کاروں کی فروخت میں 62 فیصد، کار فنانسنگ میں 41 فیصد اضافہ

جولائی 2020ء سے مئی 2021ء تک بینکوں کی جانب سے آٹو فنانسنگ کی مد میں 279 ارب روپے کے قرضے فراہم کیے گئے جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 86.5 ارب روپے زیادہ ہیں، 60 فیصد قرضے اسلامی بینکوں نے جاری کیے

229

اسلام آباد: کورونا وباء کے باعث درپیش رکاوٹوں کے باوجود پاکستان کے آٹو سیکٹر میں تیزی دیکھنے میں آئی ہے اور گزشتہ مالی سال کے 11 ماہ کے دوران کاروں کی فروخت میں 62 فیصد اضافہ ہوا جبکہ اس دوران بینکوں کی جانب سے کار فنانسنگ (کار خریدنے کیلئے قرض) 41 فیصد بڑھی ہے۔

سٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ مالی سال میں جولائی 2020ء سے لے کر مئی 2021ء کے دوران کار فنانسنگ کی مد میں قرضوں کا اجراء 279.5 ارب روپے تک بڑھ گیا جبکہ مالی سال 2019-20ء کے اختتام پر قرضوں کی فراہمی کا حجم 211.11 ارب روپے رہا تھا۔

اس طرح مالی سال 2019-20ء کے مقابلہ میں گزشتہ مالی سال 2020-21ء کے 11 ماہ کے دوران کاروں کی خریداری کے لئے بینکوں کی جانب سے قرضوں کی فراہمی میں 86.5 ارب روپے یعنی 41 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق کاروں کی خریداری کے لئے اسلامک بینکوں کی طرف سے بھی قرضوں کی فراہمی میں نمایاں اضافہ ہوا اور مجموعی قرضہ جات میں اسلامی بینکاری کے شعبہ کے فراہم کردہ قرضوں کی شرح 60 فیصد تک بڑھی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: 

حکومت کا گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی کا اعلان، قیمتیں کتنی کم ہوں گی؟

پاکستان میں کاریں بنانے والی تین بڑی کمپنیوں نے 8 سالوں میں کتنا ٹیکس دیا؟

واضح رہے کہ مالی سال 2020-21ء کے 11 ماہ (جولائی تا مئی) کے دوران ملک میں کاروں کی فروخت میں 62 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، پاکستان آٹوموٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پاما) کے مطابق جولائی 2020ء سے مئی 2021ء تک ایک لاکھ 67 ہزار 647 یونٹس کاریں فروخت ہوئیں جبکہ جولائی 2019ء سے مئی 2020ء کے دوران ایک لاکھ 3 ہزار 209 کاریں فروخت ہوئیں تھیں۔

پاما کے مطابق مئی 2021ء کے دوران کاروں کی فروخت میں 247 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور کاروں کی فروخت 15 ہزار 696 یونٹس تک پہنچ گئی جبکہ مئی 2020ء میں 4 ہزار 527 یونٹس فروخت کئے گئے تھے۔ اس طرح مئی 2020ء کے مقابلہ میں مئی 2021ء کے دوران کاروں کی فروخت میں 11 ہزار 169 یونٹس یعنی 247 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

کاروں کی فروخت میں اضافہ اور کار فنانسنگ کی بڑھتی ہوئی شرح کے حوالے سے عارف حبیب لمیٹڈ کے شعبہ ریسرچ کے سربراہ طاہر عباس کا کہنا ہے کہ کووڈ۔19 سے متاثرہ معاشی سرگرمیوں کی بحالی کے لئے مرکزی بینک کی جانب سے شرح سود میں کمی کے فیصلہ سے مقامی معیشت میں نمایاں بہتری ہوئی ہے جس کی وجہ سے قرضوں کے اجراء میں اضافہ ہوا ہے۔

طاہر عباس نے مزید کہا کہ حکومت کے اقدامات کے نتیجہ میں زرعی معیشت کی ترقی سے کار فنانسنگ کی شرح میں مزید اضافہ متوقع ہے۔

کاروں پر ٹیکس میں کمی

وفاقی حکومت نے ہائبرڈ اور الیکٹرک وہیکلز کے لئے ٹیکس میں کمی سمیت ملک میں تیار ہونے والی چھوٹی گاڑیوں پر سیلز ٹیکس ختم کر دیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ مقامی تیار کردہ ایک ہزار سی سی گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی اور ایڈیشنل کسٹم ڈیوٹی ختم کر دی گئی ہے جس سے ان گاڑیوں کی قیمت میں ایک لاکھ 42 ہزار روپے تک کمی ہو گی، کلٹس اور دیگر گاڑیوں کی قیمتوں میں ایک لاکھ 86 ہزار جبکہ سٹی، ٹویوٹا، یارس اور دیگر گاڑیوں کی قیمتیں بھی کم ہوں گی۔

حکومت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ  پہلی مرتبہ گاڑی خریدنے والوں کے لئے آسانیاں پیدا کر رہے ہیں۔ گاڑیوں کی اپ فرنٹ پے منٹس کو 20 فیصد کر دیا ہے جبکہ چھوٹی گاڑیوں کی قیمتوں میں بھی کمی کر دی ہے، لیزنگ کے طریقہ کار کو بھی آسان بنایا جا رہا ہے تاکہ لوگ آسان ماہانہ قسط پر اپنی گاڑی حاصل کر سکیں۔

پاکستان آٹو موٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پاما) کے چیئرمین علی اصغر جمالی نے حکومت کی آٹو اور ہائبرڈ الیکٹرک وہیکلز (ای وی) پالیسی کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ وہ حکومت کی آٹو پالیسی کی بھرپور حمایت کرتے ہیں، اس سے مقامی صنعت کو فروغ ملے گا اور پاکستان کے نوجوان طبقہ کے لئے روزگار کے وسیع مواقع پیدا ہوں گے۔

 

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here