بھارت میں آکسیجن کی طلب میں اضافہ، آٹوموبائل کمپنیوں کو کارخانے بند کرنا پڑ گئے

179

ٹوکیو: بھارت میں کورونا وائرس کی وجہ سے میڈیکل آکسیجن کی طلب میں اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے کار ساز سوزوکی نے بھارت میں اپنے پلانٹ مزید ایک ہفتہ بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ صنعتی استعمال کیلئے آکسیجن ناکافی پیدا ہو رہی ہے۔

جاپانی موٹر ساز کمپنی سوزوکی کے بھارت میں تین پلانٹس کام کرتے ہیں جنہیں ابتدائی طور پر یکم مئی سے گزشتہ اتوار تک کے لیے بند کیا گیا تھا تاہم ان کارخانوں کی بندش میں اب 16 مئی تک توسیع کی جا رہی ہے۔

سوزوکی موٹرز کے مطابق مقامی پرزہ جات فراہم کرنے والوں کو ویلڈنگ وغیرہ کی ضروریات کیلئے صنعتی آکسیجن کے حصول میں اب بھی دشواریوں کا سامنا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: بھارت، بلیک فنگس انفیکشن کورونا سے صحتیاب ہونے والوں کو اپاہج بنانے لگا

اس سے قبل ایم جی موٹرز، ہونڈائی اور یاماہا نے بھی بھارت میں اپنے کارخانوں میں پیداواری عمل عارضی طور پر معطل کر دیا تھا کیونکہ ہسپتالوں میں آکسیجن کی شدید ترین قلت کے باعث آکسیجن کی طلب میں عام حالات کی نسبت 70 فیصد اضافہ ہو گیا تھا۔

دوسری جانب منگل کو بھارتی ریاست آندھرا پردیش کے شہر تروپتی کے سرکاری ریووا ہسپتال کے انتہائی نگہداشت یونٹ (آئی سی یو) میں آکسیجن کی فراہمی معطل ہونے سے کووڈ۔19 کے کم سے کم 11 مریض ہلاک ہو گئے۔

ڈسٹرکٹ کلکٹر چھتور ایم ہری نارائنن نے میڈیا کو بتایا ہے کہ سوموار کی شب آکسیجن سلنڈرز کو دوبارہ لوڈ کرنے کے دوران آکسیجن کی فراہمی میں پانچ منٹ کے وقفہ کے سبب 11 مریضوں کی موت واقع ہو گئی۔

ادھر انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر جے اے جیالل نے بھارتی وزارت صحت کو لکھے گئے ایک خط میں اسے خواب غفلت سے جاگنے اور کورونا وائرس کی وبا کے باعث پیدا ہونے والی مشکلات سے نمٹنے کا کہا ہے۔

ڈاکٹر جے اے جیالل نے کہا کہ انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن کے 126 ڈاکٹر مہلک وبا کی دوسری لہر کے دوران اپنی زندگی کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ پہلی لہر کے دوران 736 ڈاکٹر ہلاک ہوئے تھے۔

انہوں نے ایک انٹرویو کے دوران بھارتی حکومت کو 15 دن کیلئے ملک بھر میں لاک ڈاﺅن کی تجویز دی تھی تاہم مودی حکومت نے اس پر کوئی عمل نہیں کیا۔ انہوں نے حکومت کو عمر کی حد کے بغیر تمام شہریوں کو ویکسین لگانے کی تجویز بھی دی تھی۔

واضح رہے کہ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران بھارت میں کورونا وائرس کی دوسری لہر نے تباہی مچا دی تھی جس میں اب بتدریج کمی واقع ہو رہی ہے۔ اس دوران ہسپتالوں میں آکسیجن کی شدید ترین قلت کا سامنا تھا جس کے باعث اب تک کئی سو افراد کی موت ہو چکی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here