صرف ایک بھارتی کمپنی کی آمدن پاکستان کی مجموعی برآمدات کے آدھے سے بھی زیادہ

237
from-250-to-78-billion-the-infosys-story

محض اڑھائی سو ڈالر کے ساتھ ایک کمرے سے شروع ہونے والی کمپنی نے بھارت کو ٹیکنالوجی، سٹارٹ اپس اور مواقع کی سر زمین میں بدل دیا۔

250 ڈالر سے شروع ہونے والی اِس کمپنی کی سالانہ آمدن 17 ارب ڈالر سے زائد اور مجموعی مالیت تقریباََ 72 ارب ڈالر ہے۔ گو کہ 24 اگست 2021ء کو اس کمپنی نے 100 ارب ڈالر کی مجموعی مالیت کی نفیسیاتی حد بھی عبور کی اور بھارت کی 100 ارب ڈالر مالیت کی حامل چار کمپنیوں میں اپنی جگہ بنائی۔

یہ کمپنی بین الاقوامی سطح پر مالیاتی خدمات، ریٹیل، مواصلات، توانائی، انسانی وسائل، سافٹ وئیر، اعلیٰ درجے کی ٹیکنالوجی، مینوفیکچرنگ اور لائف سائنسز میں اپنی خدمات فراہم کر رہی ہے اور اس کے بھارت سمیت دنیا بھر میں ملازمین کی تعداد تقریباََ ساڑھے تین لاکھ ہے۔

اس ایک کمپنی نے محاورتاََ نہیں بلکہ حقیقتاََ دنیا کا بھارت کو دیکھنے کا نظریہ بدل کر رکھ دیا۔ جو دنیا پہلے انڈیا کو جوگیوں اور سادھوئوں کی سرزمین کے طور پر دیکھتی تھی اَب وہی اسے ٹیکنالوجی اور سٹارٹ اپس کے مرکز، مواقع کی سرزمین اور ابھرتی ہوئی معیشت کے طور پر دیکھتی ہے۔ کئی سربراہانِ مملکت اس کمپنی کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ کر چکے ہیں۔

اس کمپنی کی کہانی شروع ہوتی ہے جنوری 1981ء سے۔ جب کرناٹک کے ایک انجنئیر این آر نارائن مورتھی نے اپنے چھ انجنئیرز کے ساتھ ایک نئی کمپنی بنانے کا خیال سانجھا کیا۔ چھ ماہ بعد 2 جولائی 1981ء کو نارائن مورتھی نے اپنی بیوی سودھا مورتی سے کچھ رقم ادھار لے کر انفوسز کنسلٹنٹس پرائیویٹ لمیٹڈ کے نام سے کمپنی رجسٹرڈ کروائی اور قرضے سے خریدے گئے اپنے گھر کے ایک کمرے میں دفتر بنا لیا۔

20 اگست 1946ء کو کرناٹک کے سِدلاگھاٹ کے ایک برہمن خاندان میں پیدا ہونے والے نارائن مورتی انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کانپور سے الیکٹریکل انجنئرنگ میں ماسٹرز ڈگری کرنے کے بعد انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ احمدآباد میں ریسرچ ایسوسی ایٹ اور چیف سسٹمز پروگرامر کے طور پر کام کر چکے تھے۔ انہوں نے الیکٹرونکس کارپوریشن آف انڈیا کیلئے بھارت کا پہلا ٹائم شئیرنگ کمپیوٹر سسٹم ڈیزائن کیا اور سافٹرونکس (Softronics) کے نام سے اپنی پہلی کمپنی بنائی جو ناکام رہی۔

نارائن مورتی کے مطابق وہ پہلے پہل کمیونسٹ نظریات کے زیر اثر تھے لیکن 1974ء میں یوگو سلاویہ اور بلغاریہ کی سرحد پر کسی وجہ سے گرفتاری اور ملک بدری نے ان کے سیاسی نظریات کو کسی قدر کیپٹل ازم کی جانب موڑ دیا۔ وہ کہتے ہیں کہ نظریے کی یہی تبدیلی انفوسز کی بنیاد رکھنے کی وجہ بنی۔

1981ء میں جب انہوں نے اپنے انجنئیر ساتھیوں نندن نیل کانی، این ایس راگھوان، ایس گوپال گرشنن، ایس ڈی شیبولال، کرشنا دنیش اور اشوک اروڑا کے ساتھ مل کر انفوسز بنائی تو آئی ٹی خدمات کی آئوٹ سورسنگ کا کام شروع کیا لیکن پہلے دو سالوں تک انہیں کوئی کلائینٹ نہیں ملا۔

1983ء میں امریکا کی ڈیٹا بیسکس کارپوریشن سے سافٹ وئیر ڈویلپمنٹ کا پہلا آرڈر ملا تو انفوسز نے نارائن مورتی کے گھر سے کمپنی کا دفتر بنگلور منتقل کر لیا۔ اُسی سال کمپنی نے پہلا مِنی کمپیوٹر بھی امپورٹ کیا۔

یہ بھی پڑھیے:

ایشیا والے ایشیا کو کیوں چھوڑ رہے ہیں؟

کیا بھارت میں ایٹمی مواد کی بلیک مارکیٹ موجود ہے؟

کیا دبئی ٹیکنالوجی کا اگلا عالمی مرکز بننے جا رہا ہے؟

اگلے آٹھ سال انفوسز کیلئے بالکل آسان نہ تھے۔ زیادہ تر بانی انجنئیرز کی مہارت کمپیوٹر کوڈنگ میں تھی اور وہ اسی کے بل بوتے پر امریکی ٹیک انڈسٹری کو فتح کرنا چاہتے تھے لیکن کوئی راستہ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔

