کووڈ۔19 کے باوجود زرعی قرضوں کے اجرا میں 12 فیصد اضافہ، حجم 1366 ارب روپے رہا

مالی سال 2020-21ء کے دوران زرعی قرضوں کا مجموعی ہدف 1500 ارب روپے مقرر تھا جو 91 فیصد پورا ہو گیا، تقریبا 20 لاکھ قرض گیروں نے اصل رقم کے التواء اور 132 ارب روپے کے واجب الادا قرضوں کی تشکیلِ نو کی سہولت حاصل کی، سٹیٹ بینک

205

اسلام آباد: کووڈ۔19 کی رکاوٹوں اور مشکلات کے باوجود گزشتہ مالی سال 2020-21ء کے دوران ملک بھر کے بینکوں کی جانب سے زرعی قرضوں کے اجراء میں 12 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

سٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ مالی سال کے دوران زرعی قرضوں کا حجم 1500 ارب روپے مقرر تھا جس میں سے مجموعی طور پر 1366 ارب روپے کے قرضے جاری کئے گئے ہیں جو سالانہ ہدف کا 91 فیصد ہیں۔

رپورٹ کے مطابق جون 2020ء کے مقابلہ میں جون 2021ء کے اختتام پر واجب الادا زرعی قرضوں میں 8 فیصد اضافہ ہوا اور ان کا حجم 628 ارب روپے رہا۔ مالی سال 2020ء کے مقابلہ میں مالی سال 2021ء کے دوران زرعی شعبہ کے واجب الادا قرضوں میں 2.77 فیصد اضافہ ہوا۔

یہ بھی پڑھیے:

زرعی ٹریکٹروں کی پیداوار میں 65.24 فیصد، فروخت میں 62.17 فیصد اضافہ ریکارڈ

سی پیک کے دوسرے مرحلے میں چین کا زرعی شعبے میں ٹیکنالوجی کی منتقلی پر اتفاق

چاول کی کاشت اور مچھلیوں کی افزائش ایک ساتھ، قومی زرعی تحقیقاتی مرکز کا انقلابی منصوبہ

رپورٹ کے مطابق مالی سال 2021ء میں تجارتی، زرعی اور اسلامی بینکوں کیلئے زرعی قرضوں کا ہدف 1277 ارب روپے مقرر تھا اور دوران سال ہدف کے مقابلہ میں 95 فیصد قرضے جاری کئے گئے۔

اسی طرح مائیکرو فنانس بینکوں نے دوران سال زرعی قرضوں کے ہدف کے 73 فیصد کے مساوی جبکہ مائیکروفنانس اداروں اور رُورل سپورٹ پروگرام کے تحت 57 فیصد قرضے جاری کئے گئے۔

تاہم زرعی قرضے لینے والوں کی تعداد میں پانچ فیصد کمی آئی، مالی سال 2020ء میں قرض گیروں کی مجموعی تعداد 37 لاکھ تھی جو مالی سال 2021ء کے دوران کم ہو کر 35 لاکھ رہ گئی، اس کی بنیادی وجہ وبا کی بناء پر بینکوں اور مالیاتی اداروں میں محدود رسائی تھی۔

ایس بی پی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کووڈ 19 سے منسلک خطرات پر قابو پانے کے لیے سٹیٹ بینک کے فعال اقدامات کے نتیجے معیشت کو ترقی ملی اور زراعت سمیت تمام بڑے شعبوں میں اقتصادی سرگرمیاں خاصی تیزی سے بحال ہوئیں۔

اس کے ساتھ سٹیٹ بینک نے پالیسی ریٹ 625 بیسز پوائنٹس کم کرکے بھی بینکوں کو موقع دیا کہ وہ معاشی تعطل پر قابو پانے کے لیے قرضے کی اصل رقم کی وصولی ملتوی کرنے اور زرعی قرضوں کی تشکیلِ نو کی پیشکش کریں۔

اپریل 2021ء تک زرعی اور مائیکرو فنانس شعبوں میں تقریبا 20 لاکھ قرض گیروں نے اصل رقم کے التواء اور 132 ارب روپے کے واجب الادا قرضوں کی تشکیلِ نو کی سہولت حاصل کی۔

سٹیٹ بینک کے منصوبوں اور پالیسی اقدامات سے ملک میں غذائی تحفظ کے اہم مسئلے کے حل میں مدد ملی، ان سے سازگار ضوابطی ماحول پیدا ہوا، خواتین کی شمولیت بڑھی اور کاشت کاری کے طریقوں میں جدت آئی۔

مزید برآں، سٹیٹ بینک نے لینڈ ریونیو کے صوبائی حکام کے ساتھ بینکوں کی شراکت داری بنانے اور قرضے کے حصول کے لیے اراضی کا خودکار ریکارڈ استعمال کرنے میں سہولت دی۔

حکومت کی فصل کے قرضے کی بیمہ سکیم اور لائیو سٹاک کے قرضے کی بیمہ سکیم نے بھی بینکوں کی حوصلہ افزائی کرنے میں اہم کردار ادا کیا کہ وہ چھوٹے کاشت کاروں کو قرضے فراہم کریں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here