ملک دیوالیہ کیوں ہوتے ہیں اور اس کی کیا قیمت چکانا پڑتی ہے؟

1311

حالیہ دنوں میں میڈیا پر کچھ سیاسی پنڈتوں اور معاشی تجزیہ کاروں کی جانب سے اقتصادی بحران کے شکار پاکستان کو بار بار سری لنکا سے مماثل قرار دے کر دیوالیہ ہونے کے خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے ۔

لیکن آئی ایم ایف اور دوست ملکوں کے ترلے کرتی حکومت ایسی باتوں کو خام خیالی اور مفروضہ قرار دے کر یہ کہتی نظر آتی ہے کہ فی الوقت دیوالیے کا خطرہ ٹل گیا ہے۔

کوئی ملک دیوالیہ کیوں ہوتا ہے اور اس کی کیا قیمت چکانا پڑتی ہے؟ اس کیلئے زیادہ تاریخ  کنگھالنے کی ضرورت نہیں۔ یونان، وینزویلا ،ارجنٹائن اور سری لنکا کی مثالیں  ہمارے سامنے کی ہیں۔

کوئی ملک دو طرح سے ڈیفالٹ کر سکتا ہے۔

ساورائن ڈیفالٹ  (sovereign default) کا مطلب ہوتا ہے کسی خودمختار ریاست کے ذمے واجب الادا قرض کی مقررہ مدت میں ادائیگی میں ناکامی یا ادائیگی سے انکار۔

انکار کا مطلب وہی ۔۔۔رضوی صاحب والا۔۔۔ ” آیا جے غوری”۔

جب کوئی حکومت عالمی مالیاتی اداروں یا ملکی بینکوں سے قرض لیتی ہے تو وہ اُن مالیاتی اداروں کیساتھ ایک مخصوص مدت کا کنٹریکٹ کرتی ہے کہ فلاں سال کی فلاں تاریخ تک آپ کے پیسے سود سمیت واپس مل جائیں گے۔

آئی ایم ایف جیسے ادارے قرض کے معاہدے کے ساتھ شرائط کی ایک طویل فہرست بھی تھما دیتے ہیں۔

لیکن قرض اور سود کی واپسی یکمشت نہیں بلکہ قسط وار  ہوتی ہے۔ اندرونی قرضہ تو حکومتیں زیادہ نوٹ چھاپ کر بھی ادا کر دیتی ہیں یا پھر بینکوں پر اثرورسوخ استعمال کرکے مزید وقت لے لیتی ہیں۔

لیکن بیرونی قرضہ ڈالر میں واپس ہوتا ہے اور عالمی اداروں پر اثرورسوخ امریکا تو شائد استعمال کر لے کسی اور ملک کے بس کی بات نہیں۔

اب اگر کسی ملک کے پاس اتنے ڈالر موجود نہ ہوں کہ وہ بیرونی قرضے کی قسط مقررہ مدت کے اندر ادا کر سکے تو  اُسے دیوالیہ قرار دے دیا جاتا ہے  یا وہ ملک خود دیوالیہ ہونے کا اعلان کر دیتا ہے جیسا کہ سری لنکا نے کیا کیونکہ اس کے پاس قرض واپسی کیلئے تو کیا درآمدات کیلئے بھی ڈالر نہیں تھے۔

30 جون 2015ء کو یونان آئی ایم ایف کو ایک ارب 70 کروڑ ڈالر واپس نہ کر سکا تو اسے دیوالیہ قرار دے دیا گیا اور آئی ایم ایف نے بھی مزید قرض دینے سے انکار کر دیا۔

بینک آف انگلینڈ اور بینک آف کینیڈا کے مشترکہ ساورائن ڈیٹ ڈیٹا بیس کے مطابق  1960ء کے بعد سے 147 ممالک دیوالیہ ہوچکے ہیں۔

