بھارت، بلیک فنگس انفیکشن کورونا سے صحتیاب ہونے والوں کو اپاہج بنانے لگا

188

نئی دلی: بھارت میں جہاں ایک طرف کورونا وائرس کی تباہ کن دوسری لہر جاری ہے، وہیں بلیک فنگس کے نام سے مشہور میوکور مائیکوسز ڈاکٹروں اور وبا سے صحت یاب ہونے والے افراد میں تیزی سے پھیل رہی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ ایک نایاب مگر خطرناک فنگل انفیکشن ہے جو ناک، آنکھوں یا کبھی کبھی دماغ پر اثر انداز ہو کر کورونا سے صحت یاب ہونے والے افراد کو اپاہج بنا رہا ہے۔

ممبئی سے تعلق رکھنے والے آنکھوں کے سرجن ڈاکٹر اکشے نائر کے مطابق میوکور مائیکوسز ایک انتہائی نایاب قسم کا انفیکشن ہے جو مٹی، پودوں، کھاد، اور گلے سڑے پھلوں اور سبزیوں میں پائی جانے والی پھپوندی سے پھیلتا ہے۔ یہ ناک کی نالیوں، دماغ اور پھیپھڑوں پر اثر انداز ہوتا ہے اور ذیابیطس کے مریضوں یا کمزور مدافعتی نظام کے حامل افراد کیلئے مہلک ثابت ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: 

بھارت میں کورونا کی تباہ کاریاں، امریکا کا 10 کروڑ ڈالر کا طبی سامان بھیجنے کا اعلان

بھارت میں آکسیجن کی طلب میں اضافہ، آٹوموبائل کمپنیوں کو کارخانے بند کرنا پڑ گئے

بھارت میں ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ بلیک فنگس کے کیسز میں تیزی اس لیے آ رہی ہے کیونکہ کورونا کے مریضوں کے علاج کیلئے سٹیرائیڈز کا بہت زیادہ استعمال کیا جا رہا ہے جس کے باعث ان کا مدافعتی نظام کمزور ہونے لگتا ہے اور قوتِ مدافعت میں یہ کمی میوکور مائیکوسز کے بڑھتے کیسز کی وجہ ہے، میوکورمائیکوسز انفیکشن میں مبتلا تقریباََ 50 فیصد افراد ہلاک ہو جاتے ہیں۔

دسمبر سے فروری 2021ء کے دوران ڈاکٹر نائر اور ان کے چھ ساتھیوں نے پانچ مختلف شہروں ممبئی، بنگلورو، حیدرآباد، دلی اور پونے میں اس انفیکشن کے 58 کیسز رپورٹ کیے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر نے کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے کے 12 سے 15 دن میں یہ انفیکشن رپورٹ کیا ہے۔ گذشتہ دو ماہ میں ممبئی کے انتہائی مصروف سائیون ہسپتال میں 24 کیسز سامنے آئے ہیں۔

اُدھر ہیومن رائٹس واچ ساﺅتھ ایشیا کی ڈائریکٹر میناکشی گنگولی نے ایک میڈیا انٹرویو میں کہا ہے کہ بھارت میں کورونا وائر س سے متاثرہ افراد کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ ہو رہا ہے جبکہ ادویات، آکسیجن اور ویکسین کی شدید قلت کا سامنا ہے۔

وبا کی حالیہ صورت حال کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ تباہ کن ہے۔ لوگ کوویڈ 19 سے مر رہے ہیں کیونکہ انہیں علاج معالجے، ادویات اور آکسیجن کی سہولت دستیاب نہیں ہے۔

ہیومن رائٹس واچ کی عہدیدار کا کہنا تھا کہ سہولیات کی عدم دستیابی کی صورتحال لوگوں کی موت کے بعد بھی جاری رہتی ہے کیونکہ لوگوں کو اپنے مردے جلانے یا ان کی تدفین کیلئے بھی گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔

مینا کشی گنگولی نے کہا کہ اگرچہ بھارت کے پاس دنیا بھر کے تجربات سے استفادہ کرنے کا سال بھر کا وقت تھا تاہم مودی کی سربراہی میں بھارتی حکومت ایسا کرنے میں پوری طرح ناکام رہی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here