او آئی سی سی آئی اداروں کی پاکستان میں 2.4 ارب ڈالر سرمایہ کاری، 1.4 کھرب روپے ٹیکس ادائیگی

مالی سال 2020ء کے دوران ہر کاروباری دن تقریباََ 5 ارب روپے ٹیکس ادا کیا گیا، چیمبر کی رکن دو کمپنیوں کی طرف سے انفرادی طور پر 100 ارب روپے سے زائد ٹیکس قومی خزانہ میں جمع کرایا گیا

290

اسلام آباد: سال 2020ء کے دوران اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آئی سی سی آئی) کے رکن اداروں نے پاکستان میں 2.4 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی  اور اس دوران مختلف ٹیکسوں کی مد میں قومی خزانہ کو 1.4 کھرب روپے کی ادائیگیاں بھی کیں۔

او آئی سی سی آئی کے سروے نتائج کے مطابق پاکستان میں چیمبر کے رکن اداروں کی تعداد 200 سے زیادہ ہے جو 35 مختلف ممالک سے تعلق رکھتے ہیں۔

پاکستان میں کام کرنے والے او آئی سی سی آئی کے رکن ادارے ایگرو کیمیکل، کھاد، زرعی ادویات، آٹو موبائلز، بینکنگ، سیمنٹ، کیمیکلز، پینٹس، انجنیئرنگ اور انڈسٹریل مصنوعات، فنانس، انشورنس، آئی ٹی اور مواصلات کے علاوہ شپنگ، ایئرلائنز، سیکورٹی سروسز، ٹیلی کیمونیکیشن، آئل اینڈ گیس اور توانائی سمیت دیگر شعبوں میں خدمات فراہم کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: 200 غیرملکی سرمایہ کاروں کی تنظیم کا پاکستان میں کاروبار کیلئے سکیورٹی صورتحال پر اظہار اطمینان

اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ 7 سال کے دوران او آئی سی سی آئی کے رکن اداروں نے پاکستان میں 13 ارب ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کی ہے۔

سروے نتائج کے مطابق کووڈ۔19 کے مسائل کے باوجود سال 2020ء کے دوران چیمبر کی رکن کمپنیوں کی طرف سے قومی خزانہ میں جمع کرائے گئے ٹیکسوں کا حجم 1.4 کھرب روپے رہا اور ہر کاروباری دن تقریباََ 5 ارب روپے کی ٹیکس ادائیگیاں کی گئی ہیں۔

واضح رہے کہ چیمبر کی دو رکن کمپنیوں کی طرف سے انفرادی طور پر 100 ارب روپے سے زیادہ کی ٹیکس ادائیگیاں کی گئی ہیں۔

اس سے قبل اوورسیز چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے پاکستان میں کاروباروں کے تحفظ کے حوالے سے اپنی سروے رپورٹ میں اطمینان کا اظہار کیا تھا۔ او آئی سی سی آئی کا سکیورٹی سروے 2021ء کا انعقاد 21 مئی سے 21 جون کے دوران کیا گیا تھا جس میں کہا گیا ہے کہ 2020ء کے وسط کے مقابلے میں حالیہ سروے کے مطابق مجموعی طور پر کاروباری مراکز میں سکیورٹی صورت حال میں بہتری آئی ہے۔

سروے رپورٹ کے مطابق سال 2020ء کے مقابلے میں خاص طور پر لاہور کے کاروباری اور تجارتی مراکز میں سکیورٹی کی صورت حال 61 فیصد بہتر ہوئی، باقی پنجاب میں 53 فیصد، خیبرپختونخوا میں 59 فیصد اور کراچی  میں 51 فیصد بہتری ریکارڈ کی گئی۔

سروے میں غیرملکی سرمایہ کاروں نے ملک میں تیزی سے بہتر ہوتی ہوئی امن و امان کی صورت حال پر اطمینان کا اظہار کیا ہے اور خاص طور پر کراچی اور لاہور میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی کو سراہا ہے جس سے دونوں شہروں کی سکیورٹی پروفائل میں اضافہ ہوا ہے اور یہ خطے کے دیگر شہروں کے برابر آ کھڑے ہوئے ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here