پے پال دنیا کی دوسری بڑی پیمنٹ سروس کیسے بن گئی؟

721

دسمبر 1998ء میں سلیکون ویلی کے تین سافٹ وئیر انجنئیرز نے موبائل فونز کے سکیورٹی سافٹ وئیر بنانے کیلئے کانفینٹی (Confinity) کے نام سے ایک کمپنی بنائی۔

تینوں انجنئیرز پیدائشی امریکی نہیں تھے۔ میکس لیوچن (Max Levchin) کا تعلق یوکرین سے تھا اور وہ سن 1991ء میں امریکا منتقل ہوئے تھے۔

پیٹر تھیل (Peter Theil) جرمنی میں پیدا ہوئے۔ وہ ایک سال کے تھے جب اُن کے والدین روزگار کے لیے امریکا منتقل ہوئے۔

لیوک نوسک (Luke Nosek) پولینڈ میں پیدا ہوئے۔ کمپیوٹر انجنئیرنگ پڑھنے کیلئے امریکا گئے اور وہیں مستقل رہائش اختیار کر لی۔

کانفینٹی کے ابتدائی سرمایہ کاروں میں نوکیا وینچرز اور ڈوئچے بینک شامل تھے۔

اس کمپنی کا دفتر ڈائون ٹائون پالو آلٹو کیلی فورنیا کے 165 یونیورسٹی ایونیو کی اُسی بلڈنگ میں تھا جہاں گوگل، لوجی ٹیک، وئی پے اور سیلیکون ویلی کی دیگر بڑی کمپنیوں کے ابتدائی دفاتر تھے۔

یہ ’لکی بلڈنگ‘ اور ’کارما بلڈنگ‘ بھی کہلاتی ہے اور ستر کی دہائی میں انقلابِ ایران کے بعد امریکا منتقل ہونے والی اُمیدی فیملی کی ملکیت ہے۔

کانفینٹی موبائل فون سکیورٹی سافٹ وئیر کمپنی کے طور پر شروع ہوئی لیکن اس کا بزنس ماڈل چل نہ سکا اور اسے ڈیجیٹل والٹ میں تبدیل کر دیا گیا۔ سن 1999ء میں یہ ایلون مسک کی آن لائن بینکنگ کمپنی ایکس ڈاٹ کام (X.com) میں ضم ہو گئی۔

ایلون مَسک آن لائن منی ٹرانسفر بزنس کے مستقبل کے بارے میں کافی پُرامید تھے اور نوے کی دہائی سے اس حوالے سے کوششیں کر رہے تھے۔ ایکس ڈاٹ کام بھی اسی مقصد کیلئے بنائی گئی تھی۔

مئی 2000ء میں ایلون مسک نے ایکس ڈاٹ کام کے دیگر بینکنگ آپریشنز ختم کر کے ساری توجہ آن لائن منی ٹرانسفر بزنس پر مرکوز کر دی کیونکہ انہیں کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) کا عہدہ مل چکا تھا اور فیصلہ سازی میں خود مختار تھے۔

یہ بھی پڑھیے: 

گوگل: یونیورسٹی ہوسٹل سے دنیا کا سب سے بڑا سرچ انجن اور ٹریلین ڈالر کمپنی بننے تک

آرامکو: ایک کمپنی جس نے سعودی عرب کی قسمت بدل دی

تاہم ’ایکس ڈاٹ کام‘ نام کے حوالے سے ایک سروے کرایا گیا تو کسٹمرز کی اکثریت نے رائے دی کہ کمپنی کا نام بدل دیا جائے کیونکہ ایکس ڈاٹ کام کسی پورنوگرافی ویب سائٹ سے مشابہ ہے۔ اسی بنا پر جون 2001ء میں کمپنی کا نام بدل کر پے پال (PayPal) رکھ دیا گیا۔

ستمبر 2000ء میں جب ایلون مسک آسٹریلیا میں ہنی مون منا رہے تھے تو کمپنی کے بورڈ نے انہیں سی ای او کے عہدے سے ہٹا کر پیٹر تھیل کو سی ای او بنا دیا۔

