اماراتی شہریوں کیلئے 24 ارب درہم کی مالی مراعات، 75 ہزار ملازمتیں پیدا ہوں گی

117

ابوظہبی: متحدہ عرب امارات نے نجی شعبے میں نئے مواقع پیدا کرنے کی غرض سے 24 ارب درہم (6 ارب 53 کروڑ 38 لاکھ ڈالر) کی لاگت سے اصلاحات اور مالی مراعات کا اعلان کیا ہے جس کے تحت نوجوانوں اور تجربہ کار افراد کیلئے نجی شعبے میں 75 ہزار ملازمتو ں کے مواقع پیدا کئے جائیں گے۔

ان اعلانات میں طلباء اور نئے فارغ التحصیل افراد کو نجی شعبے میں کام کرنے کے لئے ایک ارب درہم گریجویٹ بزنس ڈویلپمنٹ فنڈ گرانٹ، حکومت کے تعاون سے نجی شعبے کا چائلڈ الاؤنس اور نئے کاروبار شروع کرنے والے وفاقی حکومت کے ملازمین کے لئے کیریئر بریک اور ریٹائرمنٹ سکیمیں شامل ہیں۔

یو اے ای کے صدر شیخ خلیفہ بن زاید آل نہیان نے کہا ہے کہ ہمارے شہریوں، ان کے بچوں اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک مہذب زندگی ہماری سب سے بڑی ترجیح ہے، کیریئر کے امکانات بڑھانے کے لیے نجی شعبے کے ساتھ کام کرنے کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ روزگار کے یہ مواقع آنے والی دہائیوں تک برقرار رہیں۔

نئے اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے نائب صدر، وزیر اعظم اور دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد آل مکتوم نے کہا کہ بطور قوم اپنی گولڈن جوبلی کے موقع پر ہم عالمی معیار کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر سے لے کر انسانی اقدار اور انسانوں پر سرمایہ کاری کے شاندار ذرائع بنا رہے ہیں۔

محمد بن راشد آل مکتوم نے کہا کہ ’ہمارے لوگ ہمارا فخر اور ہمارا مستقبل ہیں اور ہم اپنے کامیاب کاروبار، تجارت اور علم پر مبنی معیشت کے بہتر مستقبل کے لیے اپنے نوجوانوں پر سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔‘

یو اے ای حکومت کے اس پروگرام کا انتظام نئی بنائی گئی اماراتی ٹیلنٹ مسابقتی کونسل سنبھالے گی جس کی قیادت نائب وزیر اعظم اور صدارتی امور کے وزیر شیخ منصور بن زید آل نہیان کر رہے ہیں۔

کون سے اقدامات متعارف کرائے گئے ہیں؟

ان اقدامات میں اماراتی سیلری سپورٹ سکیم کے تحت نجی شعبے کی کمپنیوں میں شہریوں کو ایک سال تک ماہانہ 8 ہزار درہم تک تنخواہ ادا کی جاتی ہے تاکہ گریجویٹس کی بھرتی اور تربیت کی حوصلہ افزائی کی جا سکے، اس کے تحت پانچ سال کیلئے ماہانہ بنیادوں پر 5 ہزار درہم تک کی سپورٹ بھی فراہم کی جائے گی۔

میرٹ پروگرام خصوصی شعبوں میں اماراتی ورکرز جن میں نرسیں، اکاؤنٹنٹس اور مالیاتی آڈیٹرز، وکلاء، مالیاتی تجزیہ کار اور کوڈرز شامل ہیں کو ماہانہ 5 ہزار درہم ٹاپ اَپ دیا جائے گا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here