اِنہی مشکل سالوں کے دوران امریکا کی کرٹ سیلمن ایسوسی ایٹس (Kurt Salmon Associates) کے ساتھ انفوسز کا اشتراک ہوا جو مارکیٹنگ کیلئے تھا لیکن 1989ء میں یہ اشتراک بھی ختم ہو گیا اور کمپنی مزید بحران کا شکار ہو گئی۔

امریکا سے متعلق معاملات گوپال کرشنن دیکھتے تھے وہ کہتے ہیں کہ ان کے ساتھ پڑھے ہوئے لوگوں کے پاس کاریں اور ذاتی گھر تھے اور ہم میں سے اکثر اپنے گھر بیچ کر ساری جمع پونچی کمپنی میں لگا چکے تھے۔ اشتراک ختم ہوا تو بانی ارکان میں سے ہر کسی کو یقین تھا کہ کمپنی اَب ضرور بند ہو جائے گی۔

اسی دوران بانی ٹیم کے رکن اشوک اروڑا نے انفوسز کی ڈوبتی نائو سے چھلانگ لگا کر خود کو محفوظ کرنا مناسب جانا۔ باقی لوگ بھی شش و پنج کا شکار تھے۔

اس موقع پر نارائن مورتھی آگے آئے۔ انہوں نے کہا کہ اگر سب لوگ بھی چھوڑ جائیں تو وہ اکیلے کمپنی چلا کر دکھائیں گے۔ یہ دھمکی نما جملہ کام کر گیا اور باقی ساتھیوں نے کمپنی چھوڑنے کا ارادہ ترک کر دیا۔

1992ء میں اسے انفوسز ٹیکنالوجیز کے نام سے پبلک لمیٹد کمپنی بنا دیا گیا اور 93ء میں سرمایہ اکٹھا کرنے کیلئے پہلی ابتدائی عوامی پیشکش (IPO) کی گئی جس کیلئے امریکی بینک مورگن سٹینلے نے سرمایہ فراہم کیا۔

1999ء میں انفوسز کی سالانہ آمدن دس کروڑ ڈالر سے بڑھ گئی جو اَب تقریباََ سترہ ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔

چونکہ انفوسز کی زیادہ توجہ امریکی ٹیکنالوجی مارکیٹ پر تھی اور ایک تہائی آمدن بھی امریکا سے آ رہی تھی اس لیے 1999ء میں یہ نسدق سٹاک ایکسچینج پر رجسٹر ہونے والی پہلی بھارتی کمپنی بن گئی جو اپنی مالیت کے لحاظ سے نسدق پر رجسٹرڈ اس وقت کی بیس بڑی کمپنیوں میں شامل تھی۔

اِس وقت انڈیا، چین، آسٹریلیا، امریکا، جاپان، مشرق وسطیٰ اور یورپ میں انفوسز کے اسّی سے زائد مارکیٹنگ دفاتر اور ایک سو بیس سے زائد ترقیاتی مراکز قائم ہیں۔ کمپنی کی ساٹھ فیصد آمدن شمالی امریکا، چوبیس فیصد یورپ اور تین فیصد بھارت جبکہ باقی تیرہ فیصد دیگر ملکوں سے آتی ہے۔

اس کمپنی کے کلائنٹس میں ویزا، ری بُوک، بوئنگ، سِسکو سسٹمز اور ہارلے ڈیوڈسن سمیت تین سو پندرہ بین الاقوامی کمپنیاں اور کارپوریشنز شامل ہیں اور یہ بھارت کی سب سے بڑی آئی ٹی خدمات کی برآمد کنندہ ہے۔

انفوسز کے 12.95 فیصد حصص پروموٹرز گروپ یعنی بانی ارکان کے پاس، 33.39 فیصد غیرملکی سرمایہ کاروں کے پاس اور 21.98 فیصد مقامی سرمایہ کاروں کے پاس ہیں جبکہ 31.32 فیصد حصص پبلک ہیں جن میں کوئی بھی سرمایہ کاری کر سکتا ہے۔

انڈیا کی اس کمپنی نے 2003ء سے 2022ء تک امریکا، جرمنی، آسٹریلیا اور دیگر ملکوں میں آئی ٹی، انشورنس، فنانس، آٹومیشن ٹیکنالوجی، مشین لرننگ اور ڈیجیٹل سلوشنز کی تقریباََ سترہ کمپنیوں کو خریدا ہے۔

2002ء میں اس کمپنی نے میسور میں دنیا کی سب سے بڑی کارپوریٹ یونیورسٹی انفوسز گلوبل ایجوکیشن سینٹر کے نام سے قائم کی جہاں بین الاقوامی سطح کے 400 اساتذہ سالانہ 14 ہزار ملازمین کو مختلف ٹیکنالوجیز کی تربیت دیتے ہیں۔

میسور میں ہی انفوسز لیڈرشپ انسٹی ٹیوٹ قائم کیا گیا ہے جہاں کمپنی کی مستقبل کی قیادت تیار کی جاتی ہے۔

2006ء میں انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکائونٹنٹس آف انڈیا نے انفوسز کو ہال آف فیم میں شامل کیا۔ 2012ء میں فوربز نے اسے دنیا کی سب سے زیادہ جدت پر مبنی کمپنیوں کی فہرست میں انیسویں نمبر پر رکھا۔

2013 انفوسز دنیا کی اٹھارویں بڑی آئی ٹی خدمات فراہم کرنے والی کمپنی قرار پائی۔ 2020ء میں اسے ریٹیل خدمات اور 2021ء میں ڈیٹا اینڈ اینالیٹکس خدمات میں عالمی سطح پر نمایاں قرار دیا گیا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here