سن 2002ء میں پے پال نے ابتدائی عوامی پیشکش (آئی پی او) کے ذریعے چھ کروڑ دس لاکھ ڈالر جمع کیے اور پبلک کمپنی بن گئی۔ آئی پی او کے فوری بعد اکتوبر 2002ء میں ای کامرس کمپنی ای بے (eBay) نے ڈیڑھ ارب ڈالر کے عوض پے پال کو خرید لیا کیونکہ ای بے کے 70 فیصد صارفین ادائیگیوں کیلئے پے پال استعمال کر رہے تھے۔

ایکوئزیشن کے بعد پے پال کو ای بے پر ڈیفالٹ پیمنٹ گیٹ وے بنا دیا گیا حالانکہ تب ای بے کی اپنی ذیلی کمپنی بِل پوائنٹ (Billpoint) بھی تھی۔

اس کے علاوہ پے پال کا مقابلہ سٹی بینک کی سی ٹو اِٹ (c2it)، یاہو کی پے ڈائریکٹ اور گوگل کی چیک آئوٹ کے ساتھ بھی تھا۔

2007ء میں ماسٹر کارڈ کے اشتراک سے ’’پے پال سکیور کارڈ سروس‘‘ شروع کی گئی تاکہ کسٹمرز اُن ویب سائٹس پر بھی ادائیگی کر سکیں جو براہ راست پے پال کے ساتھ منسلک نہیں۔ اُسی سال کے آخر تک پے پال کا ریونیو ایک ارب 80 کروڑ ڈالر ریکارڈ کیا گیا۔

جنوری 2008ء میں پے پال نے آن لائن رِسک ٹولز ڈویلپر اسرائیلی سٹارٹ اَپ ’’فراڈ سائنسز (Fraud Sciences)‘‘ کو 16 کروڑ 90 لاکھ ڈالر میں خرید لیا جبکہ نومبر 2008ء میں آن لائن ٹرانزیکشنل کریڈٹ کمپنی ’’بِل می لیٹر (Bill Me Later)‘‘ خرید لی۔ یہ کمپنی اَب ’’پے پال کریڈٹ‘‘ کہلاتی ہے۔

2010ء تک پے پال کے فعال صارف اکائونٹس کی تعداد دس کروڑ سے زائد ہو گئی جن کا تعلق 190 ملکوں سے تھا اور یہ 25 کرنسیوں میں پے پال کے ذریعے ادائیگیاں کر سکتے تھے۔ 2012ء میں پے پال کے ذریعے ہونے والی کل ادائیگیوں کا حجم 145 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔

2013ء میں پے پال نے ای کامرس کمپنیوں کیلئے موبائل اینڈ ویب پیمنٹ سسٹم فراہم کرنے والی کمپنی ’’برین ٹری‘‘ کو خرید لیا اور اُسی سال اپنی موبائل ایپ بھی متعارف کرائی۔

2015ء میں پے پال نے اے ٹی ایمز کیلئے بینکوں کو کلائوڈ سروسز فراہم کرنے والی کمپنی پے ڈی اینٹ (Paydiant) کو 28 کروڑ ڈالر میں خرید لیا۔

یکم جولائی 2015ء کو پے پال نے ڈیجیٹل منی ٹرانسفر کمپنی زوم کارپوریشن (Xoom Corporation) کو ایک ارب ڈالر میں خرید لیا اور زوم کے 13 لاکھ امریکی صارفین بھی پے پال کے پاس آ گئے۔

18 جولائی 2015ء کو ای بے نے پے پال کو سپن آف (spin-off) کر دیا اور یہ خودمختار پبلک ٹریڈڈ کمپنی بن گئی۔

