بھارت بدترین کساد بازاری کا شکار، 23 کروڑ شہری خط غربت سے نیچے لڑھک گئے

بھارت کا ویکسی نیشن پروگرام انتہائی سست روی کا شکار، کورونا کی مزید لہریں معاشی ترقی پر منفی اثرات مرتب کریں گی، برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز کی سروے رپورٹ

198

نئی دہلی: کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز اور لاک ڈاﺅن کی بدولت بھارتی معیشت مسلسل تنزلی کا شکار ہے جس کے باعث آئندہ برسوں میں بے روزگاری کی شرح میں مزید اضافے کے خطرات پیدا ہو گئے ہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے سروے کے مطابق کورونا وائرس کے خاتمے کے لیے بھارت کی جانب سے عائد کردہ تازہ ترین پابندیوں کی وجہ سے اقتصادی سرگرمیاں معطل ہو کر رہ گئی ہیں جس کے باعث لاکھوں افراد بے روزگار ہو چکے ہیں جبکہ اقتصادی ماہرین نے اپریل کے بعد دوسری مرتبہ بھارتی معیشت کی تنزلی کا شکار ہونے کی پیشگوئی کی ہے۔

رائٹرز کی جانب سے رواں سال 20 مئی سے 27 مئی تک کئے جانے والے سروے کے مطابق رواں سہ ماہی میں معاشی اعشاریے انتہائی کم رہے جو کہ 21.6 فیصد سالانہ اور رواں مالی سال کیلئے 9.8 فیصد اوسط اور ایک ماہ قبل کے مقابلے میں 23.0 فیصد اور 10.4 فیصد کم ریکارڈ کئے گئے ہیں۔

سروے میں شامل تمام 29 اقتصادی ماہرین نے مختلف سوالات کے جوابات میں رواں سال بھارتی معاشی شرح نمو مزید کم رہنے کے بارے میں خبردار کیا ہے۔ کسی بھی ماہر نے بھارتی معیشت کی بحالی کے بارے میں کوئی پیشگوئی نہیں کی۔

یہ بھی پڑھیے:

بھارت، بلیک فنگس انفیکشن کورونا سے صحتیاب ہونے والوں کو اپاہج بنانے لگا

بھارت میں آکسیجن کی طلب میں اضافہ، آٹوموبائل کمپنیوں کو کارخانے بند کرنا پڑ گئے

ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ویکسین کی تیاری میں تاخیر سے معیشت کو ایک بڑے دھچکے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور پچھلے سال کی کساد بازاری کے بعد رواں سال اوسط شرح نمو 6.8 فیصد تک ہو سکتی ہے۔

کیپیٹل اکنامکس میں ایشیا کے سینئر ترین ماہر معاشیات گریتھ لیدر نے کہا ہے کہ کورونا کی مزید لہریں بھارتی معاشی شرح نمو پر منفی اثرات مرتب کریں گی کیونکہ بھارت کا ویکسی نیشن پروگرام انتہائی سست روی کا شکار ہے۔

سنٹر فار مانیٹرنگ انڈین اکنامی کے مطابق 23 مئی کو ختم ہونے والے ہفتہ کے اختتام پر بھارت میں ایک سال کے سب سے زیادہ بے روزگاری کی شرح 14.73 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے جس سے معاشی تنزلی کی واضع عکاسی ہوتی ہے۔

اس سوال کے جواب میں کہ آئندہ برسوں میں بھارت میں بے روزگاری کی شرح 85 فیصد تک پہنچ سکتی ہے؟ ماہرین معاشیات نے اسے بے روزگاری کی بلند ترین شرح قرار دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق سال 2021ء میں مودی حکومت کی طرف سے کورونا وائرس وبا کے خاتمہ کیلئے لگائے گئے لاک ڈاﺅن کے اثرات سے نمٹنے کے لئے اقدامات نہ کرنے کی وجہ سے بھارتی معیشت سکڑنا شروع ہو گئی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کی معاشی ترقی میں 2020-21ء میں 7.3 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے جو آزادی کے بعد سب سے بڑی کساد بازاری ہے کیونکہ وبا کے باعث لاکھوں افراد بے روزگار ہو چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال شروع ہونے والی کورونا وبا کے باعث تقریباََ 230 ملین بھارتی شہری خط غربت سے نیچے جا چکے ہیں، دوسری لہر کے دوران بھارت میں صرف اپریل میں 7.3 ملین افراد بے روزگار ہوئے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here