایکڑ فٹ اور پن بجلی کی پیداوار 18 ہزار میگاواٹ تک پہنچ جائے، مزید 16 لاکھ ایکڑ رقبہ سیراب ہو سکے گا

2313

اسلام آباد: واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) کی جانب سے ایک حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 29-2028ء تک پاکستان میں آبی وسائل کے آٹھ منصوبے مکمل کر لیے جائیں گے۔

واپڈا کی رپورٹ کے مطابق اتھارٹی کے زیرِ انتظام آبی شعبہ میں آٹھ مختلف منصوبوں کی تعمیر کا کام جاری ہے، یہ منصوبے 2022ء سے لے کر 29-2028ء کے دوران پایہ تکمیل کو پہنچیں گے۔

ان منصوبوں میں دیامر بھاشا ڈیم، مہمند ڈیم، کرم تنگی ڈیم (فیز وَن) نئی گج ڈیم، سندھ بیراج، داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ (فیز وَن)، تربیلہ پانچواں توسیعی منصوبہ اور کیال خوڑ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیے:

2027ء تک 3428 میگاواٹ پن بجلی قومی گرڈ میں شامل ہو گی

پنجاب میں چھوٹے ڈیمز کی تعمیر کیلئے محکمہ آبپاشی اور نیسپاک کے درمیان معاہدہ طے

رپورٹ کے مطابق مذکورہ منصوبوں کی بروقت تکمیل سے پاکستان کی پانی ذخیرہ کرنے کی مجموعی استعداد میں ایک کروڑ 10 لاکھ ایکڑ فٹ کے قریب اضافہ ہو گا جس کے بعد پانی ذخیرہ کرنے کی مجموعی قومی صلاحیت دو کروڑ 40 لاکھ ایکڑ فٹ تک بڑھ جائے گی۔

واضح رہے کہ قبل ازیں وطن عزیز میں پانی ذخیرہ کرنے کرنے کی استعداد ایک کروڑ 30 لاکھ ایکڑ فٹ ہے۔

رپورٹ کے مطابق پانی ذخیرہ کرنے کی استعداد میں اضافہ سے پاکستان میں مزید 16 لاکھ ایکڑ رقبہ کو سیراب کرنے کیلئے پانی دستیاب ہو گا جس سے زرعی شعبے کو فروغ ملے گا۔

مزید برآں آبی وسائل کے ان منصوبوں کی تکمیل سے پاکستان میں آبی وسائل سے بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت بھی دوگنا اضافہ سے 18 ہزار میگاواٹ تک پہنچ جائے گی۔ قبل ازیں پانی کی مدد سے 9 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کی جا رہی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here