بینکوں کو 25 ہزار سے زائد رقم کی منتقلی پر فیس وصول کرنے کی اجازت

مارچ 2020ء میں سٹیٹ بینک نے ٹرانزیکشن کے حجم سے قطع نظر انٹر بینک فنڈز ٹرانسفر کی سہولت بلامعاوضہ فراہم کرنے کی ہدایت کی تھی تاہم اب 25 ہزار سے زائد رقم ڈیجیٹلی منتقل کرنے پر 0.1 فیصد یا 200 روپے چارج کیے جائیں گے

709

کراچی: سٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے بینکوں کو 25 ہزار روپے سے زائد رقم کی منتقلی پر صارف سے فیس وصول کرنے کی اجازت دے دی۔

اب کوئی بھی صارف ایک بینک سے دوسرے بینک میں ماہانہ 25 ہزار روپے بغیر کسی فیس ادائیگی کے ڈیجیٹل طور پر منتقل کر سکے گا تاہم اگر رقم 25 ہزار سے زیادہ ہوئی تو صارف سے فی ڈیجیٹل ٹرانزیکشن 0.1 فیصد یا 200 روپے بطور سروس فیس چارج کیے جائیں گے۔

سٹیٹ بینک کے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ کووڈ-19 کی وباء اور لاک ڈائون کی غیرمعمولی صورت حال کے باعث بینکوں اور مالیاتی اداروں کو مارچ 2020ء میں ہدایت کی تھی کہ وہ ٹرانزیکشن کے حجم سے قطع نظر صارفین کو ایک سے دوسرے بینک میں رقوم کی منتقلی (آئی بی ایف ٹی) کی سہولت بلا معاوضہ فراہم کریں

سٹیٹ بینک کے اس اقدام کا مقصد اُن غیر معمولی اور مشکل حالات میں بینکوں کے صارفین کو آن لائن خدمات کے ذریعے اپنی بینکاری ضروریات پوری کرنے میں سہولت دینا اور کووڈ-19 کا پھیلائو روکنے کے لیے سماجی رابطوں سے گریز کو ممکن بنانا تھا۔

یہ بھی پڑھیے:

انٹرنیٹ بینکنگ سے ایک کھرب 29 ارب، موبائل بینکنگ سے ایک کھرب 11 ارب کا کاروبار

نان کیش بینکنگ ٹرانزیکشنز پر وِد ہولڈنگ ٹیکس 21 فیصد اضافے سے 7 ارب روپے ریکارڈ

اس اقدام پر صارفین نے بھرپور ردعمل دیا اور رواں مالی سال 2020-21ء کی دوسری سہ ماہی میں گزشتہ برس کے مقابلے میں انٹرنیٹ اور موبائل بینکنگ میں دُگنا سے بھی زیادہ اضافہ ہو گیا۔

واضح رہے کہ کورونا وباء اور لاک ڈائون کی وجہ سے رواں مالی سال میں انٹرنیٹ بینکنگ کے ذریعہ رقوم کی منتقلی میں 76 فیصد اور موبائل فون کے ذریعے لین دین کے حجم میں 192 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

سٹیٹ بینک کی ’پے منٹس سسٹمز ریویو رپورٹ‘ کے مطابق مالی سال 2020-21ء کی دوسی سہ ماہی (اکتوبر تا دسمبر) میں انٹرنیٹ بینکنگ ٹرانزیکشنز کی تعداد دو کروڑ 21 لاکھ تک پہنچ گئی جن کی مدد سے ایک کھرب 29 ارب 31 کروڑ روپے روپے کا لین دین کیا گیا جبکہ گزشتہ مالی سال 2019-20ء کی دوسری سہ ماہی میں انٹرنیٹ بینکنگ کی ایک کروڑ 33 لاکھ ٹرانزیکشنز کے ذریعے 736 ارب روپے کا لین دین کیا گیا تھا۔

سٹیٹ بینک کے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ بینکوں نے اپنی آپریشنل لاگت وصول کیے بغیر اور آمدنی میں خاصے نقصانات برداشت کر کے عوام کو رقوم کی ڈیجیٹل منتقلی سے بلامعاوضہ استفادے کی اجازت دی جس پر بینکوں اور مالیاتی اداروں کا یہ اقدام قابل  تعریف ہے۔

اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ اب ملک میں کووڈ-19 کی صورت حال خاصی بہتر ہو چکی ہے اور نئے کیسز کی تعداد میں اتار چڑھائو کے بعد اب مجموعی حالات ایس او پیز پر مناسب عمل کرتے ہوئے نقل و حرکت پر پابندیاں نرم کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔

اس پس منظر میں سٹیٹ بینک نے انٹر بینک  فنڈز ٹرانسفر (آئی بی ایف ٹی) کے نرخوں کے تعین کے حالیہ طریقہ کار پر نظرثانی کرتے ہوئے اس میں کچھ تبدیلیاں کی ہیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ بینک اور دیگر مالیاتی ادارے پائیدار بنیادوں پر آئی بی ایف ٹی کی خدمات بلا معاوضہ فراہم کریں۔

نئی ہدایات میں بینکوں اور مالیاتی خدمات کے دیگر فراہم کنندگان کو آبادی کے کم آمدن والے طبقات کے ڈیجیٹل لین دین کو بلا معاوضہ جاری رکھنے کی ترغیب اور تحفظ فراہم کرتے ہوئے ان سے بلند مالیت کی ٹرانزیکشن پرمعمولی فیس لینے کی اجازت دی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

سٹیٹ بینک نے ذہنی معذور افراد کا بینک اکاﺅنٹ کھولنے کی اجازت دے دی

غیرملکی سرمایہ کاروں کی ترسیلات زر سے متعلق سٹیٹ بینک کے اقدامات کی تعریف

سٹیٹ بینک کی ای کامرس ایکسپورٹرز کیلئے ریگولیٹری فریم ورک میں تبدیلیوں کی تجویز

سٹیٹ بینک نے بینکوں کو یہ ہدایت کی ہے کہ وہ انفرادی صارفین کو ماہانہ کم از کم 25 ہزار روپے فی اکائونٹ/ والٹ ڈیجیٹل طریقے سے رقوم منتقل کرنے کی سہولت مفت فراہم کریں تاہم بینک رقم کی مجموعی حد کو بڑھا بھی سکتے ہیں۔

اس طرح انفرادی صارفین کو اپنی ماہانہ حدود میں رہتے ہوئے زیادہ سے زیادہ مرتبہ رقوم کی منتقلی کا موقع ملے گا۔ 25 ہزار روپے فی اکاونٹ کی ماہانہ حد عبور ہونے کے بعد بینک اپنے صارفین سے ہر ٹرانزیکشن پر اس کی 0.1 فیصد رقم یا 200 روپے، جو بھی کم ہو، چارج کر سکتے ہیں۔

تاہم نئی ہدایات میں بینکوں کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے کہ وہ ملک میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کو فروغ دینے کی غرض سے اپنے صارفین کو ڈیجیٹل طور پر رقوم کی بلامعاوضہ منتقلی کی خدمات فراہم کریں۔

سٹیٹ بینک نے بینکوں کو یہ ہدایت بھی کی ہے کہ ایک ہی بینک کے مختلف اکائونٹس میں رقوم کی ڈیجیٹل منتقلی بدستور مفت رہے گی۔ مزید یہ کہ دوسرے بینکوں سے موصولہ رقوم پر بھی کوئی چارجز لاگو نہیں ہوں گے۔

علاوہ ازیں، سٹیٹ بینک نے بینکوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے صارفین کو دوسرے بینکوں میں رقوم کی مفت منتقلی کی حد اور چارج شدہ فیس کے بارے میں باقاعدہ ایس ایم ایس، اپیلی کیشن پر نوٹی فکیشن اور ای میل بھیج کر مطلع کریں۔

ہر ڈیجیٹل ٹرانزیکشن کے بعد بینک اپنے صارفین کے رجسٹرڈ موبائل نمبرز پر انہیں مفت ایس ایم ایس بھیجنے کے پابند ہوں گے جس میں انہیں ٹرانزیکشن کی رقم اور وصول شدہ چارجز کے بارے میں آگاہ کیا گیا ہو۔

سٹیٹ بینک نے عوام کو بلاتعطل ڈیجیٹل خدمات کی فراہمی یقینی بنانے کی خاطر بینکوں کو مزید ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے صارفین کے اکائونٹ/ والٹ سے رقوم منتقل کرنے کی ٹرانزیکشز کی تعداد کی حد ختم کر دیں تاوقتیکہ انسداد منی لانڈرنگ (اے ایم ایل/سی ایف ٹی) یا دھوکہ دہی کے حقیقی خدشات موجود نہ ہوں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here