اسی طرح حکومتیں سرمایہ اکٹھا کرنے کیلئے عالمی مارکیٹ میں بانڈز جاری کرتی ہیں جن پر سرمایہ کاروں کو منافع دیا جاتا ہے۔ کئی بار مالی مشکلات کی شکار حکومتیں منافع ادا نہیں کر پاتیں تو کہا جاتا ہے کہ فلاں ملک فارن ایکسچینج بانڈز میں ڈیفالٹ کر گیا۔

ملک دیوالیہ کیوں ہوتے ہیں؟

زرمبادلہ ذخائر میں تیزی سے کمی، قرضوں کا بھاری بوجھ،حد سے بڑھا ہوا کرنٹ اکائونٹ خسارہ ، معاشی جمود اور سیاسی عدم استحکام کسی ملک کو دیوالیہ کرنے کی بنیادی وجوہات ہیں۔

سب سے پہلے یہ دیکھا جاتا ہے کہ کسی ملک کے زرمبادلہ ذخائر کا حجم کیا ہے اور ان کے مقابلے میں قریب ترین مدت میں واجب الادا قرضوں اور سود کی مالیت کتنی ہے۔

مثال کے طور پر 10 جون تک سٹیٹ بینک کے پاس 8 ارب 99 کروڑ ڈالر موجود تھے اور حال ہی چین کے ساتھ معاہدے کے بعد مزید 2 ارب 30 کروڑ ڈالر کا اضافہ ہو جائے گا۔ اس دوران شائد آئی ایم ایف سے بھی ایک ارب ڈالر کی قسط مل جائے۔

تاہم بلومبرگ کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کو آئندہ تین سالوں میں 6 ارب 40 کروڑ ڈالر کا قرض واپس کرنا ہے جس میں سے 3 ارب 16 کروڑ ڈالر رواں سال، ایک ارب 52 کروڑ  ڈالر  آئندہ سال  اور ایک ارب 71  کروڑ ڈالر 2024ء میں ادا کرنے ہیں۔سعودی عرب کے 3 ارب ڈالر اور چین کے 4 ارب ڈالر اس کے علاوہ ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: 

سری لنکا معاشی بحران کا شکار کیوں ہوا؟

پٹرول و ڈیزل کے بعد خوردنی تیل کا عالمی بحران بھی سر پر منڈلا رہا ہے

اگر پاکستان کے موجودہ زرمبادلہ ذخائر کو دیکھا جائے تو وہ بہ مشکل دو تین ماہ کی درآمدات کے قابل ہیں۔باقی حساب کتاب آپ خود کر لیں۔

پاکستان پہلی بار 1998ء میں اُس وقت جزوی ڈیفالٹ کر گیا تھا جب ایٹمی دھماکوں کے بعد لگنے والی پابندیوں کی صورت میں فارن ایکسچینج بانڈز پر ادائیگی  نہیں کر سکا تھا اور زرمبادلہ ذخائر بھی محض چند ملین ڈالر رہ گئے تھے ۔

دیوالیے کی دوسری وجہ قرضوں کا بوجھ ہے۔ وزارت خزانہ کے مطابق پاکستان کی قرض اور جی ڈی پی کی شرح 2020ء میں 76.6 فیصد تھی جو 2021ء میں 72 فیصد رہی جبکہ 2022ء کے اختتام تک مزید کم ہو کر 67 فیصد رہنے کا امکان ہے جو بظاہر اچھی خبر ہے لیکن تیزی سے گرتے زرمبادلہ ذخائر  اور بڑھتا ہوا تجارتی خسارہ پریشان کن ہے۔

2012ء میں یونان اور 2020ء میں لبنان بھاری قرضوں کے بوجھ تلے دب کر دیوالیہ ہوئے تھے۔

اس کے ساتھ ساتھ اگر تجارتی خسارہ بھی مسلسل بڑھ رہا ہو۔یعنی درآمدات پر ادائیگیوں کی صورت میں زیادہ ڈالر باہر جا رہے ہوں اور برآمدات سے کم ڈالر ملک کے اندر آ رہے ہوں تو اس سے بھی زرمبادلہ ذخائر میں کمی  آتی ہے۔

