جون تک بیرونی قرضوں کی ادائیگی کے انتظامات مکمل کر لیے: وزارت خزانہ کا دعویٰ

246
dollar-reaches-rs285-as-pakistani-rupee-in-free-fall

لاہور: وزارت خزانہ نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت نے مئی اور جون میں واجب الادا 3.7 ارب ڈالر کے بیرونی قرض کی ادائیگی کے انتظامات کر لیے ہیں۔

منگل کو خزانہ ڈویژن نے ایک بیان میں کہا کہ میڈیا میں اس حوالے سے چلنے والی خبریں درست ہیں کہ جون 2023 کے آخر تک پاکستان کو 3.7 ارب ڈالر کی بیرونی ادائیگیاں کرنا ہیں۔ تاہم اس میں تشویش کی کوئی بات نہیں کیونکہ اس قرض کو رول اوور کروانے یا ادائیگی کیلئے مناسب انتظام کر لیا گیا ہے۔

وزارت خزانہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس مدت کے دوران خصوصی مالی وسائل کی آمد بھی متوقع ہے جبکہ حکومت نے دیوالیے کا خطرہ ٹال دیا ہے اور معیشت اَب استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔

وزارت خزانہ کا یہ بیان بلوم برگ کی اُس رپورٹ کے بعد سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو مئی اور جون میں 3.7 ارب ڈالر  بیرونی قرضوں کی ادائیگی کرنا ہے۔

رواں ماہ کے پہلے ہفتے بلوم برگ نے ’فِچ ریٹنگز‘ کی رپورٹ کا حوالا دیتے ہوئے کہا تھا کہ مئی میں پاکستان کو کم از کم 70 کروڑ ڈالر کی بیرونی ادائیگیاں کرنا ہیں جبکہ مزید 3 ارب ڈالر آئندہ جون میں بیرونی قرضوں کی ادائیگی کیلئے چاہییں۔ رپورٹ میں توقع ظاہر کی گئی تھی کہ چین سے مزید 2 ارب 40 کروڑ ڈالر کے ڈپازٹس اور قرضوں پر رول اوور ملنے کا امکان موجود ہے جس سے پاکستان کیلئے قدرے آسانی پیدا ہو سکتی ہے۔

پاکستان کی بیرونی قرضوں کی واپسی کی صلاحیت کے حوالے سے تشویش بڑھ رہی ہے کیونکہ سٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر 4.46 ارب ڈالر ہیں جو ایک ماہ کی ضروری درآمدات کے لیے بمشکل کافی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: 

آئی ایم ایف بیل آؤٹ پیکج کے بغیر پاکستان دیوالیہ ہو سکتا ہے: موڈیز

ملک دیوالیہ کیوں ہوتے ہیں اور اس کی کیا قیمت چکانا پڑتی ہے؟

قرضوں کی ادائیگیاں آئی ایم ایف بیل آؤٹ پروگرام دوبارہ شروع کرنے کے لئے ضروری ہیں جو گزشتہ سال نومبر سے نویں جائزے میں رکا ہوا ہے۔ حکومت مختلف اقدامات بشمول بلند شرح تبادلہ، اضافی ٹیکس اور توانائی کی قیمتوں میں اضافہ آئی ایم ایف کو بیل آؤٹ پروگرام دوبارہ شروع کرنے پر راضی کرنے میں ناکام رہی ہے۔

حال ہی میں ایک رپورٹ میں موڈیز انویسٹرز سروس نے بھی خبردار کیا ہے کہ پاکستان آئی ایم ایف بیل آؤٹ کے بغیر ڈیفالٹ کر سکتا ہے کیونکہ جون کے بعد پاکستان کے فنانسنگ آپشنز انتہائی غیر یقینی ہیں۔

بلوم برگ کی ایک رپورٹ میں موڈیز کے سنگاپور سے تجزیہ کار گریس لِم کا حوالا دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ ’’اُن کے خیال میں پاکستان جون میں ختم ہونے والے رواں مالی سال کے بقیہ حصے کیلئے بیرونی ادائیگیوں کو پورا کر لے گا تاہم جون کے بعد مالی وسائل کی فراہمی کے امکانات پر غیر یقینی کے بادل چھائے ہوئے ہیں۔ آئی ایم ایف پروگرام کے بغیر پاکستان کم ترین زرمبادلہ ذخائر کی وجہ سے دیوالیہ ہو سکتا ہے۔‘‘

موڈیز انویسٹرز کے مطابق پاکستان آئی ایم ایف سے ساڑھے 6 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پروگرام کی بحالی کیلئے سخت تگ و دو کر رہا ہے، یہ پروگرام حکومت کی جانب سے قرض کی کچھ شرائط کو پورا کرنے میں ناکامی کی وجہ سے روک دیا گیا تھا۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ رواں برس پاکستان میں ہونے والے انتخابات سے قبل سیاسی عدم استحکام آئی ایم ایف سے قرضے میں تاخیر کے خطرے میں اضافہ کر رہا ہے۔

موڈیز کے تجزیہ کار گریس لِم کے مطابق سٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر تقریباََ ساڑھے 4 ارب ڈالر ہیں جو صرف ایک ماہ کی درآمدات کیلئے کافی ہیں۔ پاکستان کو مئی اور جون میں تقریباََ 3 ارب 70 کروڑ ڈالر کی بیرونی ادائیگیاں کرنی ہیں۔ اس لیے جون کے بعد درآمدات اور بیرونی ادائیگیوں کیلئے مالی وسائل نہ ہونے کے برابر ہیں۔ تاہم جون کے بعد آئی ایم ایف سمیت دیگر کثیرالجہتی اور دوطرفہ شراکت داروں سے اضافی مالی اعانت ملنے کا امکان ہے جس سے دیوالیے کا خطرہ کسی قدر کم کیا جا سکتا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here