200 غیرملکی سرمایہ کاروں کی تنظیم کا پاکستان میں کاروبار کیلئے سکیورٹی صورتحال پر اظہار اطمینان

سال 2020ء کے مقابلے میں لاہور کے تجارتی مراکز میں امن و امان کی صورت حال 61 فیصد، باقی پنجاب میں 53 فیصد، خیبرپختونخوا میں 59 فیصد، کراچی میں 51 فیصد بہتر ہوئی، لاہور اور کراچی کو محفوظ کاروباری ماحول کے لحاظ سے اہم ترین ایشیائی شہروں کے ہم پلہ قرار دیدیا گیا

336

کراچی: پاکستان میں 200 سے زائد غیر ملکی سرمایہ کاروں کی نمائندہ اوورسیز چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آئی سی سی آئی) نے ملک کی سکیورٹی صورتِ حال پر اپنے سالانہ سروے کے نتائج اعلان کر دیا جس میں ملک کے تجارتی مراکز میں سکیورٹی ماحول کے بارے میں آراء شامل ہیں۔

او آئی سی سی آئی کے سکیورٹی سروے 2021ء کا انعقاد 21 مئی سے 21 جون کے دوران کیا گیا تھا جس میں کہا گیا ہے کہ 2020ء کے وسط کے مقابلے میں حالیہ سروے کے مطابق مجموعی طور پر کاروباری مراکز میں سکیورٹی صورت حال میں بہتری آئی ہے۔

سروے رپورٹ کے مطابق سال 2020ء کے مقابلے میں خاص طور پر لاہور کے کاروباری اور تجارتی مراکز میں سکیورٹی کی صورت حال 61 فیصد بہتر ہوئی، باقی پنجاب میں 53 فیصد، خیبرپختونخوا میں 59 فیصد اور کراچی  میں 51 فیصد بہتری ریکارڈ کی گئی۔

سروے میں غیرملکی سرمایہ کاروں نے ملک میں تیزی سے بہتر ہوتی ہوئی امن و امان کی صورت حال پر اطمینان کا اظہار کیا ہے اور خاص طور پر کراچی اور لاہور میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی کو سراہا ہے جس سے دونوں شہروں کی سکیورٹی پروفائل میں اضافہ ہوا ہے اور یہ خطے کے دیگر شہروں کے برابر آ کھڑے ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے:

سٹاک ایکسچینج میں کمپنیوں کو 14 سال بعد ریکارڈ سرمایہ کاری حاصل

صرف 6 ماہ میں پاکستانی سٹارٹ اَپس میں گزشتہ 3 سالوں سے زیادہ سرمایہ کاری ریکارڈ

بورڈ آف انویسٹمنٹ 2023ء تک 50 ارب ڈالر بیرونی سرمایہ کاری پاکستان لانے کیلئے پرعزم

سروے کے نتائج پر تبصرہ کرتے ہوئے او آئی سی سی آئی کے صدر عرفان صدیقی نے کہا کہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے سکیورٹی ماحول کے بارے میں مثبت تاثر انتہائی اطمینان کی بات ہے اور مستقبل کے ممکنہ سرمایہ کاروں کیلئے ایک مثبت پیغام ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے امن و امان کی صورت حال کا کردار نہایت اہم ہے اور غیر ملکی سرمایہ کاروں نے بھی ملک میں امن و امان کی صورت حال بہتر بنانے پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سراہا ہے۔

سروے کے 62 فیصد جواب دہندگان کیلئے سرِ فہرست تین خدشات میں سے ایک امن و امان کی صورت حال رہی جو 2020ء کے سروے میں 70 فیصد شرکاء کے جواب سے معمولی بہتر ہے۔

یہ انتہائی حوصلہ افزاء بات ہے کہ مارچ 2020ء سے کووِڈ 19 کے باعث سفری پابندیوں کے باوجود پچھلے ایک سال کے دوران او آئی سی سی آئی کے ممبران کے ساتھ کاروباری غرض سے آنے والے غیر ملکی سرمایہ کاروں نے محتاط تعداد میں پاکستان کا دورہ کیا۔

ان غیرملکی کاروباری افراد میں چین، برطانیہ، امریکہ، جرمنی، جاپان، متحدہ عرب امارات (جہاں متعدد ممبرز کمپنیوں کے علاقائی ہیڈکوارٹرز واقع ہیں) کے ساتھ دیگر یورپی اور ایشیائی ممالک کے سرمایہ کار بھی شامل تھے۔

او آئی سی سی آئی کے چیف ایگزیکٹو اور سیکریٹری جنرل عبدالعلیم نے کہاکہ غیرملکی سرمایہ کاروں کا امن و امان کی مجموعی صورت حال پر اطمینان کا اظہار پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاری کے فروغ میں معاون ثابت ہو گا، امید ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے بڑھتے ہوئے سٹریٹ کرائم پر بھی جلد قابو پالیں گے جس سے مثبت ماحول کو مزید تقویت ملے گی۔

او آئی سی سی آئی سکیورٹی سروے 2021ء میں او آئی سی سی آئی کے 200 سے زائد ممبران میں سے دو تہائی ممبران نے جوابات دیے ہیں اور سروے کے رائے دہندگان میں سی ای اوز اور ممبر اداروں کے اعلیٰ حکام کی آراء شامل ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here