ملک بھر میں سیلولر، انٹرنیٹ سروسز کی اَپ گریڈیشن کیلئے اضافی سپیکٹرم نیلامی کی منظوری

دستیاب ریڈیو فریکوینسی 1800 اور 2100 میگاہرٹز کیلئے اضافی سپیکٹرم کے ایک میگا ہرٹز پیئر کی پاکستان کیلئے ابتدائی قیمت بالترتیب 29 ملین ڈالر اور 31 ملین ڈالر جبکہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کیلئے قیمت 8 لاکھ 70 ہزار ڈالر رکھی گئی ہے، قومی خزانے کو اربوں روپے کی آمدن متوقع ہے

333

اسلام آباد: ملک بھر میں سیلولر اور انٹرنیٹ سروسز کی بہتری اور ٹو جی سروسز کو فورجی پر اَپ گریڈ کرنے کیلئے وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام نے اضافی سپیکٹرم نیلامی کی تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔

وفاقی کابینہ اپنے منگل (27 جولائی) کے اجلاس میں اضافی سپیکٹرم نیلام کرنے کی منظوری دے چکی ہے، اس حوالے سے وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کام سید امین الحق کا کہنا ہے کہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ کشمیر اور گلگت بلتستان کیلئے اضافی سپیکٹرم کی نیلامی ہو رہی ہے، اس سے ملک بھر کے مضافاتی اور شہری علاقوں اور آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے دور دراز پہاڑی علاقوں میں موبائل نیٹ ورکنگ اور براڈ بینڈ سروسز کے معیار میں بہتری آئے گی۔

سید امین الحق کے مطابق ’’دستیاب ریڈیو فریکوینسی 1800 اور 2100 میگاہرٹز کیلئے اضافی سپیکٹرم کے ایک میگا ہرٹز پیئر کی پاکستان کیلئے ابتدائی قیمت بالترتیب 29 ملین ڈالر اور 31 ملین ڈالر رکھی گئی ہے جبکہ آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کیلئے ایک میگاہرٹز پیئر کی ابتدائی قیمت 8 لاکھ 70 ہزار ڈالر رکھی گئی ہے۔ اس سے قومی خزانے کو اربوں روپے آمدنی متوقع ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھیے:

کابینہ نے ملک کی پہلی سائبر سیکیورٹی پالیسی کی منظوری دیدی

ملکی تاریخ میں پہلی بار آئی ٹی برآمدات 2  ارب ڈالر سے تجاوز کر گئیں

وزیر برائے آئی ٹی کا کہنا تھا کہ وفاقی کابینہ سے منظوری کے بعد ستمبر 2021ء کے آخر تک نیلامی کا عمل ہر صورت مکمل کیا جائے گا، اس ضمن میں نیلامی کی تیاریوں اور دیگر امور کو حتمی شکل دینے کیلئے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کو ضروری ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔

یاد رہے سپیکٹرم وہ ریڈیو فریکوینسی ہوتی ہے جو موبائل اور کمیونیکشن کمپنیوں کو حکومت کی جانب سے الاٹ کی جاتی ہے جس کے ذریعے موبائل اور انٹرنیٹ سروسز صارفین تک پہنچائی جاتی ہیں جبکہ اضافی سپیکٹرم کا مطلب اس کی طاقت اور قوت میں اضافہ کرکے موجودہ اور نئے صارفین کو بہتر سگنل و اعلیٰ سروسز کی فراہمی ممکن بنانا ہے۔

سید امین الحق نے مزید کہا کہ وزارت آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن کا ہدف وزیراعظم کے ڈیجیٹل پاکستان ویژن کی تکمیل ہے جس کیلئے بنیادی ضرورت ملک کے طول و عرض میں معیاری موبائل اور براڈ بینڈ سروسز کی فراہمی ہے، اس مد میں 32 ارب روپے کے نیٹ ورکنگ پراجیکٹس زیر تکمیل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آن لائن سرگرمیوں میں اضافے کیلئے ایک جانب آئی ٹی کے حوالے سے انقلابی اقدامات کیئے جا رہے ہیں تو دوسری جانب شہریوں اور قومی اداروں کے آن لائن ڈیٹا اور اہم معلومات کو محفوظ رکھنے کیلئے نیشنل سائبر سیکیورٹی پالیسی تیار کی گئی ہے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ صدر اور وزیر اعظم کا وزارت آئی ٹی و ٹیلی کام پر مکمل اعتماد ہے کیونکہ یہی وہ واحد سیکٹر ہے جو ملک کی معیشت کے استحکام اور لاکھوں کی تعداد میں باعزت روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، صرف ایک برس کے عرصے میں آئی ٹی برآمدات میں 47 فیصد اضافے کے ساتھ 2 ارب 12 کروڑ ڈالرز سے زائد کی برآمدات اس کی ایک مثال ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here