سی پیک: پہلے مرحلے کتنی سرمایہ کاری آئی اور کتنے ارب ڈالر کے منصوبے مکمل ہوئے؟

چینی کمپنیوں کی جانب سے فیڈمک میں ساڑھے84 کروڑ ڈالر، فیبری کیٹڈ گھر بنانے کیلئے 2 کروڑ ڈالر، ایل ای ڈی بلب کے پلانٹ میں ایک کروڑ 80 لاکھ ڈالر، سرامکس سیکٹر میں 30 کروڑ ڈالر کے علاوہ ٹیکسٹائل، ای بائیکس اور تھری وہیلرز کے پلانٹ لگانے کیلئے بھاری سرمایہ کاری کی گئی ہے، معاون خصوصی برائے سی پیک امور خالد منصور

312

اسلام آباد: وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سی پیک امور خالد منصور نے کہا ہے کہ پاکستان سی پیک کے تحت تعمیر و ترقی کا سفر تیزی سے آگے بڑھانے کے لئے مکمل طور پر پرعزم ہے اور اسے دوطرفہ تجارت اور تعاون کے لئے محفوظ راستہ بنا رہا ہے۔

معاون خصوصی برائے سی پیک امور کی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد سوموار کو خالد منصور نے پہلی پریس کانفرنس سے خطاب کیا، اس موقع پر 8 چینی کمپنیوں کے سی ای اوز بھی موجود تھے۔

معاون خصوصی برائے سی پیک نے کہا کہ چینی سرمایہ کاروں کو امن و امان کے حوالے سے تحفظات تھے جو دور کر دیے گئے ہیں، انہیں امن و امان کی مجموعی صورت حال پر تفصیلی بریفنگ میں حکومت کی جانب سے اضافی سکیورٹی کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔

خالد منصور نے بتایا کہ چینی حکام نے 23 یا 24 ستمبر کو مشترکہ تعاون کمیٹی (جے سی سی) کے دسویں اجلاس پر آمادگی ظاہر کی ہے، اس لیے ہم میگا پروجیکٹس کے حوالے سے کافی پرامید ہیں، جے سی سی کے تحت مختلف شعبوں کے 9 جوائنٹ ورکنگ گروپ موجود ہیں، جن میں زراعت، توانائی، انفراسٹرکچر، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر شعبے شامل ہیں، ان پر اجلاس کے دوران تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیے: سی پیک کا ایک اور منصوبہ مکمل، 660 کے وی مٹیاری لاہور ٹرانسمیشن لائن کمرشل بنیادوں پر فعال

انہوں نے واضح کیا کہ وہ طاقتیں جو پاکستان کی تعمیر و ترقی کی راہ میں رکاوٹ بننا چاہتی ہیں ان کے ارادوں کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔

معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ سی پیک کے پہلے مرحلے میں 25 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری آئی جس میں سے 13 ارب ڈالر کے منصوبے پایہ تکمیل کو پہنچ چکے ہیں جبکہ 12 ارب ڈالر کے منصوبے آئندہ ایک سال میں مکمل ہو جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ سی پیک کے دوسرے مرحلے میں زیادہ شعبوں کو شامل کیا گیا ہے جس سے غیرملکی سرمایہ کاری میں نمایاں اضافے کے ساتھ ساتھ روزگار کے سینکڑوں مواقع پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔

خالد منصور کا کہنا تھا کہ سی پیک اور فیڈمک کا پہلا مشترکہ خصوصی اقتصادی زون گزشتہ تین سالوں سے کام شروع کر چکا ہے اور اس میں کئی چینی کمپنیوں کی جانب سے اب تک تقریباََ 84 کروڑ 50 لاکھ ڈالر سرمایہ کاری کی جا چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ فیبری کیٹڈ گھر بنانے والی ایک چینی کمپنی نے پاکستان میں 2 کروڑ ڈالر سرمایہ کاری کی ہے اور کمپی جلد سستے گھر بنانا شروع کرے گی۔

