کورونا ریلیف فنڈ کے غیر استعمال شدہ 352 ارب روپے سے ویکسین خریدنے کا فیصلہ

اقتصادی رابطہ کمیٹی نے سٹریٹجک ٹریڈ پالیسی فریم ورک برائے سال 2020-25ء کے مجوزہ مسودہ کا جائزہ لینے اور تمام متعلقہ فریقوں سے مشاورت کے بعد اسے آئندہ اجلاس تک کیلئے ملتوی کر دیا

167

اسلام آباد: کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے کورونا وبا کے معاشی اثرات سے نمٹنے کیلئے حکومت کے امدادی پیکج کے غیر استعمال شدہ 352 ارب روپے کے فنڈز کووڈ سے متعلقہ اخراجات بشمول ویکسین کی خریداری کیلئے مختص کرنے کی منظوری دے دی۔

اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس وزیر خزانہ شوکت ترین کی زیرصدارت منعقد ہوا، اجلاس میں وزارت تجارت کی جانب سے سٹریٹجک ٹریڈ پالیسی فریم ورک (ایس ٹی پی ایف) سال 2020-25ء کے بارے میں سمری پیش کی گئی۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ اس کا مقصد پالیسی اقدامات کے ذریعہ برآمدی مسابقت میں اضافہ کرنا ہے، مجوزہ سٹریٹجک ٹریڈ پالیسی فریم ورک میں نگرانی اور نفاذ کا طریقہ کار بھی شامل کیا گیا ہے، پالیسی کا مقصد مشترکہ اور جامع اقدامات کے ذریعہ برآمدات میں اضافہ کو قومی ترجیح قرار دینا ہے۔

وزیر خزانہ نے ہدایت کی کہ مجوزہ پالیسی میں مارکیٹ کی بنیاد پر ایکسچینج ریٹ سے متعلق عوامل کا بھی احاطہ کیا جائے۔ انہوں نے براہ راست بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ اور برآمدی صنعت کو مضبوط بنانے کیلئے اقدامات شامل کرنے کی بھی ہدایت کی۔

تفصیلی بحث و مباحثہ کے بعد ای سی سی نے سٹریٹجک ٹریڈ پالیسی فریم ورک (ایس ٹی پی ایف) سال 2020-25ء کے مجوزہ مسودہ کا جائزہ لینے اور تمام متعلقہ فریقوں سے مشاورت کے بعد ای سی سی کے آئندہ اجلاس تک کیلئے ملتوی کر دیا۔

اجلاس میں وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی جانب سے مالی سال 2022ء میں کپاس کی فصل کیلئے امدادی قیمت سے متعلق سمری پیش کی گئی۔

ای سی سی نے گزشتہ اجلاس میں وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی چئیرمین شپ میں ایک کمیٹی قائم کی تھی جسے کاٹن کی پیداوار میں اضافہ اور ملکی مارکیٹ میں کاٹن کی قیمت میں استحکام کیلئے سفارشات اور تجاویز مرتب کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔

اجلاس میں کمیٹی کی طرف سے مرتب کردہ سفارشات اور تجاویز کا جائزہ لیا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ وزارت خزانہ، وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق اور تمام متعلقہ شراکت داروں سے مشاورت کا ایک اور دور منعقد کیا جائے گا جس کی روشنی میں تجاویز اور سفارشات کو حتمی شکل دے کر اُسے سمری کی صورت میں وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

اجلاس میں وزارت خزانہ کی جانب سے مالی سال 2021-22ء کیلئے 1240 ارب روپے سے زائد کے اقتصادی معاونتی پیکج کے خرچ نہ ہونے والے 352 ارب روپ کے استعمال سے متعلق سمری پیش کی گئی۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ مارچ 2020ء میں حکومت نے کورونا وائرس کی وبا کے معاشی اور سماجی اثرات کو کم کرنے اور معاشرے کے کمزور طبقات کی مدد کیلئے اس پیکج کا اعلان کیا تھا، یہ فنڈز وبا کے پورے عرصہ کیلئے مختص کیے گئے ہیں اور اس میں مالی سال کی کوئی قید نہیں۔

اقتصادی رابطہ کمیٹی نے 352 ارب روپے کے فنڈز جاری مالی سال میں کووڈ سے متعلقہ اخراجات بشمول ویکسین کی خریداری کیلئے مختص کرنے کی منظوری دے دی۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ وفاقی حکومت نے رواں سال دسمبر تک 8 کروڑ 50 لاکھ شہریوں کو ویکسین کی فراہمی کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔

اجلاس میں وفاقی وزراء فخر امام، محمد میاں سومرو، مشیران ڈاکٹر عشرت حسین، عبدالرزاق دائود، معاون خصوصی محصولات ڈاکٹر وقار مسعود، وفاقی سیکرٹریز، چئیرمین ایف بی آر اور دیگر اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔ گورنرسٹیٹ بینک ویڈیو لنک کے ذریعہ اجلاس میں شریک ہوئے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here