چاول کی کاشت اور مچھلیوں کی افزائش ایک ساتھ، قومی زرعی تحقیقاتی مرکز کا انقلابی منصوبہ

قومی زرعی تحقیقاتی مرکز میں چاول کی کاشت کیلئے مکینیکل ٹرانسپلانٹر اور چاول کے ساتھ مچھلیوں کی افزائش کے قومی منصوبے کا افتتاح، یہ منصوبہ پنجاب، خیبرپختونخوا اور بلوچستان کیلئے بیک وقت شروع کیا گیا ہے

1211

اسلام آباد: زراعت کو جدید بنانے اور چاول کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافے کے لئے پاکستان ایگری کلچرل ریسرچ کونسل (پی اے آر سی) ایک ایسے انقلابی منصوبے پر کام کر رہا جس کے تحت چاول کی کاشت اور مچھلیوں کی افزائش ایک ساتھ ممکن ہو گی اور کاشت کاروں کو دوہرا فائدہ پہنچے گا۔

پاکستان ایگری کلچرل ریسرچ کونسل چاول کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافے کے لیے نہ صرف ٹرانسپلانٹرز متعارف کروا رہا ہے بلکہ مقامی کسانوں میں چاول کی مشینی کاشت کو ممکن بنانے کے لئے ٹرانسپلانٹرز کی تقسیم اور تربیت پر بھی کا م کر رہا ہے۔

اس سلسلے میں “رائس مکینیکل ٹرانسپلانٹر” کے عملی مظاہرہ کی تقریب قومی زرعی تحقیقاتی مرکز اسلام آباد میں منعقد ہوئی جہاں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے غذائی تحفظ و تحقیق جمشید اقبال چیمہ مہمان خصوصی تھے۔ اس موقع پر چاول کے ساتھ مچھلیوں کی افزائش کے منصوبے کا بھی افتتاح کیا گیا۔

معاون خصوصی جمشید اقبال چیمہ نے کہا کہ حکومت پاکستان کی زیر نگرانی چاول کی کاشت کے جدید منصوبے شروع کرنے کا مقصد فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کرنا ہے تاکہ بڑھتی ہوئی آبادی کی غذائی ضروریات کو پورا کیا جا سکے اور اضافی زرعی پیداوار بیرون ملک برآمد کر کے زرمبادلہ کمایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ اِس وقت پاکستان میں چاول کی فی ایکڑ پیداوار دیگر ممالک کے مقابلے میں انتہائی کم ہے تاہم  زرعی تحقیقاتی مرکز کے منصوبہ جات کی بنا پر چاول کی فی ایکڑ پیداوار میں غیر معمولی اضافہ ہو گا بلکہ اس کا معیار بھی بہتر ہو گا۔

جمشید اقبال نے کہا کہ حکومت کاشت کاروں کو مشینری اور بیجوں کی فراہمی پر 50 فیصد سبسڈی فراہم کر رہی ہے جس کا مقصد باسمتی چاول کی فی ایکڑ پیداوار میں 10 ٹن اور نان باسمتی کی پیداوار میں 20 ٹن اضافہ کرنا ہے، یہ منصوبہ پنجاب، خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں شروع کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ چاول کے سیزن کے دوران حکومت نے 268 مشینیں، مولڈ بولڈ پلو اور نیپسک پاور اسپریئر تقسیم کیں اور کاشت کاروں کو 652 ٹن چاول کی ترقی یافتہ اقسام کا بیج تقسیم کیا گیا جس سے ملک میں چاول کی پیداوار میں 7.4 سے 8.2 ملین ٹن کا اضافہ ہوا ہے جو قابل ذکر کامیابی ہے۔

اس موقع پر چیئرمین پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل ڈاکٹر محمد عظیم خان نے کہا کہ چاول کی کم پیداوار کی سب سے بڑی وجہ کھیتوں میں پودوں کی تعداد کا کم ہونا ہے جو دھان کی پنیری لگانے کیلئے مزدوروں کی کم یابی اور لاگت میں غیر معمولی اضافے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے، مکینیکل ٹرانسپلانٹر کی کاشت سے دستی ٹرانسپلانٹ کے مقابلے میں کم وقت اور محنت کی ضرورت ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ میکینکل ٹرانسپلانٹر پودوں کے درمیان یکساں وقفہ رکھتا ہے، اس کے ذریعے ایک دن میں ایک کھیت میں چاول کے 80 ہزار سے ایک لاکھ 20 ہزار تک پودے لگائے جا سکتے ہیں۔

چیئرمین پی اے آر سی نے مزید کہا کہ  “رائس کم فش کلچر” ٹیکنالوجی (چاول کے ساتھ مچھلیوں کی افزائش) کے پائلٹ پراجیکٹ کو شامل کر کے اس منصوبے کو ماہی گیری کے شعبے تک وسعت دی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ رائس فش کلچر میں ایک ہی زمین اور پانی کو دونوں کاموں کے لئے استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔ چونکہ چاول کی فصل میں پانی ہر وقت کھڑا رہتا ہے لہٰذا قدرتی طور پر چاول کی فصل میں مچھلی کی افزائش انتہائی مناسب ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دنیا کے کئی ممالک میں دھان کے ساتھ مچھلیوں کی کامیاب افزائش کی جا رہی ہے اور اس طرح کسان چاول اور مچھلی ایک ساتھ کاشت سے اضافی آمدنی لے رہے ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here