یہ بھی پڑھیے: 9 چینی کمپنیوں کی پاکستان میں سرمایہ کاری میں دلچسپی، وزیراعظم کی بھرپور تعاون کی یقین دہانی

معاون خصوصی برائے سی پیک نے کہا کہ ایک دوسری چینی کمپنی نے خصوصی اقتصادی زون میں الیکٹرک بائیکس اور تھری وہیلرز تیار کرنے کا پلانٹ لگایا ہے، پانچ ایکڑ رقبے پر محیط مینوفیکچرنگ پلانٹ سے پیداواری عمل بھی شروع ہو چکا ہے۔

اسی طرح ایک چینی کمپنی ایک کروڑ 80 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری سے ایل ای ڈی بلب بنانے کا پلانٹ لگا چکی ہے جبکہ سرامکس سیکٹر میں بھی 30 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی ہے اور ایک چینی کمپنی نے سرامکس ٹائلز کا پلانٹ لگایا ہے جو 120 ایکڑ رقبے پر محیط ہے۔

خالد منصور نے کہا کہ سمارٹ فون بنانے والی کمپنی اوپو نے خصوصی اقتصادی زون میں اپنا مینوفیکچرنگ پلانٹ قائم کیا ہے، چینی کمپنی چیلنج ٹیکسٹائل نے اعلیٰ معیار کے سپورٹس وئیر بنانے کا پلانٹ لگایا ہے اور گزشتہ سال کمپنی نے 15 کروڑ ڈالر کی مصنوعات ایڈی ڈاز، ری بک اور امریکن ایگل جیسی مشہور کمپنیوں کو برآمد کیں، ایک سال کے اندر برآمدات کا ہدف 45 کروڑ ڈالر رکھا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: سستے گھروں کی تعمیر، کچی آبادیوں کی اَپ گریڈیشن کیلئے چینی کمپنی کیساتھ معاہدہ

انہوں نے کہا کہ چینی سرمایہ کاروں کی سہولت کیلئے ون ونڈو آپریشن شروع کیا گیا ہے، چار ترجیحی اقتصادی زونز میں صنعتی ترقی کا عمل تیز کرنے کیلئے خاص اقدامات کیے جا رہے ہیں، ان میں خیبر پختونخوا کا رشکئی اقتصادی زون، پنجاب میں فیڈمک، سندھ میں دھابیجی اور بلوچستان کا گوادر خصوصی اقتصادی زون شامل ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں  معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ تاخیر کا شکار منصوبوں کے مسائل دور کرنے کیلئے ایک ایکشن پلان مرتب کیا گیا ہے، سی پیک قومی اہمیت کا منصوبہ ہے اور ملک کی تمام سیاسی جماعتوں نے اس کی مکمل حمایت کی ہے۔

صنعتی یونٹس کے قیام کے حوالے سے ایک سوال پر خالد منصور نے کہا کہ چینی سرمایہ کاروں کو دونوں آپشنز دیے گئے ہیں، وہ صنعتی یونٹس قائم کرنے کیلئے اراضی زمین پر حاصل کر سکتے ہیں یا زمین خرید کر اس کے مالک بھی بن سکتے ہیں۔

منصوبوں کی شفافیت سے متعلق ایک سوال پر معاون خصوصی نے کہا کہ انہوں نے خود پاور سیکٹر کے پانچ ارب ڈالر کے منصوبے مکمل کروائے ہیں لیکن کسی منصوبے میں کک بیکس کے شواہد نہیں ملے، سی پیک کے تمام منصوبوں میں شفافیت کو مکمل طور پر یقینی بنایا جا رہا ہے۔

خالد منصور نے اس تاثر کی بھی نفی کی کہ چینی سرمایہ کار اپنے ملک سے لیبر منگوا کر سی پیک منصوبوں میں کام کروا رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد سی پیک منصوبوں سے وابستہ ہے جنہیں تربیت بھی دی جا رہی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here