یاد رکھیے کہ گزشتہ مالی سال کا اختتام تقریباََ 45 ارب ڈالر کے تاریخی تجارتی خسارے  کے ساتھ ہوا ہے۔

معاشی جمود (economic stagnation)بھی ڈیفالٹ کی ایک وجہ ہے۔کسی ملک کی سالانہ گروتھ مسلسل 2 فیصد سے نیچے چل رہی ہو تو اس کے دیوالیہ ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں مالیاتی اداروں کا اعتماد ختم ہو جاتا ہے  اور وہ مزید قرض دینے سے ہاتھ اٹھا لیتے ہیں۔

موڈیز کے مطابق شدید معاشی جمود کی وجہ سے ہی 1998ء میں روس اور یوکرین ، 2001ء میں ارجنٹائن اور 2017ء میں وینزویلا دیوالیہ ہوئے۔

سیاسی عدم استحکام اور مالیاتی بدنظمی سے بھی ساورائن ڈیفالٹ کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ 2014ء  اور 2019ء میں ارجنٹائن ، 2015ء میں یوکرین اور 2008 اور 2020ء میں ایکواڈور کے دیوالیہ ہونے کی بنیادی وجہ سیاسی عدم استحکام تھا۔

دیوالیہ ہونے کی کیا قیمت چکانا پڑتی ہے؟

سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ موڈیز، فچ اور سٹینڈرڈ اینڈ پوئرز جیسی ٹاپ کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیاں ڈیفالٹ کرنے والے ملکوں کی کریڈٹ ریٹنگ کم کر دیتی ہیں جس سے ان ملکوں کو دوبارہ قرض لینے میں مشکلات پیش آتی ہیں یا پھر زیادہ شرح سود پر قرض ملتا ہے۔

دیوالیہ ہونے کی صورت میں ملکی کرنسی کی قدر تیزی سے گرتی ہے اور مہنگائی اسی تیزی سے بڑھنا شروع ہو جاتی ہے۔ جیسا کہ گزشتہ سالوں کے دوران زمبابوے اور وینزویلا میں ہو ا جہاں لوگ ڈبل روٹی خریدنے کیلئے نوٹوں کی گڈیاں لے کر جاتے تھے۔

دیوالیہ ہونے والے ملک سے جانے والا تجارتی سامان عالمی بندرگاہوں پر ضبط ہو سکتا ہے۔ اس کے ہوائی اور بحری جہاز دوسرے ملکوں میں ہوں تو وہ قبضے میں لیے جا سکتے ہیں۔

اسی طرح اگر دیوالیہ حکومت کی املاک (ہوٹل وغیرہ)کسی دوسرے ملک میں ہوں تو وہ قبضے میں لی  جا سکتی ہیں البتہ سفارت خانے پر قبضہ نہیں جا سکتا۔

تاہم یہ کبھی نہیں ہوا کہ کسی ملک کے دیوالیہ ہونے پر اس کے سٹریٹجک دفاعی اثاثوں پر قبضہ کر لیا گیا ہو۔ اس حوالے سے یوکرین کی مثال دی جاتی ہے تو عرض ہے کہ نا تو یوکرین نے ڈیفالٹ کیا تھا اور نا ہی اسکے ایٹمی اثاثوں پر قبضہ ہوا تھا بلکہ اس کی کچھ اور روداد ہے جو ہم پھر کبھی سنائیں گے۔

کوئی کمپنی بینک کا قرض واپس نہ کر سکے یا ادائیگی سے انکار کر دے تو بینک اسے عدالت میں گھسیٹ کر قرض نکلوا سکتے ہیں ۔

لیکن کسی ملک کی جانب سے قرضوں کی عدم ادائیگی یا انکار پر اسے عالمی عدالت میں نہیں لے جایا جا سکتا  اور ایسی کوئی مثال بھی موجود نہیں ۔ البتہ اُس ملک پر عالمی اداروں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچتی ہے اور مستقبل کا مالی بندوبست مشکل ضرور ہو جاتا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here