ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز کا بھارت سے کاٹن یارن کی درآمد کی اجازت دینے کا مطالبہ

ایکسپورٹرز برآمدی آرڈرز کی تکمیل کیلئے انتہائی مہنگے داموں کاٹن یارن خریدنے پر مجبور ہیں جس کے باعث انہیں اضافی مالی بوجھ برداشت کرنا پڑ رہا ہے، چیئرمین ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن

212

فیصل آباد: پاکستان ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ٹیکسٹائل کی برآمدی صنعت کو اپنی ضروریات کیلئے بھارت سے واہگہ کے راستے کاٹن یارن کی درآمد اجازت دی جائے۔

پاکستان ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین محمد احمد نے ایک بیان میں کہا ہے کہ حکومت کے مثبت اقدامات کے باعث ٹیکسٹائل انڈسٹری کئی دہائیوں کے بعد اپنی پوری استعداد پر چل رہی ہے مگر بنیادی خام مال کی کمی کے باعث تمام کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کاٹن کی طلب اور رسد میں فرق کے خاتمے کیلئے دیگر ممالک سے درآمد ناگزیر ہو چکی ہے نیز یارن کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ کاٹن کی ملکی پیداوار میں کمی اور سرحد پار سے یارن کی درآمد پر پابندی کی و جہ سے ہے۔

میڈیا سے بات چیت کے دوران انہوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز برآمدی آرڈرز کی تکمیل کیلئے انتہائی مہنگے داموں کاٹن یارن خریدنے پر مجبور ہیں جس کے باعث انہیں اضافی مالی بوجھ برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز کا 330 ارب کے ریفنڈز ادا کرنے کا مطالبہ

برآمدات بڑھنے سے ٹیکسٹائل سیکٹر کے منافع میں 32 فیصد اضافہ

سات ماہ میں نان ٹیکسٹائل ایکسپورٹس 5.49 ارب ڈالر تک جاپہنچیں

چیئرمین ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن نے ملک میں کاٹن یارن کی عدم دستیابی اور قیمتوں میں بے تحاشہ اضافے کا نوٹس لینے اور وسط ایشیائی ریاستوں سے طورخم بارڈر کے راستے کاٹن کی درآمد کی اجازت دینے پر وزیر اعظم عمران خان کا شکریہ ادا کیا۔

تاہم انہوں نے واضح کیا کہ وسط ایشیاء سے کاٹن کی درآمد پر نہ صرف خرچ زیادہ آئے گا بلکہ درآمد میں بھی زیادہ وقت لگے گا، اس کے برعکس بھارت سے کاٹن یارن کی درآمد زیادہ سودمند رہے گی کیونکہ ٹیکسٹائل انڈسٹری کو کم وقت اور مناسب خرچ پر خام مال دستیاب ہو گا۔

انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ ٹیکسٹائل کی برآمدی صنعت کو اپنی ضروریات کیلئے بھارت سے واہگہ کے راستے کاٹن یارن کی درآمد اجازت دی جائے۔

محمد احمد کا کہنا تھا کہ کاٹن یارن کی عدم دستیابی اور انتہائی بلند قیمتوں کے باعث ٹیکسٹائل کی برآمدی صنعت سنگین بحران سے دوچار ہے جبکہ ڈیوٹی ڈرا بیک آف ٹیکسز سمیت 50 ملین روپے سے زائد مالیت کے انکم ٹیکس ری فنڈز کی طویل عرصے سے عدم ادائیگی ایکسپورٹرز کی مالی مشکلات میں اضافے کا باعث بن رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسائل کے فوری سدباب کیلئے ترجیحی اقدامات کئے جائیں کیونکہ مزید تاخیرصنعتی و برآمدی بحران سمیت بڑے پیمانے پر بیروزگاری جیسے مسائل کو جنم دے گی۔

چیئرمین پاکستان ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن نے ٹیکسٹائل کی برآمدی صنعت کو درپیش مسائل پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کاٹن یارن کی عدم دستیابی کے باعث صنعتی و برآمدی عمل شدید متاثر ہو رہا ہے جبکہ انتہائی بلند قیمتوں کی وجہ سے کروڑوں روپے کے برآمدی آرڈرز کی بروقت تکمیل ممکن نہیں رہی۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں رواں سیزن کے دوران کاٹن کی پیداوار میں تاریخی کمی واقع ہوئی جبکہ ٹیکسٹائل انڈسٹری کی طلب میں 13 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here