یکم ستمبر 2015ء کو پرسن ٹو پرسن پیمنٹ پلیٹ فارم ’’پے پال ڈاٹ می‘‘ متعارف کرایا گیا۔ اس سروس سے صارفین ٹیکسٹ میسج، ای میل یا کسی بھی میسجنگ ایپ سے ایک کسٹم لنک کے ذریعے رقم کسی کو بھی بھیج اور وصول کر سکتے تھے۔

اس کا مقصد اُن صارفین کو سہولت فراہم کرنا تھا جو پے پال کے روایتی ٹولز یعنی موبائل ایپ یا ویب سائٹ استعمال نہ کرتے ہوں تاکہ وہ ٹیکسٹ میسج کے ذریعے بھی بھی رقم منتقل کر سکیں۔ یہ سہولت ابتدائی طور پر 18 ملکوں میں متعارف کرائی گئی۔

یہ بھی پڑھیے: 

نوڈلز بیچنے سے 300 ارب ڈالر کی کمپنی تک سام سنگ کا سفر

صرف ایک بھارتی کمپنی کی آمدن پاکستان کی مجموعی برآمدات کے آدھے سے بھی زیادہ

مئی 2018ء میں پے پال نے سویڈش پیمنٹ کمپنی iZettle کو دو ارب 20 کروڑ ڈالر میں خرید لیا اور جنوری 2020ء میں ای کامرس ویب سائٹس پر آن لائن کوپن فراہم کرنے والی کمپنی ہنی (Honey) کو چار ارب ڈالر میں خرید کر ’’پے پال ہنی‘‘ بنا دیا۔

کووڈ کے دوران آن لائن ادائیگیوں میں اضافے کی وجہ سے پے پال کے شئیرز کی قیمت میں 78 فیصد اور مجموعی ادائیگیوں کے حجم میں 29 فیصد اضافہ ہوا اور ادائیگیوں کا حجم 220 ارب ڈالر تک چلا گیا۔

اکتوبر 2020 میں نیویارک سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ آف فنانشل سروسز کی جانب سے لائسنس ملنے کے بعد پے پال نے کسٹمرز کو کرپٹو کرنسی کے ذریعے خریداری کی اجازت دے دی۔

مارچ 2022ء میں مزید ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے پے پال کے ذریعے کرپٹو کرنسی ٹرانزیکشنز بھی شروع کر دی گئیں۔

فوربز میگزین کے مطابق 2020 میں ٹیکنالوجی کے شعبے میں پے پال دنیا کے مہنگے ترین برانڈز میں 67ویں اور 2019ء میں دنیا کی بہترین 100 ڈیجیٹل کمپنیوں میں 34ویں نمبر پر رہی۔

اسی طرح بینکنگ اینڈ فنانشل سروسز میں 2022ء کے دوران پے پال دنیا کی بہترین روزگار فراہم کرنے والی کمپنیوں میں 45ویں اور دنیا کی بہترین دو ہزار کمپنیوں میں 216ویں نمبر پر رہی۔

2022ء میں فارچون میگزین کی پانچ سو بڑی امریکی کمپنیوں کی فہرست میں پے پال ریونیو کے لحاظ سے 143ویں نمبر پر رہی۔

پاکستان میں پے پال کی سروس براہ راست میسر نہیں لیکن پاکستانی صارفین پے پال کی ذیلی کمپنی زوم کارپوریشن کے ذریعے رقم منتقل کر سکتے ہیں۔ 2018ء میں ڈیم فنڈ کیلئے رقم اکٹھی کرنے کیلئے حکومت پاکستان نے یہی سروس استعمال کی تھی۔

سال 2022ء کے اختتام پر پے پال 42 کروڑ سے زائد فعال رجسٹرڈ اکائونٹس، 25 ارب 60 کروڑ ڈالر ریونیو، چار ارب ڈالر سے زائد سالانہ منافع، 75 ارب ڈالر سے زائد مالیت کے اثاثوں اور ایک سو ارب ڈالر مارکیٹ کیپٹلائزیشن کے ساتھ امریکن ایکسپریس کے بعد دنیا کی دوسری بڑی آن لائن پیمنٹ کمپنی قرار پائی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here